اورنج ٹرین منصوبہ کیس،برطانیہ میں تاریخی عمارتوں کی اینٹ کو بھی ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ہے،ہائی کورٹ کے ریمارکس

اورنج ٹرین منصوبہ کیس،برطانیہ میں تاریخی عمارتوں کی اینٹ کو بھی ہاتھ نہیں ...
اورنج ٹرین منصوبہ کیس،برطانیہ میں تاریخی عمارتوں کی اینٹ کو بھی ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ہے،ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے 11تاریخی عمارتوں کے قریب اورنج ٹرین منصوبے پر عمل درآمد روکنے سے متعلق عدالتی عبوری حکم امتناعی خارج کرانے کے لئے دائروفاقی حکومت کی درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان کوآج 8مارچ کواپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے حکم امتناعی کے خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لئے قائم دو رکنی لوکل کمیشن کو بھی جلد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اورنج ٹرین منصوبے کے خلاف سول سوسائٹی اورمنصوبے کے حق میں وفاقی حکومت کی درخواستوں پر سماعت کی۔سول سوسائٹی اورمقامی شہری منیر احمدکی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دو متفرق درخواستوں کے ذریعے استدعا کی کہ اورنج ٹرین منصوبے کی وجوہات اور تمام دستاویزات ریکارڈ پر لانے کا حکم دیا جائے جس پر عدالت نے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت، ایل ڈی اے اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،11تاریخی عمارتوں کے اردگرد 200فٹ تک اورنج لائن ٹرین منصوبے پر عمل درآمد روکنے کے بارے میں عدالتی حکم امتناعی کے خاتمے کے لئے دائر وفاق کی درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے موقف اختیار کیا کہ حکم امتناعی کی وجہ سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق عدلیہ کو پالیسی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں، اگر کسی منصوبے میں کرپشن یا بدنیتی ہوتو صرف اس معاملہ کاعدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے، اورنج ٹرین منصوبہ مفاد عامہ کا منصوبہ ہے، دنیا بھر میں مفاد عامہ کو ثقافتی عمارتوں پر ترجیح دی جاتی ہے جس پر جسٹس شاہدکریم نے ریمارکس دیئے کہ یہ درست نہیں، برطانیہ میں تو تاریخی عمارتوں کی ایک اینٹ کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دیا جاتا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو آج 8مارچ تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی، عدالت نے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لئے قائم سابق سیکرٹری ہائیکورٹ بار بیرسٹر احمد قیوم اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار اسد منظور بٹ پر مشتمل لوکل کمیشن کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی رپورٹ جلد از جلد مکمل کر کے عدالت میں پیش کریں،لوکل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 9 مارچ کو تمام متعلقہ اداروں کے افسروں کے ہمراہ 11تاریخی عمارتوں کا سروے کیا جائے گا۔

مزید : لاہور