خیبرپختونخوا میں کرپشن کی تازہ وارداتیں اور مثالی پولیس!

خیبرپختونخوا میں کرپشن کی تازہ وارداتیں اور مثالی پولیس!
خیبرپختونخوا میں کرپشن کی تازہ وارداتیں اور مثالی پولیس!

  



پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان جس وقت کراچی کے دورے میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوامیں کرپشن کے خاتمے، محکمہ تعلیم میں انقلاب لے آنے اور میرٹ کی بحالی کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے ، عین اسی وقت خیبر پختونخوا میں18000 اساتذہ کی بھرتیوں کے لئے ہونے والے این ٹی ایس کے پیپر گلی گلی ، محلے محلے فروخت ہورہے تھے۔

4مارچ کو این ٹی ایس پیپر ہو چکنے کے بعد اس’’ شفافیت‘‘ کا پول کھلا تو ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام ہونے والا یہ این ٹی ایس ٹیسٹ ،پر چہ آؤٹ ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ۔یہ ہے عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے میرٹ ، انصاف اور شفافیت کے دعووں کی اصل حقیقت ، جس کا اعادہ وہ ہر جلسے، میٹنگ ، ٹی وی ٹاک شو، جلوس اور ہر تقریب میں کرتے نہیں تھکتے۔

اساتذہ کی بھرتیوں کا پرچہ آؤٹ کرنے والوں نے ایک روز قبل متعدد افراد کو پچاس ہزار روپے فی کاپی فروخت کی جنھوں نے آگے اسی پرچے کی فی کاپی دو ہزار سے پانچ سوروپے تک میں ہزاروں لوگوں کو فروخت کر کے نہ صرف لاکھوں روپے کما لئے ، بلکہ تعلیم جیسے حساس شعبہ میں ہونے والی بھرتیوں کے ضمن میں میرٹ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔

تعلیم کی اہمیت کا ادراک رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ اساتذہ کی بھرتیوں کا پرچہ نہیں بک رہا تھا ،بلکہ قوم کا مستقبل فروخت ہو رہا تھا، تعلیمی اداروں کی جڑوں میں دیمک لگائی جارہی تھی،نونہالانِ قوم کو نا اہل افراد کے حوالے کر کے طلبہ کے قلوب و اذھان کو بنجر بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا،لیکن افسوس کہ دو دن گزرجانے کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی طرف سے تعلیم جیسے حساس شعبہ کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

اتنے بڑے واقعہ پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹی، کوئی طوفان نہیں آیا ، کوئی فوری کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔وفاقی حکومت یا پنجاب حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے کسی معمولی واقعہ کو بھی جواز بنا کر عمران خان اور پرویز خٹک کی طرف سے متعدد مرتبہ یہ مطالبہ سامنے آچکا ہے کہ ’’ ان میں تھوڑی سی بھی شرم ہو تو کم از کم متعلقہ وزیر کو استعفا دے دینا چاہئے‘‘ ۔۔۔لیکن اپنے زیر انتظام صوبے میں کرپشن کا اتنا بڑا واقعہ رونما ہو ا تو وزیر تو کجا ، کوئی مشیر ، کوئی سیکرٹری، کوئی افسر، کوئی کلرک ، کوئی چپڑاسی تک معطل یا مستعفی نہیں ہوا۔

خیبر پختونخواکے وزیر تعلیم عاطف خان کی ’’معصومیت‘‘ پر بندہ قربان جائے ۔ فرماتے ہیں : ’’ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پرچہ امتحان سے فقط 6منٹ قبل آؤٹ ہوا‘‘۔۔۔ موصوف کو پرچہ آؤٹ ہونے پر نہ سہی ، کم از کم چھ منٹ قبل پرچہ آؤٹ ہونے کے بیان پر ضرور مستعفی ہوجانا چاہئے۔ ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

چھ منٹ قبل بھی کبھی کوئی پرچہ آؤٹ ہوا ہے؟ شائد ان محترم کو بنی گالوی سرکارکی جی حضوری سے فرصت نہیں یا عالم مدہوشی میں انہوں نے یہ نادر بیان جاری فرمایا ہے۔

این ٹی ایس کے ترجمان کے مطابق کسی بھی اسامی کا ٹیسٹ ہو تو امیدواران کو کم ازکم بھی پندرہ منٹ قبل امتحان گاہ میں بٹھا دیا جا تا ہے، یعنی اگر وزیر تعلیم کے اس بیان کو مان بھی لیا جائے، پھر تو یہ پر چہ منسوخ کر کے ہزاروں امید واروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی گئی ہے،کیونکہ جب تمام امیدوار پندرہ منٹ قبل امتحانی ہال میں بیٹھ چکے تھے، اس کے بعد امتحان شروع ہونے سے چھ منٹ پہلے پرچہ آؤٹ ہونے سے کسی کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے؟ بات سیدھی سی ہے۔

وزیر موصوف نے اپنی ، محکمہ تعلیم اور این ٹی ایس انتظامیہ کی نا اہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لئے یہ بھونڈا بیان جاری کیا ہے، جو ردی کی ٹوکری میں پھینکے جانے کے لائق ہے۔

تعلیم کے شعبے میں اتنے بڑے ڈاکے کا کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کی ہسٹری شیٹ دیگر شعبوں میں اس سے بھی بڑے بڑے ’’ کارناموں ‘‘ سے بھری پڑی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین کی شفافیت، انصاف اور میرٹ کا بھانڈا تو ابھی حالیہ سینیٹ الیکشن میں بھی سر بازار پھوٹ چکا ہے۔

عمران خان میڈیا پر کھلے بندوں تسلیم کر چکے ہیں کہ’’ پی ٹی آئی کے اسمبلی ممبران نے چار چار کروڑ کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کیا اور ووٹ فروخت کئے ‘‘۔۔۔پی ٹی آئی کے ووٹ بکنے کے اس شرمناک اعتراف کے ردعمل میں سوشل میڈیا پرعوام نے خوب تنقید کی ہے۔

ایک پوسٹ یہ وائرل ہوئی ہے کہ ’’ عمران خان متعدد مرتبہ نواز شریف ، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو نشانہ بناتے ہوئے فرما چکے ہیں کہ’’ کسی بھی جماعت کا سربراہ ٹھیک ہو تو پوری جماعت ٹھیک رہتی ہے‘‘۔۔۔ ان کے اپنے اس قول کے تناظر میں سینیٹ الیکشن اور خیبرپختونخوا میں کرپشن سیریز کی وجہ یہ تو نہیں کہ شادیوں اور طلاقوں کی مصروفیات میں خان صاحب خود ٹھیک نہیں رہے ‘‘۔۔۔۔

اپنے ممبران کے بکنے کا اعتراف وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے جو تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 20پی ٹی آئی ممبران نے اپنا ووٹ فروخت کیا، جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ نہ صرف پی ٹی آئی نے ووٹ بیچے، بلکہ پنجاب اسمبلی میں ،جہاں پی ٹی آئی کے فقط 30ووٹ تھے، وہاں پی ٹی آئی رہنماء چودھری سرور کو 44ووٹ پڑے،جس کا واضح مطلب ہے کہ 14ووٹ خریدے گئے۔

اب جس جماعت کے اسمبلی ممبران سینیٹ جیسے قانون ساز ادارے کے حساس ترین انتخابات میں اتنی بڑی کرپشن کر سکتے ہیں، سینیٹر بننے کے لئے کروڑوں روپے رشوت دے سکتے ہیں اورپیپلز پارٹی سمیت مخالف جماعتوں کے افراد کو سینیٹر بنانے کے لئے چار کروڑ لے کر اپنا ضمیراور ووٹ فروخت کر سکتے ہیں ،اس جماعت کے لوگ چند ٹکوں کی خاطر این ٹی ایس کاپرچہ آؤٹ نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے؟ یہ ہے اوپر سے لے کر نیچے تک وہ تبدیلی، جس کا ڈھنڈورا خان صاحب ایک وظیفہ سمجھ کر پیٹتے رہتے ہیں۔

اسی پر بس نہیں، عمران خان اور پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف مولانا فضل الرحمن کو الیکشن میں کمزور کرنے کے لئے انہی کے مسلک سے تعلق رکھنے والے مولانا سمیع الحق کو نہ صرف 58کروڑ روپے مدرسہ حقانیہ کے نام پر بطور ’’نذرانہ‘‘فراہم کر چکے ہیں، بلکہ ان کوبغیر کسی استحقاق کے محض سیاسی رشوت کے طور پر سینیٹر بنانے کا بھی وعدہ کیاگیا تھا ، لیکن پی ٹی آئی قیادت کی ہدایت کے باوجود خیبر پختونخوا کے ایم پی ایز نے مولانا سمیع الحق کو بھی دھوکہ دیا اور ان کو سینیٹ الیکشن میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اب ہسپتال میں زیر علاج مولانا سمیع الحق دُھائی دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے۔

مولانا صاحب! ’’اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘۔۔۔کیاپی ٹی آئی کی اس سیاسی کرپشن کے باوجود عوام اب بھی عمران خان کو تبدیلی کا علمبردار مان لیں گے؟

اگر وہ اپنے منہ سے تسلیم شدہ بیس بکنے والے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کو سامنے لائیں اور ان کوپارٹی سے فارغ کرنے کا اعلان کر دیں، لیکن ’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘۔۔۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کا بیانیہ پولیس سسٹم پر بھی لاگو کیا جاتا ہے۔

جس پولیس کی تعریفوں کے پُل باندھتے عمران خان نہیں تھکتے ، اسی خیبر پختونخوا کی پولیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محترم ثاقب نثار عاصمہ قتل کیس کے سلسلہ میں لئے جانے والے سوموٹو ایکشن کے تحت چلنے والے مقدمے میں خیبر پختونخوا پولیس کی ناقص کار کردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کوکہہ چکے ہیں کہ ’’ آپ کے پاس جدید تفتیش کا کوئی میکنیزم نہیں ہے؟

جتنی آپ کی تعریف سنی جاتی ہے، اتنی آپ میں صلاحیت نہیں ہے۔ آپ تحقیقات میں پنجاب پولیس کے تعاون پر انحصار کرتے ہیں‘‘۔۔۔چیف جسٹس کا 18جنوری کو دیا گیا یہ ’’ سر ٹیفکیٹ‘‘بھی پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے تبدیلی کے دعوے پر’’ مہر تصدیق‘‘ ہی تو ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ’’ مثالی پولیس‘‘سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے والے اسمبلی ممبران تک کب پہنچتی ہے اور این ٹی ایس پرچہ آؤٹ کرنے والا مافیا ان کی گرفت میں کب آتا ہے؟

مزید : رائے /کالم