وہ عرب ملک جہاں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر نہیں، وجہ بھی انتہائی دردناک

وہ عرب ملک جہاں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر ...
وہ عرب ملک جہاں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر نہیں، وجہ بھی انتہائی دردناک

  

دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اس وقت قطر میں ہزاروں غیرملکی مزدور تعمیراتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان مزدوروں کی خوراک کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے اور اکثرمزدور خالی پیٹ مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ دوحہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹرز ان مزدوروں کو کھانے کی بجائے کھانا الاﺅنس دے رہے ہیں۔ الاﺅنس کی رقم اس قدر کم ہے کہ مزدور اس سے پیٹ بھر کر کھانا حاصل نہیں کر پارہے اور بھوکے رہ کر کام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق قطر میں غیرملکی افرادی قوت کے معاملات پر نظر رکھنے والے ایک ماہراور انسانی حقوق کے کارکن رجائی رے جوریدینی(Rajai Ray Jureidini) کا کہنا ہے کہ ”اگر ان مزدوروں کو الاﺅنس کی بجائے کھانا فراہم کیا جائے تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے، اس وقت مزدوروں کو فی کس 200ریال(تقریباً5ہزار 750روپے) سے 300ریال (تقریباً 8ہزار 627روپے) ماہانہ کھانا الاﺅنس دیا جا رہا ہے، جو قطر میں مہنگائی کی شرح کے لحاظ سے انتہائی کم ہے۔“

مزید جانئے: وہ غیر مسلم ملک جس کے حجاج کرام امسال گزشتہ برس کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زائد تعداد میں حج کی سعادت حاصل کریں گے ، سعودی حکومت کی جانب سے جلدبڑا اعلان متوقع

رجائی رے کا مزید کہنا تھا کہ ”غیرملکی مزدوروں پر اپنے گھررقم بھیجنے کا پریشر بھی ہوتا ہے اس لیے ان کے پاس کھانے کی رقم نہیں بچتی اور وہ فاقوں پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان مزدوروں سے طویل کام لیا جاتا ہے اس لیے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا ہے کہ وہ خود کھانا بنا سکیں۔ ان کے پاس سونے اور لوگوں سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا، کھانا کیسے بنا سکتے ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق فاقوں کا شکار ہونے والے ورکرز میں کم آمدنی والے مزدور زیادہ شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کو کئی مخیر کاروباری لوگ مفت کھانا بھی دے رہے ہیں۔ان میں بھارتی شہری شاداب خان بھی شامل ہے جو ”ذائقہ ریسٹورنٹ“ کا مالک ہے۔ شاداب خان کا کہنا تھا کہ ایک روز اس کے پاس ایک غیرملکی مزدور آیا اور کہا کہ میرے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں، اس دن سے میں نے ایسے مزدوروں کو مفت کھانادینے کا فیصلہ کیا۔ ایسے مزدور شرم کی وجہ سے کسی سے کھانا نہیں مانگتے اور بھوکے پیٹ ہی کام کرتے رہتے ہیں۔“

مزید : عرب دنیا