’یہ ہمارے لڑنے کا انداز نہیں‘ عرب ملک میں دہشتگردی کا ایسا واقعہ کہ القاعدہ نے بھی فوری اس سے لاتعلقی کا اعلان کردیا

’یہ ہمارے لڑنے کا انداز نہیں‘ عرب ملک میں دہشتگردی کا ایسا واقعہ کہ القاعدہ ...
’یہ ہمارے لڑنے کا انداز نہیں‘ عرب ملک میں دہشتگردی کا ایسا واقعہ کہ القاعدہ نے بھی فوری اس سے لاتعلقی کا اعلان کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

صنعاء(مانیٹرنگ ڈیسک) دہشتگردی کا کوئی واقعہ پیش آ جائے تو شدت پسند تنظیمیں اس کی ذمہ داری جلد سے جلد قبول کرنے کے لئے بے تاب نظر آتی ہیں، لیکن یمن میں جمعہ کے روز ہونے ایک واقعے کے بعد پہلی دفعہ یہ منظر دیکھنے کو ملا کہ کوئی شدت پسند تنظیم خود کو اس حملے سے لاتعلق ثابت کرنے کے لئے فکر مند نظر آئی۔

جمعہ کے روز عدن شہر میں معمر افراد کے ایک سینٹر پر حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا اور ہاں موجود 16افراد کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر انہیں سر میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں چار عیسائی راہبائیں بھی شامل تھیں، جن میں سے دو کا تعلق افریقی ملک روانڈا، ایک کا بھارت اور ایک کا کینیا سے تھا۔ مغربی میڈیا میں اس حملے کو القاعدہ کی کارروائی قرار دیا جا رہا تھا، اور کیتھولک عیسائیت کے عالمی رہنما پوپ فرانسس کی طرف سے اس کی شدید مذمت بھی کی گئی۔

دوسری جانب یمن میں سرگرم تنظیم الانصار الشریعہ ، جو کہ اس ملک میں القاعدہ شدت پسندوں کا سرپرست گروپ سمجھا جاتا ہے، کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اس حملے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ”ہمارے عدن کے قابل احترام لوگو، ہم انصارالشریعہ، معمر افراد کے مرکز پر ہونے والے آپریشن سے کسی بھی تعلق کی تردید کرتے ہیں۔ یہ ہمارا آپریشن نہیں، اور نہ ہی یہ ہمارا لڑنے کا انداز ہے۔“

مزید جانئے: کینیڈین حکومت نے ملک میں رہنے والوں کیلئے ایسا اعلان کردیا کہ پوری دنیا کے لوگوں کا دل کرے کینیڈا جاکر رہنے لگیں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان اس سے قبل القاعدہ یا دیگر شدت پسند تنظیموں کی طرف سے جاری کئے جانے والے بیانات سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، کیونکہ عموماً اس طرح کے کسی بھی حملے کے بعد ذمہ داری قبول کرنے کے بیانات تو سامنے آتے ہیں لیکن کبھی حملے سے لاتعلقی کا بیان سامنے نہیں آیا۔ انصارالشریعہ کے بیان میں صحافیوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ اس حملے کو القاعدہ سے منسوب نہ کریں۔

مزید : عرب دنیا