کراچی بدامنی کیس: پولیس کی رپورٹ پر عدالت کا اظہار عدم اطمینان، سماعت کل تک ملتوی

کراچی بدامنی کیس: پولیس کی رپورٹ پر عدالت کا اظہار عدم اطمینان، سماعت کل تک ...
کراچی بدامنی کیس: پولیس کی رپورٹ پر عدالت کا اظہار عدم اطمینان، سماعت کل تک ملتوی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 20 ماہ بعد کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی جس کے دوران پولیس اور رینجرز کی جانب سے اپنی اپنی رپورٹس عدالت کے روبرو پیش کی گئیں۔ عدالت نے پولیس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے آئی جی سندھ کی سرزنش کی اور کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی بدامنی کیس کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کی ، بینچ میں جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس خلجی عارف شامل ہیں۔ دوران سماعت پولیس کی جانب سے شہر قائد میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے عدالت کے روبرو رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ 24 جولائی 2014 سے اب تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 69 فیصد جبکہ قتل کے واقعات میں 68 فیصد کمی ہوئی ہے۔بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں 58 فیصدجبکہ سٹریٹ کرائم میں 20 فیصدکمی ہوئی۔ کراچی میں بھتہ خوری کے جرائم میں 60 فیصد کمی ہوئی جبکہ اغوا برائے تاوان کے واقعات پر 100فیصد قابو پایا گیا ہے۔

عدالت نے آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور آئی جی سندھ کی سرزنش کی ۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ رپورٹ 2015 کی ہے جب رینجرز متحرک تھی آپ کی رپورٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی میں مکمل امن ہے اور آپریشن کی ضرورت نہیں ہے ۔47 افراد کی لسٹ ہے لیکن آپ کہتے ہیں کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ختم ہوگئی ہیں ، آپ کی پولیس ہی اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہی ہے ۔ اغوا برائے تاوان ختم مگر شارٹ ٹرم کڈ نیپنگ بڑھ گئی ہے ۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کتنے ملزمان پکڑے گئے؟ اور کتنے ملزمان کا چالان کیا گیا؟ پیرول پر رہا ہونے والوں کا کیا ہوا؟ جب 4 ہزار اشتہاری ملزمان شہر میں دندناتے پھریں گے تو امن و امان کی صورتحال کیسے درست ہوگی۔

کیس کی سماعت کے دوران رینجرز نے بھی اپنی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی ،رینجرز کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ رینجرز کے اختیارات کو عارضی طور پر کم کیا گیا لیکن اس کا برا اثر پڑا پولیس اور حکومت سندھ رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن میں رکاوٹ ہیں ڈاکٹر عاصم کیس کا حکومت نے پراسیکیوٹر تعینات نہیں کیا جبکہ 9 پراسیکیوٹرز کا معاملہ ابھی بھی زیر التوا ہے۔ 6 ہزار ملزمان کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا لیکن پولیس کو غیر سیاسی نہیں کیا جارہا 5 سال میں رینجرز کے 2 ڈی جی تبدیل ہوئے لیکن پولیس میں بہت جلد تقررو تبادلے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مقدمات پر اثر پڑتا ہے۔

رینجرز کی رپورٹ پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رینجرز نے تو پولیس کے خلاف پوری چارج شیٹ ہی پیش کردی۔روز روز پولیس افسران کے تبادلوں سے مقدمات پر اثر پڑتا ہے ایک ایک افسر کو چار چار پوسٹیں دی ہوئی کسی بھی پوسٹنگ پر کیوں نہ آئی جی کیخلاف کارروائی کی جائے پولیس کو سیاست سے پاک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے دوبارہ رپورٹ طلب کرلی۔

مزید : قومی /اہم خبریں