فیصلوں پر عمل درآمد کروائیں گے،چیف سیکرٹری سمیت کسی کی نوکری جاتی ہے جائے،پروا نہیں،جسٹس خالد محمود

فیصلوں پر عمل درآمد کروائیں گے،چیف سیکرٹری سمیت کسی کی نوکری جاتی ہے ...
فیصلوں پر عمل درآمد کروائیں گے،چیف سیکرٹری سمیت کسی کی نوکری جاتی ہے جائے،پروا نہیں،جسٹس خالد محمود

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے عدالتی حکم کے باوجود پیڈا کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے بارے میں فیصلہ نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتی فیصلے کو ہوا میں نہیں اڑانے دیا جائے گا،عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسروں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا، عدالتی حکم نہ ماننے پر سزا کے بعد چیف سیکرٹری سمیت کسی بھی افسر کی نوکری جاتی ہے یا رہتی ہے عدالت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے،درخواست گزاروں کے وکلائنے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود محکمہ آبپاشی کے ملازمین کو مستقل کرنے کی بجائے انہیں نوکریوں سے نکال دیا گیاجس پر عدالت نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی بجائے کس قانون کے تحت عدالتی فیصلے کو رد کیا گیاہے۔عدالت کی حکم عدولی پر سزا کا قانون موجود ہے جس کے بعد چیف سیکرٹری یا متعلقہ سیکرٹری کی نوکری جاتی ہے تو جائے عدالت کو اس کی کوئی پروا نہیں۔عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے والے ذمہ دار افسروں کو15 سے 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گاتوانہیں سمجھ آجائے گی۔فاضل جج نے حکم جاری کیا کہ عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے کہ ملازمین کو نوکریوں پر واپس رکھا جا رہاہے یا نہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت گیارہ مارچ تک ملتوی کرتے ہو ئے محکمہ آبپاشی سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر تحریری وضاحت بھی طلب کر لی ہے۔

(2)

مزید : لاہور