بنگلہ دیش کی ترقی ۔۔۔ کرپشن اور دو قومی نظریہ

بنگلہ دیش کی ترقی ۔۔۔ کرپشن اور دو قومی نظریہ
بنگلہ دیش کی ترقی ۔۔۔ کرپشن اور دو قومی نظریہ

  


ایک انگریزی معاصر میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بنگلہ دیش کے قیام کو دو قومی نظریہ مسترد کردیئے جانے سے تعبیر کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی ترقی کی تعریف کی گئی ہے اور پاکستان کو اس سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی معیشت کو امن کی بنیاد پر استوار کرے۔ سرحدوں پر موجودہ صورتحال کی روشنی میں دیگر معاملات کے علاوہ یہ مشورہ اس لئے بھی سنجیدہ تجزیئے کا تقاضا کرتا ہے کہ اس میں قائداعظمؒ کے پیش کردہ دوقومی نظریئے کو چیلنج کرکے ملک کی اساس پر ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

فاضل مضمون نگار نے جو پروفیسر ہیں اور ایٹمی سائنسدان ہونے کے علاوہ ایک دانشور کے طور پر بھی ممتاز مقام کے حامل ہیں، اپنے مضمون میں بنگلہ دیش کی ترقی کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں سب سے زیادہ قابل ذکر برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ ،آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی اور صحت و زندگی سے متعلق قابل تعریف اعداد و شمار ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بنگلہ دیش کی جو خامیاں بیان کی ہیں ان کی روشنی میں یہ دلچسپ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ نہ تو کرپشن ہی ملک کی ترقی کا راستہ روک سکتی ہے اور نہ ہی الٹی سیدھی جمہوریت۔ ان کے بیان کے مطابق بنگلہ دیش ایک غریب اور کرپٹ ملک ہے جس کے حالیہ انتخابات نے اس کی مضحکہ خیز جمہوریت کا پول کھول دیا ہے۔ ہندوستان سے بنگلہ دیش کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ پانی کی تقسیم اور سرحدی معاملات پر سنگین تنازعات ہیں اور منشیات کی سمگلنگ سمیت غیر قانونی ترک مکانی پر بھی اسے بڑے ہمسائے کی دھونس کا سامنا ہے۔

لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش نے اپنی ترجیحات نہیں بدلیں ۔۔۔ دیگر الفاظ میں وہ سرنیچا کرکے اپنے معاشی مسائل کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ مضمون نگار کے خیال میں 1971ء کے واقعات سے بھی ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگا تھا تو لوگ سمجھے تھے کہ اب مراعات یافتہ طبقے کو پالنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے گی، لیکن انتقام کی پیاسی حکومت کو ہندوستان سے بدلہ لینے کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیا، اور بھٹو صاحب نے بھی سقوط ڈھاکہ کے صرف چھ ہفتے بعد خفیہ پیغام کے ذریعے ملتان میں ایٹم بم کی تیاری کیلئے میٹنگ بلالی۔ انہوں نے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اختیارات کی مرکزیت مقامی رنجشوں کو جنم دیتی ہے۔ بلوچستان میں نیپ کی حکومت ختم کرکے فوجی کارروائی شروع کردی جو ابھی تک جاری ہے۔

فاضل مضمون نگار نے بنگلہ دیش کی ترقی کا جو نقشہ پیش کیا ہے اس کا راز کھولنے اور دیگر امور پر رائے دینے سے پہلے بہتر ہوگا کہ دو قومی نظریئے کے بارے میں ان کی سوچ کا تیا پانچا کردیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں بنگلہ دیش بنگالی زبان اور بنگالی قومیت کی بنیاد پروجود میں آیا۔ حالانکہ یہ تحریک مغربی بنگال سے اٹھنی چاہئے تھی جہاں بنگالی قومیت کا دھارا آج بھی بہتا ہے جس کا بہت بڑا سرچشمہ آفاقی شہرت کے علمبردار شاعر اور ادیب رابندر ناتھ ٹھاکر(انگریزی میں ٹیگور) ہیں جو 1905ء میں اس وقت تڑپ اٹھے تھے جب انگریزوں نے اپنی سہولت کے لئے مغربی اور مشرقی بنگال کی صورت میں بنگال کے ٹکڑے کردیئے تھے۔

اس وقت انہوں نے ایک بنگال کیلئے درد بھرا گیت ’’میرا سنہرا بنگال‘‘ لکھا تھا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس گیت کی وجہ سے بہرحال انگریزوں نے تقسیم کی مخالفت کے سبب اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ٹھاکر کے طویل گیت کا پہلا حصہ بنگلہ دیش کا قومی ترانہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی مغربی بنگال کے جغرافیائی اور زمینی سرحدوں میں صرف اس لئے کہ وہاں ہندو بنگالیوں کی اکثریت ہے جو مشرقی پاکستان کی زراعت پیشہ آبادی کو اپنے ہم پلہ نہیں سمجھتے۔

اس لحاظ سے بنگلہ دیش کا وجود خود اپنی جگہ ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ ممکن ہے آج بہت سے افراد کی نظروں سے یہ حقیقت اوجھل ہو کہ تقسیم سے ایک سال قبل متحدہ بنگال میں مسلم لیگ کی حکومت تھی جو کئی برسوں سے چلی آرہی تھی۔ اس وقت اس کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی تھے جبکہ اس سے قبل شیر بنگال مولوی فضل الحق وزیراعظم رہے تھے جنہوں نے اسی حیثیت میں 1940ء میں قرارداد پاکستان پیش کی تھی۔

1946ء میں سہروردی کی قیادت میں بنگال کی مسلم لیگ نے قائداعظم کی اجازت سے متحدہ بنگال کی حمایت کی تھی۔ لیکن کانگریس نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا کیونکہ پٹ سن کے تمام کارخانے کلکتہ میں تھے اور مغربی بنگال کے مراعات یافتہ ہندو، مسلمانوں کی اکثریت سے خوفزدہ تھے۔ پنجاب میں بھی جہاں قائداعظم نے سکھوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پیشکش تھی۔

اگرچہ مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی،1937ء سے پنجاب کے وزیراعظم مسلمان ہی چلے آرہے تھے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں نے اکالی دِل اور کانگریس کے ساتھ مل کر مذہبی ہم آہنگی کی زبردست مثال قائم کی تھی۔ تقسیم کا مطالبہ کانگریس نے ہی کیا تھا، کیونکہ اسے مسلمانوں کی اکثریت قابل قبول نہ تھی۔ تو کیا آج صورتحال کچھ مختلف ہے کہ 1947ء کی نسبت ہندوستان میں کانگریس کی جگہ بی جے پی کا بول بالا ہے لیکن مجموعی طور پر ہندو سیاسی قیادت کی تنگ نظری اور تنگ دلی میں اضافہ ہی ہوا ہے جس کی شفاف مثال بی جے پی کے ممتاز لیڈر ایل کے ایڈوانی ہیں جو 1992ء میں جب بابری مسجد کو ڈھانے کیلئے رتھ لے کر نکلے تھے تو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے تھے لیکن جب انہوں نے 2005ء میں قائداعظم کے مزار پر حاضری کے وقت یہ لکھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا کہ وہ بطور سیکولر رہنما بہت بڑے لیڈر تھے تو انہیں پارٹی چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

پارٹی کے ایک اور رہنما جسونت سنگھ کو تو جو ہندوستان کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے تھے اسی بات پر پارٹی سے ہی نکال دیا گیا تو دو قومی نظریہ کیسے خاک میں مل گیا؟ جہاں تک بھارت کی دھونس کے باوجود بنگلہ دیش کے سرجھکا کر چلنے کا تعلق ہے تو اس کا سبب دراصل ان کی وہ کمزوریاں ہیں جو انگریزوں سے جنگ کے نتیجے میں معتوب ہونے کے باعث ان کے حصے میں آئیں۔

فوج اور بیوروکریسی کے دروازے بھی ان پر بند کر دیئے گئے اور زمینداری کے علاوہ صنعت و حرفت اور تجارت تو تھی ہی ہندوؤں کے ہاتھ میں۔

اسی احساس محرومی کے باعث وہ تحریک پاکستان میں سب سے آگے تھے اور انہی کمزوریوں کے سبب وہ اکثریت میں ہونے کے باوجود مغربی پاکستان کے ساتھ محبت اور تابعداری سے چل رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس گرداب سے نکلنے میں انہیں شاید ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ لگے گا۔ اس لئے انہوں نے اس کو کبھی مسئلہ نہیں بنایا۔

ان کا اصل مسئلہ اقتدار میں شرکت کے ذریعے پاکستان کا حصہ ہونے کا احساس تھا جو سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ جس کے فقدان نے اور آخر میں یہ دروازہ بھی بند ہو جانے پر انہیں چولہا الگ کرنے پر مجبور کردیا۔

فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں بنگلہ دیش کو پاکستان کا ’’کزن‘‘ یعنی عم زاد بھائی لکھا ہے چنانچہ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاملے کو دو بھائیوں کے درمیان جھگڑے سے تعبیر کیا جائے۔ جس کا رواج ہمارے معاشرے میں عام ہے تو اس کی نوعیت سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ چنانچہ اس وضاحت کے بعد دونوں کے درمیان تقابل کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

ویسے بھی بنگلہ دیش جاگیرداری نظام سے نجات حاصل کر چکا ہے جہاں 1950ء میں اس وقت کی صوبائی حکومت نے زرعی اصلاحات نافذ کردی تھیں۔ پھریہ کہ بنگلہ دیش ایک ہی ثقافت پر مشتمل اکائی ہے جس کی سولہ کروڑ سے زائد آبادی سندھ کے تقریباً برابر 56ہزار مربع میل رقبے پر آباد ہے۔ جبکہ پاکستان میں جہاں کئی مختلف ثقافتی اکائیاں ہیں جاگیرداری نظام بدستور موجود ہے جس کے قبائلی اور صنعتی نظام سے تصادم کی چھاپ مسلسل دکھائی دیتی رہتی ہے۔ پاکستان کو بنگلہ دیش جیسی کسی کمزوری کا سامنا نہیں۔

اس لئے اسے ہمسائے کی دھونس کے باوجود سرجھکا کر چلنے کا مشورہ زیب نہیں دیتا، خاص طور پر مضمون نگار کی طرف سے جو امریکہ، سعودی عرب اور چین کی انگلی پکڑ کر چلنے کا طعنہ بھی دیتے ہیں۔ یہ مشورہ خود بنگلہ دیش کے بھی شایان شان نہیں۔ اس کے بجائے ہندوستان کو مشور دینا چاہئے کہ وہ دھونس دھاندلی کی پالیسی ترک کرکے خود بھی امن سے رہے اور دوسروں کو بھی چین سے رہنے دے۔ لیکن کسی کمزور کی طرف سے کسی طاقتور کو مشورے یا نصیحت کی کیا اہمیت؟ اسی لئے یہ بات ہندوستان کی سمجھ میں 1998ء میں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں اس وقت آئی جب پاکستان بھی ہندوستان کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے ایٹمی قوت بن گیا۔

تب ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے لاہور آکر پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی پارٹی کے تنگ نظر انتہا پسندوں نے پرویز مشرف کی ان کی کوششوں کو بھی ناکام بنا دیا جو انہوں نے خود ہندوستان جاکر بڑے خلوص سے واچپائی کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کیلئے کی تھیں۔ امن کے لئے سرجھکا کر چلنے کے بجائے ایٹم بم کی افادیت پر روشنی ڈالنے کے بعد یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ بلوچستان میں نیپ کی حکومت کے خاتمے کو بھی اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 1971ء کے سانحہ سے ہم نے اس لحاظ سے کوئی سبق نہیں سیکھا کہ گزشتہ 48برس کے دوران 19برس کے غیر جمہوری ادوار نے سندھ اور بلوچستان میں خاص طور پر اقتدار میں عدم شرکت کے اس احساس کو فروغ دیا جو مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا۔

اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان نے ڈیونڈر لائن کے مسئلے پر ابھی تک اپنی رائے نہیں بدلی اور نیپ کے لیڈر ولی خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ’’پختونستان‘‘ کے حوالے سے مقدمہ سپریم کورٹ تک گیا تھا۔

آخر میں بنگلہ دیش کے غیر معمولی ترقی کے راز کی نقاب کشائی جس کے ڈانڈے اس کے قیام کے وقت ان تباہ کن حالات سے جا ملتے ہیں جن کے سبب اقوام متحدہ نے اس کا نام دنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا تھا اور جس کی بنا پر اسے نہ صرف کم شرح سود پر قرضے کی سہولتیں حاصل ہوگئی تھیں بلکہ اس کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کے لئے جاپان سمیت دنیا کے 27ترقی یافتہ ممالک میں بلا روک ٹوک برآمد کے دروازے کھل گئے تھے۔

اس سہولت کا فائدہ سب سے پہلے جنوبی کوریا نے اٹھایا جس نے بنگلہ دیش کی ایک کمپنی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ دیا اور اس شعبے میں بنگلہ دیشی کاریگروں کی تربیت کا اہتمام بھی کیا۔ پھر ایک موقع وہ آیا جب پاکستان کی چالیس فیصد ٹیکسٹائل کی صنعت دولاکھ برقی کھڈیوں کے ساتھ بنگلہ دیش منتقل ہوگئی۔

کیونکہ وہاں نہ صرف سستی گیس اور بجلی میسر تھی بلکہ بنگلہ دیش نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دس سال تک ٹیکس کی چھوٹ بھی دی تھی۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر بنگلہ دیش کی جیت سستی ترین اجرت سے ہوئی جوپاکستان سے آدھی تھی۔ اس سہولت کی بنا پر بنگلہ دیش سلے سلائے کپڑوں کی برآمد میں چین کے برابر آکھڑا ہوا ہے اور برآمدات 1971ء میں صفر سے 36ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جن میں سے 80% ٹیکسٹائل کی مصنوعات اور سلے سلائے کپڑے ہیں۔ برآمد کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش کی دوا سازی کی صنعت نے بھی زبردست ترقی کی ہے اور وہ نہ صرف دواؤں کے معاملے میں خود کفیل ہوگیا ہے بلکہ اس کی دوائیں سو سے زائد ملکوں کو برآمدکی جارہی ہیں لیکن بنگلہ دیش نے ترقی کے لئے اپنے جوہر کی اصل مثال کرکٹ کے میدان میں قائم کی ہے۔

جس میں اس نے کسی مدد یا سہارے کے بغیر ممتاز مقام حاصل کرلیا ہے۔ پاکستان کی دیگر صنعتوں کے ہمراہ ٹیکسٹائل کی صنعت کے لئے بھی جو کبھی دنیا میں اول نمبر پر ہوا کرتی تھی مہنگی بجلی اور گیس ان کی فراہمی میں تعطل کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی رہا ہے۔ جس کے سبب بیرونی سرمایہ کار تو پاکستان کیا آتے خود پاکستانی سرمایہ کار دوسرے ملکوں کی منڈیاں تلاش کرتے رہے ہیں۔

لیکن اب جبکہ یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوگیا ہے، ڈالر کی قیمت میں ردوبدل سے برآمد کنندگان کو دوسرے ملکوں سے مقابلہ کرنے میں سہولت حاصل ہوگئی ہے اور سی پیک کے تحت اگلے سال تک مکمل ہونے والے کئی بجلی گھروں کے ذریعے بجلی کی مسلسل فراہمی کا انتظام بھی ہو جائے گا تو امید ہے کہ پاکستان بھی دیگر صنعتوں سمیت ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی سرجھکا کر نہیں بلکہ سراٹھا کر اپنا کھویا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

مزید : رائے /کالم