’’ کالے قانون نے جب خون مانگا‘‘

’’ کالے قانون نے جب خون مانگا‘‘
’’ کالے قانون نے جب خون مانگا‘‘

  



یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال تھی ۔ پنجاب بھر میں ہر میڈیکل سٹور، ہر دواخانہ ، تمام فارما ، یونانی ، ہربل ، ہو میو اور نیوٹرا سیوٹیکل انڈسٹری ، ڈاکٹر کے کلینکس ، اطباء کے مطب ، چین فارمیسیزاور ہیلتھ شاپس سبھی کے شٹرز ڈاؤن تھے ۔ لاہور کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ہر ہر شہر ،قصبے اور گلی کوچے میں تمام شعبۂ ہائے علاج کی ادویات کی فراہمی تعطل کا شکار تھی اور دواسازی سے لے کر فروخت تک کے ہر ہر شعبے سے وابستہ سبھی افراد سڑکوں پر تھے۔ لاہور کا مظاہرہ تو فقید المثال تھا ہی ، دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے، حکومت کے خلاف دھواں دار تقاریر کیں ۔ حکومت کے جابرانہ اور ظالمانہ قانون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ دوا سازی و فروخت ادویہ سے وابستہ لاکھوں افراد نے حکم رانوں کو جھولی بھر بھر کر بددعائیں دیں اور ان سے چھٹکارے کے لئے التجائیں کیں۔ پاکستان کے باقی ماندہ تینوں صوبوں نے پنجاب میں اپنے بھائیوں پر ہونے والے ستم پر ان کا ساتھ دیا ، ان کی آواز میں اپنی آواز ملائی اور ان کی خاطر اپنے کاروبار کو بھی بند رکھا۔

وسیع پیمانے پر ہونے والا یہ احتجاج انتہائی منظم اور پرامن تھا ، لاہور کی شاہ راہ قا ئداعظم پر محتاط اندازے کے مطابق بیس پچیس ہزار افراد صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے دھرنا دیئے بیٹھے تھے کہ سورج ڈھلتے ہی دہشت گردی کا انتہائی خوف ناک اور قابلِ مذمت واقعہ رونما ہوگیا ۔ دو پولیس آفیسرز کے ساتھ ساتھ تقریباً چودہ شرکائے احتجاج اس کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ وہ جو اپنے روزگار کے تحفظ کا مطالبہ لئے سڑکوں پر نکل آئے تھے ، ان سے ان کا جیون ہی چھین لیا گیا ۔ انسانیت سے عاری دہشت گردوں نے ان کے جسموں کے پرخچے اڑا دیئے اور ان کے لہو سے سڑکیں تر بتر ہوگئیں۔

یہ اندوہ ناک واقعہ رونما نہ ہوتا اگر اس کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات ، سڑکوں پر نکلنے سے پہلے اٹھا لئے جاتے ۔ مذاکرات کی جو میز سولہ قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد سجائی گئی، اگر اس سانحے کے برپا ہونے سے پہلے اس کا اہتمام کر لیا جاتا اور عقل وشعور کو بروئے کار لا کر دلائل کی بنیاد پر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی مخلصانہ مساعی کی جاتیں تو اس المیے سے بآسانی بچا جاسکتا تھا ۔اس امر میں ذرہ برابر بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ڈرگ ایکٹ 1976ء میں ترامیم پر مبنی قانون انتہائی ظالمانہ اور جابرانہ کالا قانون تھا ، اس قسم کے کسی قانون کی کوئی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ اس لئے ہر قسم کی صنعت دوا سازی اور جملہ ادویہ کی فروخت سے وابستہ تنظیموں اور افراد کا یہ مطالبہ بڑا ہی معقول تھا کہ حکومت جو بھی قانون بنانا چاہتی ہے ، وہ تشکیلِ قانون کے مسلمہ اصولوں اور تقاضوں کے مطابق متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے مشورے سے بنائے۔ حکومتی کارپردازوں نے اس مبنی بر انصاف مطالبے پر کان دھرنے کی بجائے اسمبلی میں کسی بھی قانون کی منظوری کے لئے طے شدہ طریق کار سے یکسر انحراف کرتے ہوئے انتہائی عجلت میں اس کالے قانون کو منظور کرالیا جو بالآخر قیمتی جانوں کا لہو پی گیا۔

ہماری تاریخ کا یہ انتہائی سنگین المیہ ہے کہ ہمارے مقتدر ایوانوں میں کئے جانے والے اقدامات ، بنائی جانے والی پالیسیاں اور نافذ کئے جانے فیصلے اور قوانین بالعموم عدل وانصاف کے تقاضوں کے یکسر منافی ہوتے ہیں ۔ہمارے سیاسی حکم ران ہوں یا انتظامی ، انہوںِ نے معقولیت پر مبنی کسی مطالبے کو اس وقت تک ماننے سے انکار کیا ہے جب تک سڑکوں پر مظاہرہ کرکے امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہوجائے۔ حتیٰ کہ بڑے بڑے پرامن احتجاجی مظاہروں کو بھی خاطر میں نہ لانے کی ریت ہمارے گلے سڑے نظام میں بے حد پختہ ہوچکی ہے ۔ اختیار کے نشے میں چور انتظامی افسران ہوں یا اقتدار کے نشے میں مدہوش سیاسی حکم ران ، وہ عقل و دانش برمبنی موقف کو سننے تک سے گریزاں رہتے ہیں ۔ ماضی میں بھی یہی روش جاری وساری رہی اورآج بھی اسی کا ہی دور دورہ ہے ، إلا ماشاء اللہ ۔ یہ مزاج صرف حکومتوں اور بااختیار افراد میں ہی مستحکم نہیں ہوچکا ، یہ رفتہ رفتہ قوم کا مجموعی مزاج بنتا چلا جارہا ہے ۔

اس رویے کی اس سے زیادہ سنگین مثال کیا ہوگی کہ حکومت پنجاب کے بنائے اور پھر اسمبلی سے منظور کروائے گئے کالے قانون کے خلاف احتجاج کے پہلے روز جب دہشت گردی کا واقعہ قیمتی جانوں کو نگل جاتا ہے تو اس وقت تک گورنر پنجاب نے اسمبلی کے منظور کردہ قانون پر دستخط نہیں کئے تھے ، اور اس اعتبار سے اسے ابھی قانون کا درجہ حاصل نہیں ہوا تھا ، یہ ممکن تھا کہ پنجاب کے حکم ران حالات کے بد ترین نہج اختیار کرنے کے بعد گورنر کی جانب سے نظر ثانی کے لئے اس قانون کو واپس اسمبلی بھجوا دیتے اور پھر مشاورت سے ایک بہتر قانون تشکیل دے دیا جاتا ، لیکن یہ تبھی ہوتا اگر آپ کے اندر عدل وانصاف کا داعیہ موج زَن ہوتا ۔ المیہ در المیہ یہ وقوع پذیر ہوا کہ شاہ راہ قائداعظم پر بہنے والا لہو ابھی خشک نہیں ہوا تھا کہ گورنر نے اس قانون پر دستخط بھی ثبت فرمادیئے ۔جلتی پر تیل ڈالنے کی اس قدر خوف ناک مثال اور کہاں ملے گی ؟ شائد حکومت یہ سمجھتی ہوگی کہ اس قانون کا آخری مرحلہ طے کرکے وہ مذاکرات کی میز پر بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں ہوگی ۔ اے کاش! نہ ایسا ہوتا اور نہ ہی یہ جذبہ کارفرما ہوتا۔ بدقسمتی سے ایسا ہوا بھی اور اس جذبے کی کارفرمائی بھی دکھلائی دی جب ہمیں یہ جملہ سننے کو ملا کہ کبھی چور سے پوچھ کر بھی چوری کی سزا تجویز کی جاتی ہے ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ جملہ اس ماحول سے برآمد ہورہا ہے جہاں ہر سُو ’’صرف سادھوں‘‘ کی فوج ظفر موج کا ہی تسلط ہے ۔

’’سادھوں کی اس فوج‘‘ کی موجودگی میں کیا آپ کو اس امر کا ذرہ برابر بھی امکان نظر آتا ہے کہ انتہائی خوف ناک اور ظالمانہ قوانین نافذ کرکے آپ جعلی ادویہ کا خاتمہ کرپائیں گے ؟ یہ آپ کی معصوم خواہش تو ہوسکتی ہے ، اس کا دور دور تک زمینی حقائق سے کوئی ناطہ نہیں ہے۔ ڈرگ ایکٹ 1976ء میں جعلی ادویہ کے لئے کچھ کم سزائیں نہیں رکھی گئی تھیں ، لیکن کیا چالیس سال میں یہ سزائیں جعلی ادویہ کے بدترین جرم کا خاتمہ کرپائیں جعلی ادویہ تو ’’اُن‘‘ کے زیر سایہ بنتی رہیں اور ان کے حجم میں بھی اضافہ ہوتا رہا ۔ مزید سخت قوانین بھی اس کالے دھندے کو ختم نہیں کر پائیں گے ، اس کے لئے خدا خوفی ، خدا ترسی ، دیانت وا مانت اور عادلانہ رویوں کو فروغ دینا ہوگا ۔ یہ آپ نہ کرپائے تو فساد اور پھیلے گا، ادارے اور برباد ہوں گے اورسسکتی انسانیت کے مقدر میں مزید سسکنا ہی لکھا جاتا رہے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ