قومی اسمبلی، کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی ہونی چاہیے : بلاول ، پیپلز پارٹی دور میں افراط زر 25فیصد تھا: اسد عمر

قومی اسمبلی، کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی ہونی چاہیے : ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) حکومت نے شدید احتجاج کے باوجود اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کرتے ہوئے رواں مالی سال کا منی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرلیا ،منی بجٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کی گئی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد منی بجٹ سینیٹ میں پیش کیا جائیگا، ایوان بالا سے منظوری کے بعد صدر مملکت اس کی منظوری دیں گے۔تفصیلات کے مطابق سپیکر اسد قیصر کی جانب سے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف قرار داد پیش کر نے کی اجازت نہ دینے پر جے یو آئی نے شدید احتجا ج کرتے ہوئے سپیکرڈائس کا گھیراؤ کرلیا ۔فنانس بل منظوری کیلئے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن نے اہم معاملات اٹھائے ہیں، شہباز شریف چاہتے ہیں سب مل کر میثاق معیشت کریں، ہم ان کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں، معیشت جن مشکلات کا شکار ہے، ان سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ملک کی لیڈر شپ ایک میثاق معیشت بنائے۔اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کی تقریروں میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ زیادہ ہوتی ہے، اپوزیشن کی جانب سے کوئی ایک تجویز ہمارے سامنے نہیں رکھی جاتی، پچھلے 10سال میں معیشت کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے، معیشت پر تنقید کرنے والے سیاستدان اپنے ادوار پر نظر ڈالیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ خوشی ہوئی شہباز شریف کو مہنگائی کی بھی فکر ہے، شہباز شریف معیشت کو گہری کھائی میں گرا کر گئے۔ انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ پرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرض لے رہے ہیں،(ن) لیگ کی حکومت آئی تو 61 ارب ڈالر کے قرضے تھے لیکن جب ختم ہوئی تو قرضوں کا حجم 95 ارب ڈالر تک ہوگیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آج تو بلاول بھٹو زرداری نے افراط زر کی بات کرکے کمال کردیا، کاش انہیں اپنی حکومت میں افراط زر کی فکر ہوتی، پیپلزپارٹی دور حکومت کے پہلے 6 ماہ میں افراط زر کی شرح 10 فیصد تھی جب کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں افراط زر میں سب سے کم اضافہ ہوا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم نے بھارتی پائلٹ کو پاکستان کے مفاد میں رہا کیا۔یہ قوم کے اکٹھے کھڑے ہونے کا وقت ہے، یقینی طور پر حسن صدیقی قومی ہیرو ہیں، ونگ کمانڈر نعمان علی خان کو بھی نہ بھولیں جنہوں نے دوسرا جہاز گرایا۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں نہ جانا پارلیمنٹ کا مشترکہ فیصلہ تھا جس پر میں نے سر تسلیم خم کیا، اس دوران متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے رابطے میں تھا، کشمیر کے معاملے پر او آئی سی میں سخت الفاظ میں قرار داد پاس کی گئی۔شاہ محمود قریشی نے چیئرمین پی پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کا سوال بلاول اپنے نئے اتحادی سے پوچھیں، پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں تب ڈالا گیا جب آپکے نئے اتحادی کی حکومت تھی۔

قومی اسمبلی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود خارجہ پالیسی، معیشت اور دہشت گردی پر حکومت کیساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہیں، پاک فضائیہ دنیا کی بہترین فضائیہ ہے،دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھار ت کے درمیان جنگی کشیدگی کا ذمہ دار مودی ہے،گجرات کے قصاب کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں،یو این قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے،بد قسمتی سے قومی اسمبلی میں مالیاتی بل پر خاطر خواہ بحث نہیں ہوئی، مالیاتی بل میں جامع اور مؤثر بحث ہونی چاہیے،وزیر اعظم نے بھارتی پائلٹ کو حوالیکرنے میں جلد بازی کی،کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی پالیسی ختم ہونی چاہیے، ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسند کے خطرے سے جنگ کرنی ہوگی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھارت فضائیہ کی جانب سے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے پر پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ثابت کیا کہ پاک فضائیہ دنیا کی بہترین فضائیہ ہے۔انہوں نے کہاکہ قوم کو پائلٹ حسن صدیقی پر فخر ہے، ایل اوسی پر شہادت پانے والے جوانوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے معاملات پر ہم قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ ہیں، ہم سب کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو حوالے کرنے میں جلدی کی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مشکل کی گھڑی میں عسکری قیادت کا کردار قابل تحسین ہے، آرمی چیف کوسراہتے ہیں کہ جنہوں نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام اور بے نظیر بھٹو نے میزائل پروگرام دیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ دنیا کی بہترین فضائیہ ہے، حسن صدیقی کو خصوصی طور پر سراہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1971 کے بعد ننگی جارحیت کا ارتکاب کیا، دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھار ت کے درمیان جنگی کشیدگی کا ذمہ دار مودی ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا شاید نریندر مودی کو نہ جانتی ہو لیکن برصغیر کے مسلمان گجرات کے قصائی کو اچھی طرح جانتے ہیں، گجرات کے قصاب کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اچھے اور برے طالبان، پنجابی طالبان اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا کیا ہوا، کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی متضاد پالیسی کیوں منظور کی گئی، ہم کب تک دنیا کو کالعدم تنظیموں کے بارے میں معذرتیں پیش کرتے رہیں گے، کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی پالیسی ختم ہونی چاہیے، ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسند کے خطرے سے جنگ کرنی ہوگی، کون سا خودمختار ملک ایسی تنظیموں کو برداشت کرتا ہے، پارلیمنٹ اور پاکستان کی یہ پالیسی نہیں ہونی چاہیے، ان کا ٹرائل کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہم کیوں نیشنل ایکشن پلان پربھرپورعملدرآمد نہیں کررہے، کالعدم تنظیموں پر جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟وزیراعظم کو نوبل انعام دینے کی قرارداد سے متعلق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم کو نوبل انعام دینے کی قرارداد جمع ہوئی، اچھا ہے کہ قرارداد واپس لے لی گئی، حکومت نے ایک اور یو ٹرن لے لیا، مجھے معلوم نہیں کہ نوبل امن انعام کیلئے کیوں قرارداد آئی، افواج بارڈر پر شہید ہورہی ہیں اور نوبل انعام انعام کا کہا جارہا ہے قرارداد ایوان میں منظور ہوتی یا مسترد، پاکستان کی جگ ہنسائی ہونی تھی۔بلاول بھٹوزر اری نے کہا کہ بلوچستان جنوبی پنجاب فاٹا کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں، بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہمیں کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے، بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ آج کے فیصلوں کو نوجوانوں کو بھگتنا ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کی خوشحالی کے لئے کام کرنا ہے۔

بلاول

مزید : صفحہ اول