عرب ملک میں غیر ملکی مسلمانوں کو بھی ’نچلی ذات‘ کے شہری بنادیا گیا، تعصب سے بھرپور ایسا فیصلہ جس کا کسی غیر مسلم ملک میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا

عرب ملک میں غیر ملکی مسلمانوں کو بھی ’نچلی ذات‘ کے شہری بنادیا گیا، تعصب سے ...
عرب ملک میں غیر ملکی مسلمانوں کو بھی ’نچلی ذات‘ کے شہری بنادیا گیا، تعصب سے بھرپور ایسا فیصلہ جس کا کسی غیر مسلم ملک میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا

  

کویت سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے اپنے ملک میں مقیم غیرملکیوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کرتے ہوئے ان کے لیے صبح کے اوقات میں ہسپتالوں کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کویتی حکومت نے یہ ایسا اقدام اٹھایا ہے کہ جس کا غیر مسلم ممالک میں بھی کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔کویتی محکمہ صحت کے عہدیدار ڈاکٹر افرح الصراف کا کہنا ہے کہ اب تارکین وطن صرف شام کے اوقات میں او پی ڈیز میں علاج کروا سکیں گے کیونکہ صبح کے اوقات صرف کویتی باشندوں کے لیے مخصوص کر دیئے گئے ہیں۔ کویتی باشندے شام کے اوقات میں بھی اوپی ڈی آ سکتے ہیں۔ ابتداءمیں اس فیصلے کا اطلاق صرف ”رودا پولی کلینک “ پر ہو گا۔ یہاں یہ طریقہ کارکامیاب رہا تو اسے ملک کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی نافذ کر دیا جائے گا۔ “ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق کویت میں ہسپتال کی اوپی ڈیز کے اوقات کار مقامی باشندوں اور تارکین وطن کے لیے الگ الگ کرنے کی تجویز 2013ءسے زیرغور تھی۔

مزید جانئے: بنگلہ دیش میں ’اسلام‘ کی بطور سرکاری مذہب حیثیت ختم کیے جانے کا خدشہ

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب کویت کے شہر زہرا(Jahra) کے ایک ہسپتال نے صبح کے اوقات میں تارکین وطن کا علاج کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان اوقات میں صرف کویتی باشندوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرے گا۔ اس ہسپتال نے صبح کے وقت غیرملکیوں کی اپنی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن ایمرجنسی تارکین وطن کے لیے کھلی رکھی گئی تھی۔اس کے بعد قانون سازوں نے وزارت صحت پر دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ کویتی باشندوں کو سہولت دینے کے لیے نیا نظام لاگو کرے۔ ان کا موقف تھا کہ غیرملکیوں کی زیادہ تعداد کے باعث مقامی باشندوں کو ڈاکٹر تک رسائی حاصل کرنے میں دقت ہوتی ہے اور انہیں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت کویت کی کل آبادی 33لاکھ ہے جس میں 2تہائی (22لاکھ) افراد غیرملکی ہیں۔غیرملکیوں کی تعداد مقامی باشندوں سے دو گنا زیادہ ہونے کی وجہ سے مقامی باشندوں کو بسااوقات مختلف معاملات میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید : عرب دنیا