کپڑوں میں رہنے کے باوجود جسم کے مخصوص حصوں کی جلد کی رنگت کے زیادہ گہرے ہونے کی حیران کن وجہ ماہرین سامنے لے آئے

کپڑوں میں رہنے کے باوجود جسم کے مخصوص حصوں کی جلد کی رنگت کے زیادہ گہرے ہونے ...
کپڑوں میں رہنے کے باوجود جسم کے مخصوص حصوں کی جلد کی رنگت کے زیادہ گہرے ہونے کی حیران کن وجہ ماہرین سامنے لے آئے

  

لندن (نیوز ڈیسک) ہمارے ذہن میں کبھی نہ کبھی یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہمارے کچھ اعضاءکی رنگت جلد کی عمومی رنگت کی نسبت قدرے گہری کیوں ہوتی ہے۔ ہماری جلد کی عمومی رنگت جیسی بھی ہو لیکن جسم کے کچھ حصوں ، خصوصاً پوشیدہ اعضاءکی رنگت نسبتاً گہری ہوتی ہے۔ اس دلچسپ فرق کے بارے میں کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کی ماہر جلد ڈاکٹر لنڈسے بورڈون کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ بلوغت اور ہارمونز ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

” میل آن لائن“ کے مطابق ڈاکٹر لنڈسے کا کہنا تھا بلوغت کا دور شروع ہوتاہے تو جسم میں ایسٹروجن اور ٹیسٹاسٹیرون ہارمونز کی افزائش شروع ہو جاتی ہے۔ ان ہارمونز کی وجہ سے جسم میں میلانین نامی امینو ایسڈ پیدا ہوتا ہے جو ثانوی جنسی افزائش کے دوران جلد کی رنگت پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔ میلا نین کی وجہ سے ہی تولیدی نظام کے ساتھ منسلک اعضاءکی رنگت قدرے گہری ہو جاتی ہے، البتہ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس گہری رنگت کی انسانی جسم کیلئے کیا افادیت ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر لنڈسے کا کہنا تھا کہ مخصوص اعضاءکی رنگت قدرے گہرا ہونا قدرتی بات ہے، البتہ اگر رنگت میں کوئی غیر متوقع یا نمایاں تبدیلی واقع ہونے لگے تو یہ فکر کی بات ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھاتی یا مخصوص اعضاءکے اردگرد رنگت جامنی یا گلابی مائل نظر آنے لگے تو فوری طور پر ماہرجلد سے رابطہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ زیابیطس یا بعض اوقات کینسر جیسے امراض کی علامت بھی ہو سکتی ہے ۔

مزید : تعلیم و صحت