ہاں! مَیں سہولت کار ہوں

ہاں! مَیں سہولت کار ہوں
 ہاں! مَیں سہولت کار ہوں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پچھلی چند دہائیوں میں جہاں ہم نے اور بہت کچھ کھویا ہے، وہاں ہم عام بول چال میں استعمال ہونے والے بعض لفظوں کی مثبت معنویت سے بھی محروم ہوئے ہیں۔ اچھے بھلے لفظ، جو کبھی اپنی معنویت کے باعث، وجہِ افتخار ہوا کرتے تھے، اب نہ صرف بے معنی اور بے کار ہو گئے ہیں، بلکہ خوف ناک بھی ہو گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک لفظ سہولت کار بھی ہے۔ سہولت کار کا مطلب ہے دوسروں کو آسانی فراہم کرنے والا۔ ایک عام راہ گزر سے پتھر ہٹانے والا آدمی دراصل سہولت کار ہوتا ہے جو لوگوں کو ٹھوکر لگنے سے بچاتا ہے،لیکن پچھلے چند برسوں سے پے در پے ہونے والی دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں ملزموں اور مجرموں کی مدد کرنے والے لوگ سہولت کار کہلائے جانے لگے ہیں۔ اصل مجرم تو ظاہر ہے کہ وہی ہوتا ہے جو جرم کا ارتکاب کرتا ہے، لیکن ہمارے قانون کے مطابق جو ارتکابِ جرم میں اعانت یا مدد کرتا ہے، وہ بھی اتنا ہی مجرم ہوتا ہے اور اتنی ہی سزا کا مستحق ہوتا ہے، جتنی اصل مجرم کو ملتی ہے۔ خودکش حملوں میں چونکہ اصل مجرم آپ اپنی سزا تجویز کرتا ہے اور وہ کئی معصوم اور قیمتی جانیں لے کر خود بھی جہنم واصل ہو جاتا ہے، اس لئے ہمارا قانون اسے سزا دینے سے عاری رہتا ہے، چنانچہ لوگوں کے بھڑکے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ان ساتھیوں کو تلاش کیا جائے جو اسے جرم پر اکساتے ہیں۔ جرم پر اکسانے والے لوگوں کو ہمارے سرکاری اردو دانوں نے سہولت کاروں کا نام دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انہیں سزا سے ہرگز نہیں بچنا چاہیے، لیکن میں یہاں پھر وہی بات دہراؤں گا کہ ایک اچھے بھلے لفظ کو ہم نے دہشت گردی سے منسوب کرکے بدنام کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کو اعانتِ جرم میں مدد کرنے والوں کو ہم سہولت کار کے بجائے کوئی اور نام بھی تو دے سکتے ہیں۔۔۔ مثلاً شریکِ جرم کہا جا سکتا ہے۔ سہولت کار کا نام ان لوگوں کو دیا جانا چاہیے جو ملکی دفاعی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، جو مجرموں کی نشاندہی کرتے ہیں، جو مجرموں کی آماج گاہوں اور ٹھکانوں کی خبر لاتے ہیں۔

یہ بات مجھے مجبوراً دہرانا پڑ رہی ہے کہ برمحل بھی ہے اور ضروری بھی کہ چند روز قبل کور کمانڈر لاہور نے ایک محفل میں بہت اچھی بات کہی کہ سیکیورٹی فورسز کا کام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنا ہے اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد کا کام یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے نظریئے کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ بات درست بھی ہے، کیونکہ جب سیکیورٹی فورسز چند دہشت گردوں کو مارتی ہیں تو یہ دراصل چند اَجسام کی موت ہوتی ہے۔ اس عمل سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ دہشت گردی ایک نظریہ ہے، نظریہ دماغوں میں ہوتا ہے۔ جب تک ہم دہشت گردی کے نظریئے کو دماغوں سے نہیں نکالیں گے، تب تک دہشت گردی کی وارداتیں نہیں رُک سکتیں۔ اس پس منظر میں ضروری ہے کہ ہمارے لکھنے پڑھنے والے لوگ اپنی ذمہ داریاں پہچانیں۔ وہ اپنے دفاعی اداروں کے سہولت کار بنیں۔ جب ہم دہشت گردی کے نظریئے کے خلاف بات کرتے ہیں تو دراصل اپنے دفاعی اداروں کے سہولت کار کا کام کرتے ہیں۔ میں نے تو اپنی شاعری کے ذریعے سہولت کاری کا یہ عمل مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔ آپ غور کریں کہ آپ اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔ممکن ہے کہ آپ کے اس عمل سے سہولت کار کے منفی معنی ختم ہو جائیں اور مثبت معنی زندہ ہو جائیں۔ میں تو آج علانیہ لکھ رہا ہوں کہ میں تو اپنے سارے دفاعی اداروں کا سہولت کار ہوں، کیونکہ یہ ادارے ہماری بہت مشکل اور غیر محفوظ زندگی کو آسان اور محفوظ بنانے کے لئے ہر لمحہ اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔5مارچ کو آپ نے دیکھا کہ کس طرح ہمارے دفاعی اداروں نے حکومت کے لئے سہولت کار کا کام کیا۔ ایک بہت بڑا کرکٹ میچ امن و امان کے ساتھ کھیلا اور دیکھا گیا۔ شاید یہ عمران خان کے ورلڈکپ جیت کر لانے کے واقعہ سے بھی بڑا واقعہ ہے۔

مزید : کالم