سی پیک کے پاکستان کے سیاسی ماحول پر اثرات

سی پیک کے پاکستان کے سیاسی ماحول پر اثرات
سی پیک کے پاکستان کے سیاسی ماحول پر اثرات

  

چین کے ایک حالیہ فیصلے سے پاکستان کے سیاسی ماحول پر چین کی گہری نظر کا اظہار ہوتا ہے۔ 50ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہو تو ماضی، حال اورممکنہ مستقبل کے سیاسی ماحول پر نظر رکھنا ضروری ہی نہیں، بلکہ اسے اپنی ترجیحات اور مفادات کے مطابق بنانے کی کوشش بڑی طاقتوں کا ایک طے شدہ اصول ہے۔

خصوصاً جب کسی بھی خطے میں مفادات کے ٹکراؤ کا صرف اندیشہ ہی نہیں، بلکہ ٹکراؤ ہورہا ہے اور اُس میں اپنے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہوتا ہے اور ہونا ہی چاہئے۔

اس فیصلے کے مطابق مختلف پراجیکٹ پر عارضی طور پر ترجیحات تبدیل کی گئی ہیں، تاکہ ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ کو درپیش سیکیورٹی خدشات اور خطرات سے بحسن و خوبی نپٹاجاسکے، کیونکہ بھارت کی طرف سے اس CPEC کو ناکام بنانے کے لئے چینی ماہرین اور تنصیبات پر حملے کروائے جاتے ہیں، اِس لئے چین چاہتا ہے کہ اس مقصد کے لئے CPEC میں فوج کا کردار واضح اور نمایاں ہو، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اور سول ادارے یہ ذمہ داری ادا کرنے کی موثر اہلیت نہیں رکھتے ۔

اِس فیصلے کے تحت تین بڑے منصوبوں پر کام فی الحال معطل کیا جائے گا، یہ تین سڑکیں جن پر اخراجات کا تخمینہ 850ملین ڈالر ہے، ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب، قراقرم ہائی وے کا کچھ حصہ اور خضدار سے بسما کی تعمیر نو اورUP-Gradation شامل ہے جو تقریباً ایک سو دس کلو میٹر طویل ہے۔ یہ سارے چین کے اُس طویل المیعاد منصوبے کا حصہ ہیں، جس کے تحت مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ تک رسائی ممکن ہوسکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سڑکوں اور ریل کے ذریعے چین کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے منصوبے چین سے کئی ممالک کے ساتھ شروع ہیں۔ اِس سے معاشی مفادات تو حاصل ہوں گے، لیکن اِس سے چین کے سیاسی اورفوجی مقاصد بھی ہیں، جن سے امریکہ اور اُس کے اتحادی خوف زدہ ہیں، جن میں بھارت سرفہرست ہے۔

امریکہ، خصوصاً سعودی عرب کو ناراض نہ کرنے کے لئے ہم نے ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اورترجیحی تعلقات کو نظر انداز کیا، جس سے بھارت پورا فائدہ اُٹھارہا ہے۔

ہم نے 4/5سال سے امور خارجہ جیسے اہم ترین شعبے کو نظر انداز کئے رکھا، جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں اور قوم آئندہ بھی بھگتے گی۔ چین کی طرف سے یہ فیصلہ جس کے تحت تین منصوبوں پر کام وقتی طور پر روک دیا گیا ہے، ’’اتفاق‘‘ سے ایسے وقت پر کیا گیا، جب شریف خاندان (حکمران) مختلف الزامات کی زد میں ہے۔

دوسری طرف جنرل پرویز مشرف نے حافظ سعید کی جماعت ملی مسلم لیگ سے سیاسی اتحاد بنانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ امریکہ نے اُن کے سرکیقیمت 10ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔

اُن پر یہ الزام بھی بھارت کی طرف سے لگایا جاتا ہے کہ ممبئی میں 2000ء میں جو حملے ہوئے، ان کا منصوبہ ساز بھی حافظ سعید ہے۔ جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ تنظیمیں بھی اُن کی سربراہی میں کام کرتی ہیں۔

یہ الزام بھی ان پر عائد کئے جاتے ہیں، جن پر انہیں نظر بند بھی کیا گیا، لیکن وہ محض الزامات ہی رہے اور الزامات لگانے والوں کی طرف سے کوئی ثبوت مہیا نہ کرنے کی وجہ سے ہائی کورٹ نے یہ نظر بندی ختم کردی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے برملا اظہار بھی کیا کہ ان تنظیموں کی کشمیر اور بھارت میں عسکری سرگرمیاں اُن کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھی کہ بھارت کو سکون اور آرام کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی سے روکا جاسکے اور وہ اپنی جگہ مصروف رہیں اور پاکستان میں دہشت گردی نہ کرسکیں یا کرواسکیں، کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی خصوصاً بلوچستان میں بھارت ہی کرواتا ہے۔ کلبھوشن کی گرفتاری اور اُس کے اعتراف سے تو حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔

دوسری طرف جنوبی ایشیا کی سیاسی صورت حال میں پاکستان کی مسلح افواج کے اہم کردار کونظر انداز کرنا تو امریکہ کے لئے بھی ممکن نہیں، کیونکہ پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کی حفاظت میں فوج کا ہی کردار ہے، اِس لئے امریکہ اور بھارت کی کوشش ہے کہ اِس ادارے کو کمزور کیا جائے تاکہ انہیں کھل کر کھیلنے کی چھٹی مل جائے اور سول بالادستی کے نام پرکچھ حلقے، جن کے مفادات بھارت اور مغرب سے وابستہ ہیں، اُن کا کام آسان کرنے میں تعاون کرتے رہیں۔

یہ ہے وہ پس منظر جس میں چین پاکستان کی مسلح افواج کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اِس کا اظہار بھی کرتاہے۔ سلامتی کونسل پر اس کوشش کو ویٹو کرتا ہے، جس میں پاکستان کی مسلح افواج کو بالواسطہ موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جن منصوبوں کا ذکر آغاز میں کیا گیا، اُن پر کام فی الحال روک دیا گیا ہے، لیکن یہ کام فوج کی انجینئرنگ اور کنسٹرکشن کمپنی انجام دے گی۔۔۔ اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ بھی CPECمیں کرسٹن کی اطلاعات کے بعد کرنا ضروری سمجھا گیا۔

اِس فیصلے کی ایک وجہ CPEC کے ٹھیکے بعض ایسی چینی کمپنیوں کو دینا بھی ہے، جن کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں، ایک چینی کمپنی جو ورلڈ بینک کی طرف سے بلیک لسٹ کی گئی ہے، اسے نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کا 4.5 بلین ڈالرز کا ٹھیکہ دے دیا گیا ۔

CPEC کی اپنے طور پر سکروٹنی کے بعد اس منصوبے پر پاکستانی فوج کی شرکت اور نگرانی بڑھانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ ایک چینی کمپنی سے ’’معاملات‘‘ طے نہ ہونے پر ٹھیکہ منسوخ کیا گیا۔ واپڈا کے چیئرمین مزمل حسین کے مطابق بعض شرائط DO-Able نہیں تھیں اور ہمارے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ دیا میر، باشا ڈیم کی فنانسنگ بھی تاخیر کا شکار ہوگی، اِس کے علاوہ گلگت، بلتستان میں دریائے سندھ پر ڈیم کا مسئلہ بھی ہے۔

مسلح افواج کا کردار بڑھانے کی وجہ چین کے اپنے باشندوں کا تحفظ ہے، جو مسلسل قاتلانہ حملوں کا شکارہوتے یااغوا کئے جاتے ہیں۔ سیاسی طور پر چھوٹے صوبوں کے تحفظات بھی چین کے لئے پریشانی کا باعث ہیں کہ چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کرکے پہلے سے ہی ترقی یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط پنجاب کے لئے فائدہ مند روٹ، صنعتیں لگانے کا تعین کیا جارہا ہے، جو مستقبل کے سیاسی ماحول اور خاکے میں چین کے مفادات اور سرمایہ کاری کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

مزید : رائے /کالم