جنگ کا خطرہ یا کشیدگی میں کمی؟

جنگ کا خطرہ یا کشیدگی میں کمی؟

صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور دفاع کریں گے تاہم صدر مملکت کا کہنا تھا کشیدگی میں کمی دیکھنے مییں آئی ہے، پاکستان جنگ نہیں چاہتا، ایک ٹی وی چینل پر بات چیت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھارت اور اسرائیل کی ملی بھگت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا بھی کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کم ہو گئی اب کسی خطرے یا چیلنج کا سامنا نہیں، ہم گزرتے وقت کے ساتھ جنگ سے دور ہو رہے ہیں۔ بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے، جبکہ پاکستان امن کا خواہاں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ جاری بحران کے افغان امن عمل پر سنگین اثرات مرتب ہونا ممکن ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کی پوری توجہ اب مشرقی سرحد پر مرکوز ہو گی۔ فاکس نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت سے خطرہ درپیش ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاتا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ موجود رہے گا۔

اگرچہ ایسی علامات تو نظر آ رہی ہیں کہ کشیدگی میں کمی آ رہی ہے تاہم بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔ بھارت نے فضائی کے بعد پاکستان کی سمندری حدود میں بھی مداخلت کی کوشش کی تاہم پاکستان نیوی نے اپنے سمندری زون میں بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اسے نشانے پر لے لیا۔البتہ امن کی خاطر آبدوز کو ٹارگٹ نہیں کیا اور اسے پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔ پاک بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبدوز کو نشانہ نہ بنانا پاکستان کی امن پسندی کا غماز ہے تاہم سینیٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ پاکستان کے سمندری زون میں آنے والی بھارتی آبدوز کو نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا ارو یہ کس کے حکم پر کیا گیا۔

کشیدگی میں اگر کمی ہو رہی ہے تو یہ اچھی بات ہے اور اطلاعات کے مطابق اِس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو گزشتہ دِنوں پوری طرح متحرک رہے اور دونوں ممالک کے ساتھ رابطہ کر کے کشیدگی بڑھانے سے گریز کا مشورہ دیتے رہے۔انٹیلی جنس ذرائع سے ایسی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ بھارت نے پاکستان کے بعض شہروں پر میزائل حملے کا منصوبہ بنا لیا تھا،جس کے جواب میں پاکستان نے بھی بھارتی شہروں کو نشان زد کر لیا اور جوابی کارروائی کے امکانات سے دوست ممالک کو آگاہ بھی کر دیا۔ یہ خطرہ اگرچہ ٹل گیا ہے تاہم صدرِ مملکت اگر کہتے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے باوجود جنگ کا خطرہ بدستور موجود ہے تو اس کی روشنی میں ہر قسم کے حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے کا امن خراب کرنا نہیں چاہتا،لیکن بھارت کو دیکھنا ہو گا کہ وہ کہاں تک جانا چاہتا ہے،بھارت کے اندر بھی اب ایسی آوازیں اُٹھ رہی ہیں،جن کے ذریعے نہ صرف بھارت کے دعوؤں کو جھٹلایا جا رہا ہے،بلکہ یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ مودی سرکار اپنی کامیابیوں کے جو دعوے کر رہی ہے اُن کا ثبوت بھی پیش کرے،جبکہ ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا جا رہا،اِسی لئے کہا جا رہا ہے کہ بھارت کو دہشت گردی کے خاتمے سے کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ اس میں پاکستان کو ملوث کر کے انتخابی مہم کو گرمانا چاہتا ہے،چونکہ انتخابی مہم ابھی جاری ہے اور کم از کم دو ماہ تک مزید جاری رہے گی،اِس لئے مودی کی شعلہ فشانی میں تو کمی کا امکان نہیں اور نہ ہی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ رُکتا ہوا نظر آتا ہے،کیونکہ کسی نہ کسی سیکٹر میں بھارت کی جانب سے فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں،پاکستان صرف جوابی دفاع تک محدود ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ماحول ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے، جب افغان امن عمل کے لئے عالمی کوششیں جاری ہیں اور امریکہ وطالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی ساری توجہ چونکہ سیکیورٹی معاملات پر مرکوز ہو گئی ہے اِس لئے امن عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔ ویسے بھی یہ مذاکرات انتہائی پیچیدہ ہیں اور افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے مسودے پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا اور نہ ہی طالبان فی الحال افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لئے آمادہ ہوئے ہیں ایسے میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ دہشت گردی کے مقابلے کے لئے امریکی فوج افغانستان میں رہے گی،اُن کا یہ بیان بظاہر صدر ٹرمپ کے منصوبے کے منافی نظر آتا ہے، جس میں انہوں نے سالِ رواں کے آخر تک امریکی فوج افغانستان سے نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اگر امریکی فوج کی واپسی کا عمل تاخیر کا شکار ہوتا ہے یا امریکہ نئی توجیہات کے تحت افغانستان میں موجود رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر لیتا ہے تو عین ممکن ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تعطل آ جائے اور پھر اس تعطل کو دور کرنے کے لئے ازسر نو کوششیں کرنی پڑیں، اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو دوچند کرے کہ موجودہ صورتِ حال جاری رہی تو امن مذاکرات کا عمل اگر ختم نہیں تو سست ضرور ہو گا۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی افغان عمل کو متاثر کرے گی،اس ماحول میں بڑی طاقتوں کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے اِس لئے دو جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ بہرحال روکنا ہو گا، پاکستان نے تو بھارتی آبدوز کو نشانے پر لینے کے باوجود ٹارگٹ نہیں کیا،لیکن اگر بھارت کی جانب سے ایسی کوششیں جاری رہیں تو کب تک برداشت کی جائیں گی؟

مزید : رائے /اداریہ