شام کی سرزمین پر امت مسلمہ کا بہتا لہو

شام کی سرزمین پر امت مسلمہ کا بہتا لہو
شام کی سرزمین پر امت مسلمہ کا بہتا لہو

  

دنیا بھر میں جہاں جہاں بیرونی قوتیں مصروف کار ہیں،وہاں آگ وخون،افرا تفری اور تباہی نظر آتی ہے۔بے حسی کا یہ عالم ہے کہ آج بڑی بڑی عالمی طاقتوں سمیت درجنوں ممالک شام کی تباہی و بربادی پر متفق نظر آتے ہیں۔

شام کے مسئلے کی بنیادی وجہ دہائیوں سے مسلط ظالم قیادت اور بیرونی طاقتوں کی شام میں مداخلت ہے۔مسلسل بمباری نے سینکڑوں معصوم بچوں، عورتوں اور مردوں کو راکھ کر دیا ہے۔

شام کی سرزمین پر بکھری لاشیں اور بہتا لہو امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں 30 روزہ جنگ بندی کی قرارداد منظور کی ہے، مگر اس کے باوجود شامی فضائیہ کی بمباری مسلسل نویں روز بھی جاری ہے۔

۔شامی حکومت کو سلامتی کونسل کی قرارداد کی قطعی پرواہ نہیں۔عالم اسلام بھی معصوم نہتے شامی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

شام جل رہا ہے،ہر روز سینکڑوں انسان اور بچے فضائی بمباری سے مر رہے ہیں، لیکن عالمی ضمیر اور امتِ مسلمہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔

اقوام متحدہ اور او آئی سی ایک مردہ اور غیر فعال تنظیم بن چکی ہے، جوایک مذمتی بیان بھی نہیں دے سکتی۔تشویشناک بات یہ ہے کہ وہ عالمی طاقتیں جو شام میں خانہ جنگی کو بڑھاوا دے رہی ہیں،انہوں نے انسانی بنیادوں پر مدد کی متعدد اپیلوں کو نظر انداز کیا ہے۔ عالمی قوتوں کی سفارتکاری سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ شام میں ابھی خون ریزی جاری رہے گی۔

اب تک ہزاروں بے گناہ عوام اورمعصوم بچے جنگ کی نذر ہو چکے ہیں اور 57 مسلمان ممالک اور او آئی سی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شام کے تنازع کا پُر امن حل ممکن ہے، لیکن اس کے لئے عالمی برادری اور امت مسلمہ کو لا تعلقی اور بے حسی کا رویہ ترک کرنا ہو گا۔مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے میں امریکہ صہیونی طاقتوں کے ساتھ مل کر کردار نبھا رہا ہے۔

شام میں جاری قتل و غارت کو دیکھ کر ایک ذی حس انسان کا کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے، شیر خوار بچوں کی لاشیں دیکھ کر انسانیت کانپ اٹھتی ہے،یہ سب کچھ مسلمانوں کے درمیان پائی جارہی نااتفاقی اور اتحاد کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اختلافات دور کرکے ایک پلیٹ فارم پر آکر امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کاسامنا کرنے کے لئے متحد ہو جائیں اور شام میں قتل و غارت گری فوری طور پر بند کرانے میں اپنا کردار نبھائیں۔ افسوس کی بات ہے کہ امت مسلمہ شام میں ہونے والے مظالم پر بے حسی کا شکار ہے، جس کا نقصان اسلام اور مسلمانوں کو ہوگا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایسی مثال فلسطین اور کشمیر میں بھی نہیں ملتی جو شام میں دہرائی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ،او آئی سی اور خلیج تعاون کونسل کو شام کے عوام کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مگر عالمی ادارے مسلمانوں کے خون سے غداری کی روایت پر قائم رہے ہیں، کبھی ان کے لئے کیا کچھ نہیں،شام میں مسلمانوں کے قتل عام پرپاکستانی میڈیاکی مجرمانہ خاموشی اور بھارتی اداکارہ کے مرنے پرگھنٹوں کے ٹاک شوز اور بریکنگ نیوزبے ضمیری وبے حمیتی کی انتہا ہے، ایسا لگتا ہے اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کے میڈیاکاضمیرمردہ ہو چکا ہے، اب بھی اگر عالمی برادری نے خاموشی نہ توڑی تو شام کی تباہی کے اثرات پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

مسلم حکمرانوں اور انسانی حقوق کے دعویداربے حسی کی تصویربنے ہیں۔شام کے مصیبت زدہ علاقے مشرقی الغوطہ میں اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں نے قیامت برپا کر کررکھی ہے۔

مشرقی الغوطہ میں وحشیانہ بمباری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دلخراش واقعات نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پانچ سال سے محصور الغوطہ کے عوام اور بچوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ’’مَیں زندہ ہوں‘‘ کے عنوان سے ایک مہم شروع کی ہے۔

اس مہم کا مقصد جنگ سے تباہ حال محصورین الغوطہ کی آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔ ’’اس مہم میں اسدی فوج کی بمباری سے ہونے والی تباہی اور انسانوں پر مظالم کی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کی گئی ہیں۔

اس مہم کو نہ صرف اہل شام بلکہ پوری دنیا میں غیرمعمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ گو کہ مشرقی الغوطہ میں قیامت برپا ہے۔ کوئی گلی، محلہ، قصبہ اور مکان ایسا نہیں جو قیامت خیز تباہی سے بچا ہو، مگر اس کے باوجود محصورین الغوطہ دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ زندہ اور پائندہ ہیں۔

محصورین الغوطہ میں امید اور زندگی اب بھی موجود ہے۔ مشرقی الغوطہ میں پیدل اور موٹر سائیکلوں پر چلنے والے مظلوم شہری’’مَیں زندہ ہوں‘‘ کی پکار سے پوری دنیا کو یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ الغوطہ کے عوام نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ گوکہ اسد رجیم نے ان کا سب کچھ تباہ وبرباد کر دیا۔ پورے پورے خاندان لقمہ اجل بنا دیئے، مگر اس کے علی الرغم اہل الغوطہ نے جینے کی امید ترک نہیں کی ۔

شامی فوج کے محاصرے کے شکار صوبے مشرقی الغوطہ میں 40 سال سے زیادہ عرصے تک مقیم رہنے والا پاکستانی جوڑا بالآخر وہاں سے انخلا پر مجبور ہوگیا ہے اور اس پاکستانی جوڑے کو انجمن ہلال احمر نے بدھ کو ایک محفوظ راستے سے وہاں سے نکال لیا ہے۔

مشرقی الغوطہ سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے باغی گروپ جیش الاسلام نے 72 سالہ پاکستانی محمد اکرم اور ان کی 62 سالہ اہلیہ صغراں (صغریٰ) بی بی کی تصاویر جاری کی ہیں۔انہیں ہلال احمر کی گاڑی پر مشرقی الغوطہ سے دمشق منتقل کیا گیا ہے۔

شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کی کوششوں کے نتیجے میں ان کا انخلا ممکن ہوسکا ہے۔

یہ دونوں ضعیف العمر میاں بیوی مشرقی الغوطہ کے گذشتہ پانچ سال سے جاری محاصرے کے باوجود الدوما میں مقیم رہے ہیں۔ شامی فوج نے جب باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے کا محاصرہ کیا تھا تو اس وقت اس کی آبادی بیس لاکھ سے زیاد ہ تھی، لیکن آج صرف چار لاکھ کے لگ بھگ لوگ وہاں رہ گئے ہیں۔

محمد اکرم اور ان کی اہلیہ 1975ء میں اسلام آباد سے بہتر روزگار کے سلسلے میں دمشق گئے تھے، اس کے بعد سے وہ شام ہی کے ہو کر رہ گئے۔

انہوں نے دسمبر 2017ء میں حلب ٹو ڈے ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں بہت مشکل سے کھانے پینے کا سامان مل پا رہا ہے اور خوراک کا حصول ان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ وہ دانے پیس کر بنائی گئی روٹی، بھینس کے دودھ اور انڈوں پر گزارہ کررہے ہیں۔اس پاکستانی نے مزید بتایا تھا کہ ان کی بیوی کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے ایک شامی عورت سے شادی کرلی تھی،اس سے چھ بچے پیدا ہوئے تھے،ان کی اس شامی بیوی کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔

ان کے دو بیٹے ، تین بیٹیاں اور بارہ پوتے پوتیاں دوما ہی میں مقیم رہ گئے ہیں۔ محمد اکرم نے انہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے ان کے لئے دعا کی ہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -