یہ نوکری شاہی کا پاکستان ہے

یہ نوکری شاہی کا پاکستان ہے
یہ نوکری شاہی کا پاکستان ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جی ہاں۔یہ نوکری شاہی کا پاکستان ہے۔ ہر حکمران اسکو خادم بنا کر قوم کی خدمت پر لگانا چاہتا ہے لیکن یہ مخلوق ایسی پکی اور ڈھیٹ ہے کہ حکمران کو بھی اپنا خادم بننے پر مجبور کردیتی ہے۔پاکستان میں آج تک کوئی بھی نوکری شاہی سے نہیں جیت سکا۔اس مخلوق نے سرکاری دفاتر کا جو حال بنارکھا ہے اَس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری ملازم اپنی مرضی سے دفتر آتے ہیں اور جس وقت دل چاہے چلے جاتے ہیں اور تو اور جب جی میں آجائے تو کئی کئی روز دفتر کی صورت نہیں دیکھتے اور پھر ایک دن تشریف لاکر پچھلے کئی دنوں کی اکٹھی حاضریاں لگ جاتی ہیں ۔ کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ نام نہاد ورکرز رہنماء اور یونین کے نمائندے ایسے ملازمین کو سپورٹ کرتے ہیں۔ وکیل اور انسانی حقوق کا کارکن ہونے کے ناطے اکثر مختلف دفاتر میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے اور ایسے تلخ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس کس کا ذکر کروں۔ ضلع کچہری لاہور میں اے ڈی سی کے ڈسپیچ کلرک کا رویہ اتنا عجیب اور ہتک آمیز ہوتا ہے کہ خدا پناہ۔ اگر سائل وہاں کوئی درخواست جمع کروانے جاتا ہے تو موصوف اُس سے اِس طرح سلوک فرماتے ہیں جیسے وہ کوئی نچلی ذات کا کوئی شودر اور دلت ہے اور جناب خود برہمن ہیں۔ اگرکوئی سائل اپنی جمع کروائی ہوئی درخواست کا پتہ کروانے چلا جاتا ہے تو اُس کو درخواست کا سٹیٹس بتانے کی بجائے سو طرح سے زچ کرتے اور واپس بھیج دیتے ہیں ۔ اِس ساری رام کہانی اور بدترین سلوک کے پیچھے صرف ایک ہی عنصر کارفرما ہوتا ہے کہ جناب جیب کو ہلکا کریں۔ ایسا سب کچھ میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں کہ ڈسپیچ پر بیٹھا ہوا کلرک کس طرح سائلین کو گدھ بن کر نوچ رہا ہے۔کسی بھی تھانے میں اگر ایف آئی آر درج کروانے کوئی سائل جاتا ہے تو اُس کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوتا ہے اِس سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ واقعی خادم اعلیٰ کی گڈ گورنس عروج پر ہے۔ سائل اپنی ایف آئی آر کو بھول کر اپنی جان بچا کر گھر واپس آجاتا ہے اورخون کے آنسو روتا ہے لیکن اسی پاکستان کے ایک صوبے میں کے پی کے میں اب پولیس ایسا نہیں کرتی ۔
اِس بات کی گواہی سیشن کورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواستیں زیر سماعت ہیں کس طرح لوگ عدالتوں کا دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور ہیں اور عدالتوں میں بیٹھے اہلکار جن میں ریڈر اہملد، سٹینو اور چپڑاسی اور تعمیل کنندگان اِس طرح تاک لگائے ہوتے ہیں کہ کوئی سائل بھی خرچہ دئیے بغیر نہ جائے۔ جو جج اپنے ماتحت چار پانچ لوگوں کو راہ راست پر نہیں رکھ سکتا اُس نے رعایا کو کیسے انصاف دلانا ہے۔ اُس نے عوام کی جان کا تحفظ چوروں ڈاکوؤں لٹیروں سے کیسے کروانا ہے۔سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے ہلکان ہی اِس لیے ہوا جاتا ہے کہ نہ تو کام کرنا پڑے اور اوپر سے حرام کی کمائی سے قبر کو بھاری کیا جاسکے۔اِسی طرح محکمہ صنعت پونچھ ہاوس میں سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت این جی اوز وغیرہ کو رجسٹرڈ کرنے والا دفتر ایسا ہے کہ وہاں کے اہل کار منہ سے پیسے مانگتے ہیں اور پیسے نہ دینے کی صورت میں برسوں ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ یہ ہی وہ دفتر ہے جو مساجد کی رجسٹریشن کرتا ہے اور وہ بھی رشوت لیکر ۔۔۔محکمہ تعلیم کا دفتر واقع ہال روڈ کا عملہ ہر کام کے لیے منہ مانگے دام لیتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سرکاری دفاتر اِن اہلکاروں کی فرنچائزڈ ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر گدھ کا روپ دھار کر مردار کھانے کے لیے اپنی دکان پر آتے ہیں۔ آپ خود دیکھ لیجئے کہ یہ دوکانیں نہیں تو کیا ہیں؟ پٹواریوں نے محلوں میں اپنے دفاتر اِس طرح کھول رکھے ہیں جیسے وہ سرکاری دفتر نہیں ہیں بلکہ اُن کے آباؤاجداد کی جانب سے ملنے والی وراثت ہے۔ رات گئے دفاتر کھول کر بیٹھے رہتے ہیں اور معمولی کاموں کا بھی لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں ۔کام جائز ہے یا ناجائز ،انھیں سروکار صرف اپنی قبر کو بھاری کرنے سے ہے۔پٹواریوں کے دفاتر اسسٹنت کمشنرکے دفاتر میں ہی ہونے چاہیں اور دفتری اوقات کے علاوہ اُنھیں علیحددہ سے پرائیویٹ دفتر کے طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
میں آپ کو کس کس سرکاری محکمے کا حال سناؤں۔ آوئے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے۔ ہسپتالوں سکولوں کی حالتِ زار بھی دیکھ لیجئے ۔ کون ہے جو سرکاری ناخداؤں کو ان کا اصلی کام بتا سکے۔خادم اعلٰی تو سارا نظام اپنی مٹھی میں بند کرکے سب اچھا سننے کے عادی ہیں۔جب ملک کا حاکم ہی بے پرواہ ہوگا تو نوکرشاہی کیسے پرواہ کرے گی۔آؤ کوئی دعا کریں شاید رب القدیر خود کو نہ بدلنے والی قوم کو بدلنے پر راضی ہوجائے۔یہی ایک راستہ ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -