”شوہر کو قابو کرنے کے لئے میں نے... “ ایک عورت کا وہ شرمناک جادوئی عمل جس کے بعد شوہر کی بجائے کوئی اور اسکے تابع ہوگیا تھا

”شوہر کو قابو کرنے کے لئے میں نے... “ ایک عورت کا وہ شرمناک جادوئی عمل جس کے ...
”شوہر کو قابو کرنے کے لئے میں نے... “ ایک عورت کا وہ شرمناک جادوئی عمل جس کے بعد شوہر کی بجائے کوئی اور اسکے تابع ہوگیا تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آپ سے اپنی کہانی شئیر کرتے ہوئے مجھے بہت شرم محسوس ہورہی ہے لیکن یہ سو چ کر کہ اب کیسی شرم ۔میں تو خود اپنی شرم وحیا کو نیلام کرچکی ہوں اور اب نہیں چاہتی کہ کوئی اور عورت ایسی گندی اور شرمناک حرکت کرکے اپنی زندگی کو روگ لگا لے۔میں اس پر بات کرنا چاہتی ہوں۔

یہ تو آپ جانتے ہی نظام الدولہ   بھائی کہ ہماری مشرقی عورتوں کو اپنے سسرال اور شوہروں سے بڑا مسئلہ رہتا ہے ۔ان کی ساری زندگی اسی کوشش میں گزر جاتی ہے کہ ان کے شوہر انکے غلام بن جائیں،ان کے اشاروں پر ناچیں ۔اس کے لئے وہ بڑی کوششیں کرتی ہیں ۔زیادہ تر عورتیں پیروں فقیروں اور بہت سی کالا جادو کرنے والوں کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔میں ان بد نصیب عورتوں سے ہوں جس نے ایک کالاجادو کرنے والے سے رابطہ کیا۔

میں اپنے شوہر کو اپنے قابو میں کرنا چاہتی تھی۔ان کا اچھا بھلا کاروبار تھا ،لیکن وہ مجھے اپنے خرچہ کے لئے پیسے نہیں دیتا تھا۔گھر کا سارا سامان اور بچوں کی فیسیں اور کپڑے وغیرہ کے لئے یا تو وہ خودسارے کام کرتے یا اپنی اماں اور بہن کو پیسے دیکر ان کاموں کا کہتے جس کا مجھے بہت دکھ ہوتا تھا۔میری نند کی شادی ہوئی تو انکی اپنی مصروفیت بھی بڑھ گئی۔کئی کئی دن دوسرے شہروں میں گزاردیتے ۔آتے تواپنی اماں کو پیسے دیکر چلے جاتے ۔میں اندر ہی اند ر کڑھتی ،کبھی کہتی کہ مجھے پیسے چاہئیں تو کئی سوال کرتے اور پھر کہتے اماں سے لے لو۔

مجھ پران کا یہ رویہ آگ کی طرح برستا اور میں اندر تک جھلس جاتی۔انہیں دنوں ایک عورت کی وساطت سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ شوہر کو اپنی مٹھی میں کرنے کے لئے انکے پاس ایک عامل ہے جو ایسا عمل کرتا ہے کہ شوہر تلوے چاٹنے لگتا ہے ۔

میں غرض مند اور دیوانی تھی۔غصہ اور نفرت بھی تھی اس لئے میں اس کے ساتھ کالا جادو کرنے والے کے پاس چلی گئی۔اس روز سے میری بد بختی کے دن شروع ہوگئے ۔وہاں کچھ اور بھی عورتیں موجود تھیں اور سب اس عامل کی تعریفیں کررہی تھیں۔میں انجان اور کم عقل کہ یہ سمجھ ہی نہ سکی کہ دراصل یہ ساری اسکی ایجنٹ ہیں۔

عامل سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھ سے سارے کوائف لئے ،شوہر کا نام پتہ،بچوں کے نام عمریں ساس کے بارے بھی کافی کچھ پوچھا،مالی حیثیت کا بھی اندازہ لگایا اس نے ۔اس کی چکنی چپڑی باتوں سے میں بڑی متاثر ہوئی ۔اس نے مجھ سے ایک لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی ۔اس وقت میرے پاس پانچ ہزار روپے تھے ۔وہ میں نے اسے دئے تو اس نے کہا کہ باقی کا بندوست کرو کیونکہ اس کام کے لئے جو تعویذ لکھا جائے گا اس کا موکل بڑا خوفناک ہے ،اسے راضی کرنا ہوگا ۔

جب میں نے وعدہ کیا کہ میں ایک دو دن مین دوبارہ آتی ہوں تو اس نے انتہائی شرمناک بات کرتے ہوئے کہ یہ تعویذ عورتوں کے مخصوص ایام میں ان کے گندے خون سے لکھا جاتا ہے تو ایک بار تو مجھے بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی۔میں جیسا بھی گمراہ کن سوچ رہی تھی ،مگر بے شرم نہیں تھی۔لیکن بعد میں باہر بیٹھی عورتوں نے میری عقل پر ایسا پردہ ڈالا کہ میں چند دن بعد جب ان ایام مخصوصہ سے دوچار تھی اس عامل کے پاس گئی اور اسے اپنی دو سونے کی چوڑیاں دیکر کہا کہ ان کی مالیت اتنی ہے جتنی وہ فیس مانگ رہا ہے۔اس کے بعد وہ مجھے پچھلے کمرے میں لے گیااور وہاں سے گزر کر نیچے بنے ایک تہہ خانہ میں پہنچی تو وہاں کا ماحول دیکھ کر میرا خون خشک ہوگیا ۔کمرے کی دیواروں پر عجیب و غریب مورتیوں کی تصویریں بنی تھی،ایک طرف ایک انگیٹھی میں کوئی چیز جل کر دھواں پھیلا رہی تھی۔

کمرے کا پراسرار منظر دیکھ کر میں ڈری تو وہ بولا” بی بی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ابھی میں چوکی لگاوں گا اور میرا موکل حاضر ہوگا ،تو اس سے ڈرنا نہیں ۔وہ ہی تمہارا مسئلہ حل کرے گا “

اس دوران اس نے گندہ خون لیکر ایک ہڈی پر کچھ لکھا اور انگیٹھی کی آگ مزید تیز کردی ۔اس دھویں کی وجہ سے میراسر گھومنے لگااور کچھ ہی دیر میں مجھے بڑا سکون سا محسوس ہوا،میری نظروں کے سامنے کئی سائے آنے جانے لگے اور پھر مجھے کسی نے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور ایک تخت پر لٹا کر میرے ساتھ کھیلنے لگا ۔

اب میں اور کیا بتاوں، جب میری آنکھ کھلی تو اپنی حالت دیکھ کر میں شرم سے مر گئی ۔وہ عامل ابھی تک انگیٹھی کے پاس بیٹھا تھا ۔مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر اسکے چہرے پر مردود مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے کہا ” تیرا کام ہوگیا بی بی ،اب ایک ہفتہ تک تو آتی رہو تاکہ میرے موکل کا عمل پورا ہوجائے،وہ تجھ سے بڑا خوش ہوگیا ہے،یہ موکل تیرا تابع ہوگا تو تیرا شوہر تیرے قابومیں آئے گا،بس تو اسے خوش کرتی جا“

میں بہت روئی،چیخی مگر اس نے مجھے خوفزدہ کردیا کہ کسی کے سامنے منہ کھولا تو شوہر ہاتھ سے جائے گا۔میں اسکے ہاتھوں میں بری طرح پھنس گئی تھی۔میں جو شوہر کو قابو کرنے آئی تھی اس ذلیل انسان کے چُنگل میں پھنس گئی،نہ جانے میری جیسی کتنی عورتیں اس طرح برباد ہوجاتی ہیں۔

۔۔

(آپ بھی اپنی زندگی کے حیرت انگیز ،پراسرار واقعات لکھنا چاہتے ہیں تو اس پر ای میل کریں nizamdaola@gmail.com )

مزید : مافوق الفطرت