پاکستان جیت گیا ، دشمن ہار گیا ۔۔۔!

پاکستان جیت گیا ، دشمن ہار گیا ۔۔۔!
 پاکستان جیت گیا ، دشمن ہار گیا ۔۔۔!

  

پی ایس ایل کے جوش و خروش سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ کرکٹ کا جنون ہماری قوم کے خون میں موجود ہے اس کی ایک خاص وجہ ہے تمام بڑی کمپنیوں کی دلچسپی اس کھیل میں ہے اس کی وجہ سے میڈیا کا انٹرسٹ بھی کرکٹ میں بڑھتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جس دن پاکستانی ٹیم کا کسی دوسری ٹیم کے ساتھ میچ ہو لوگ دفتروں سے چھٹی کر لیتے ہیں پورے کا پورا خاندان بیٹھ کر میچ انجوائے کرتا ہے ، کرکٹ پر میڈیا اور اشتہاری کمپنیوں کی بہت زیادہ توجہ ہونے کی وجہ سے ہمارا قومی کھیل ہاکی اور دیگر کھیل فٹ بال اور کبڈی وغیرہ آخری سسکیاں لے رہے ہیں، حکومت ان کی سرپرستی کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اگر محدود وسائل کے ساتھ ہی پاکستان ہاکی ٹیم کسی بڑے میچ یا ٹورنامنٹ کو جیت کر بھی آ جائے تو ہاکی کے کھلاڑیوں سے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ تو دور کی بات کوئی وزیر بھی ملاقات نہیں کرتا ، نہ ہی کرکٹ کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں کی سرپرستی کی جاتی ہے جہاں تک پی ایس ایل کے دبئی میں ہونے والے میچوں اور پھر قذافی سٹیڈیم لاہور میں منعقد ہونے والے فائنل کا تعلق ہے تو اس میچ کے بارے میں عمران خان سے لیکر بہت سے دانشوروں ، تجزیہ نگاروں اور ٹی وی اینکرز کا خیال تھا کہ حکومت کو موجودہ حالات میں ایسے ایونٹ کا رسک نہیں لینا چاہئے، عمران خان نے پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد کو پاگل پن قرار دیا، شیخ رشید کا بھی پہلے موقف عمران خان کے ساتھ ملتا جلتا تھا مگر شیخ رشید عقلمند سیاسی ورکر ہے اس نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا اور دہشتگردوں کیخلاف یکجہتی اور ریاست پاکستان کے تحفظ کے نام پر مسیج دینے کیلئے پہنچ گیا اور وہاں پر اس نے کسی بھی قسم کی اختلافی سیاسی گفتگو کرنے کی بجائے حالات کی نزاکت کو سمجھا اور اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیا جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے ہمیشہ کی طرح اپنے بیان پر آخری وقت تک قائم رہ کر نہ صرف شائقین کرکٹ کو مایوس کیا بلکہ لاہوریوں کو بھی عمران خان کا بیان پسند نہیں آیا اور رہی سہی کسر پی ٹی آئی کے ورکروں نے گو نواز گو کے نعرے لگا کر نکال دی۔ پی ٹی آئی کے ورکروں کی اس حرکت کو مجموعی طور پر مین سٹریم میڈیا نے لفٹ تک نہ کروائی بلکہ سوشل میڈیا میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت اور نواز لیگ مجموعی طور پر اس ایونٹ کو اپنے حق میں کیش کروانے میں کامیاب رہی حالانکہ اپوزیشن کی طرف سے بھرپور پروپیگنڈہ کیا گیا کہ (ن) لیگ نے ہزاروں کی تعداد میں ٹکٹیں اپنے ورکرز کو دے دی ہیں جو نواز شریف کی تصاویر اور مسلم لیگ کے جھنڈے لیکر سٹیڈیم میں آئیں گے ایک طرح سے قدافی سٹیڈیم میں کرکٹ میچ نہیں یہ سرکاری خرچ پر نواز لیگ کا پاور شو ہو گا مگر عملاً یہ باتیں پروپیگنڈہ ثابت ہوئیں البتہ پنجاب حکومت کے مختلف اداروں اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جتنے اچھے انداز میں ایونٹ کا انتظام کیا اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں چند روز قبل تک میرا ذاتی موقف یہ تھا کہ نجم سیٹھی اور چند دیگر بزنس مینوں نے کمال مہارت کے ساتھ ایک پرائیویٹ کمرشل ایونٹ کو ریاست کا ایونٹ بنا دیا ہے جس کو تمام میڈیا سمیت ریاستی اداروں نے دل کھول کر نہ صرف سپورٹ کیا بلکہ ریاست نے اس ایونٹ کی پوری طرح سے ذمہ داری لے لی۔ چیف آف آرمی سٹاف سے لیکر وزیر اعظم تک اس ایونٹ کے پیچھے کھڑے ہو گئے میں نے اس حوالے سے بارہا کہا کہ ایسے ایونٹ ضرور ہونے چاہئیں مگر یہ ایک کمرشل ایونٹ ہے اگر اس کی سکیورٹی وغیرہ کیلئے پولیس ، رینجرز اور فوج وغیرہ کے ادارے خدمات سرانجام دے رہے ہیں تو ان اداروں کے تمام اخراجات پی سی بی یا ایونٹ کے آرگنائزر کو ادا کرنے چاہئیں کیونکہ اس ایونٹ سے ریاست پاکستان کو مالی طور پر فائدہ نہیں ہو رہا ، جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ اس ایونٹ نے آہستہ آہستہ ایک قومی ایونٹ کا رخ اختیار کر لیا ہے اور اس ایونٹ کو اس رخ پر لانے کیلئے میڈیا اور ریاستی اداروں کا بلاشبہ کلیدی رول ہے یہ پی ایس ایل فائنل کا ایونٹ اب صرف کرکٹ میچ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی آواز بن گیا ہے جس کے ذریعے قوم پاکستان کے دشمنوں، امن کے دشمنوں، ہمارے کھیلوں خاص کر کرکٹ کے دشمنوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تم کچھ بھی کر لو ہم ہی جیتیں گے ہمارے کھیل جاری رہیں گے ہمارے میدان سرسبز اور آباد رہیں گے، پاکستان آگے بڑھے گا پاکستان جیتے گا اور تم ہارو گے

یہ بازی عشق کی بازی ہے

یہ بازی تم ہی ہارو گے

یہ میچ دہشتگردی کے پے در پے حملوں سے مایوس اور ڈپریس قوم کو اٹھانے کا ایک موقع اور بہانہ ثابت ہوا۔ اس ایونٹ میں جس طرح اوورسیز پاکستانیز سمیت ہماری سوسائٹی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے انتہائی پرجوش انداز میں شرکت کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پوری قوم اس میچ کے ذریعے ملک دشمنوں اور امن دشمنوں سے نفرت کا اظہار کرنا چاہتی ہے اور جس طرح لوگ دیوانہ وار گھروں سے نکلے اس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کیلئے کس قدر ترسے ہوئے ہیں ، پورے پروگرام کا جو تھیم تھا کہ کوئی بھی جیتے کوئی بھی ہارے مگرے جیتے گا پاکستان ہی لاجواب اور باکمال تھا پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں چھوٹے صوبے ہیں پنجاب بڑا بھائی ہے اس ایونٹ میں پنجاب نے واقعی اس ایونٹ کی میزبانی کر کے بڑا بھائی ہونے کا ثبوت دیا ہے اس میچ کو دیکھنے کیلئے بلوچستان ، کوئٹہ ، پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں سے آنے والوں کیلئے پنجاب نے اور اہل لاہور نے ایک لازوال محبت کا ثبوت دیا جس کے کرکٹ سے ہٹ کر بھی اثرات سامنے آئیں گے۔ جہاں تک ریحام خان کے میچ میں آنے اور وکٹری کا نشان بنا کر تصویریں سوشل میڈیا پر جاری کرنے کا تعلق ہے تو یہ پیغام جن کیلئے تھا وہ سمجھ گئے ہیں ، پی ایس ایل کے کمال کا اندازہ لگائیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی ایونٹ کی مخالفت چھوڑ کر زلمی پشاور کی شرٹ پہن کر تصویر اتروانے پر مجبور ہو گئے جس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ عوام کی خواہش کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا سیاستدان ہی عقلمند کہلاتا ہے جو حالات کی الٹی سمت میں چلتا ہے وہ سیاست نہیں کر سکتا اگر اس ایونٹ کے انعقاد کیلئے فول پروف سکیورٹی کیلئے سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس ، ایس ایس پی ایڈمن ایاز سلیم ، سی ٹی او لاہور رائے اعجاز ، ڈی آئی جی آپریشن حیدر اشرف کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہوگی اور خاص کر آئی جی پنجاب جنہوں نے بڑی جرأت اور حوصلے کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کیا تھا۔ آئی جی پنجاب کی حکمت عملی اور سی سی پی اور لاہور کی بروقت اور درست پلاننگ کے نتیجہ میں عوام کو نہ صرف ایک خوبصورت ایونٹ انجوائے کرنے کا موقع ملا ہے بلکہ لاہور پولیس نے ملک کی لاج رکھ لی ہے ، ایس ایس پی ایڈمن ایاز سلیم کی گزشتہ کئی ہفتوں میں شبانہ روز محنت سے لیکر میچ کے اختتام پر اعلیٰ افسران اور ماتحتوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے سیلفی تک سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں کہ انہوں نے کتنے دن اور کتنی راتیں قدافی سٹیڈیم کے اندر اور دائیں بائیں گزاری ہیں اور کیپٹن امین وینس نے قدافی سٹیڈیم کے اردگرد اور پورے لاہور میں کومبنگ آپریشن کی براہ راست کس طرح نگرانی کی ہے اس کامیاب ایونٹ کی روح یہ ہے کہ اس سے کون جیتا کون ہارا یہ ہمارے گھر کی بات ہے اصل بات تو یہ ہے کہ اس سے میرا پیارا پاکستان جیت گیا اور پاکستان کا دشمن ہار گیا اور آ ئندہ بھی پاکستان جیتے گا آگے بڑھے گا دشمن ہمیشہ ہارے گا نامراد رہے گا۔

مزید :

کالم -