علیحدہ صوبہ لیکر رہینگے ‘ وسیب کو تقسیم کرنیکی پالیسی ترک کی جائے ‘ سرائیکی رہنما

علیحدہ صوبہ لیکر رہینگے ‘ وسیب کو تقسیم کرنیکی پالیسی ترک کی جائے ‘ سرائیکی ...

ملتان‘چوک مکول ( سپیشل رپورٹر‘نامہ نگار) بھارتی جارحیت کے خلاف پاک فوج کی فتح قوم کو مبارک ہو ، آج کی سرائیکی اجرک ریلی فتح کے حوالے سے ہے ، آئندہ سال کی اجرک ریلی سرائیکی صوبہ میں منائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکی رہنماؤں نے عظیم الشان سرائیکی اجرک ریلی (بقیہ نمبر41صفحہ7پر )

سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ ریلی چوک نواں شہر ملتان سے نکالی گئی ۔ ریلی کا اہتمام سرائیکستان صوبہ محاذ نے ملتان پریس کلب کے اشتراک سے کیا تھا۔ ریلی سے خواجہ غلام فریدکوریجہ ‘ ظہور دھریجہ ‘ سید مہدی الحسن شاہ ، اجالا لنگاہ ، شریف خان لشاری ‘ مہر مظہر عباس کات، عابدہ بخاری ‘ ملک اکرام ڈیوالہ‘ سید مطلوب بخاری ‘ مختار لنگاہ دو دیگر نے خطاب کیا ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ سرائیکی کلچر ڈے وسیب کی خوشی اور عید کا دن ہے ۔ آج صرف پورے سرائیکی وسیب ہی نہیں بلکہ پورے ملک اور بیرون ملک سرائیکی کلچر ڈے کی تقریبات منائی جا رہی ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا وسیب سے تعلق ہونے کے باوجود انہوں نے اس موقع پر خیر سگالی کا پیغام نہ بھیج کر کروڑوں افراد کی دل آزاری کی ہے ۔ حالانکہ یہ لوگ سرائیکی اجرک پہن کر ووٹ لئے اور وسیب کے بل بوتے پر بر سر اقتدار آئے ۔ آج ان لوگوں نے وسیب کو یکسر بھلا دیا ہے لیکن ہم سرائیکی اجرک کے ذریعے شناخت بھی حاصل کریں گے اور صوبہ بھی لیں گے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ وسیب کے لوگوں کی جدوجہد سے آئندہ سال سرائیکی اجرک ڈے ہم صوبہ سرائیکستان میں منائیں گے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ وسیب کو تقسیم کرنے اور وسیب کو ایک دوسرے سے لڑانے کی پالیسی ترک کی جائے اور حکومت اپنے وعدے کے مطابق صوبہ سرائیکستان کا قیام عمل میں لائے ورنہ ہم امن ریلی کی بجائے احتجاجی ریلیاں نکالیں گے ‘ دھرنے دیں گے اور لانگ مارچ کریں گے ‘ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ وسیب کے لوگ خیرات نہیں اپنا حق مانگتے ہیں ‘ ہماری اپنی تہذیب ، اپنی ثقافت اور اپنا جغرافیہ ہے ۔ ہم پنجاب یا خیرپختونخواہ والوں پر واضح کرتے ہیں کہ تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور سابقہ صوبہ ملتان کی حدود ، بشمول سابق ریاست بہاولپور صوبہ سرائیکستان بنایا جائے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ جس طرح دوسرے صوبے شناخت پر موجود ہیں ‘ اسی طرح ہمارا صوبہ بھی شناخت پر بنایا جائے۔ جنوبی پنجاب کی اصطلاح کو گالی سمجھتے ہیں ۔ یہ ٹرم لغوی اعتبار سے بھی غلط ہے کہ سرائیکی وسیب کے اضلاع میانوالی ‘ بھکر ‘خوشاب ‘ ٹانک ‘ ڈی آئی خان سمیت بہت سے اضلاع پنجاب کے جنوب میں نہیں آتے۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ مارچ کا پورا مہینہ سرائیکی اجرک کی تقریبات ہونگی ، ہم امن کا پیغام دیں گے ، ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں ، ہم نے اس ریلی کو بھی امن کا نام دیا ہے ۔ بھارتی جارحیت کی مذمت کی ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہمیں ڈی جی خان اور تونسہ کے نوجوانوں نے مادرِ وطن کے لئے قربانیاں دیں ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کو دیوار سے لگانے کی پالیسی بند کی جائے ‘ ان سے بنگالیوں والا سلوک نہ کیا جائے بلکہ ان کا حق ان کو دیا جائے بصورت دیگر وسیب کے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز بھی ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر سید محمد علی شاہ ‘ سید اختر گیلانی ‘ شگفتہ حبیب ‘ سحرش خان ‘ صدیق تھہیم ‘ صفدر شمسی ‘ سید مطلوب بخاری ‘ عامر شہزاد صدیقی ‘ مختار لنگاہ ‘ انجینئر تنزیل الرحمن‘ منور خورشید صدیقی ‘ ضیغم عباس قریشی ‘ سید عامر مشہدی ‘ سجاد ملک ، شعیب نواز بلوچ ‘ آصف اعوان ‘ احمد کامران مگسی ‘ مظہر جاوید ‘ یاسمین خاکوانی ‘ جام ذوالفقار کھونہارا ‘ ملک عباس ملنہاس ،رانا شہباز ‘ ندیم خان لشاری ‘ عید احمد دھریجہ ‘ جام فیض اللہ عادل نظامی ‘ انجم پتافی ‘ زبیر دھریجہ ‘ کاشف دھریجہ ‘ رضوان دھریجہ ‘ اجمل دھریجہ ‘ معیز بھٹہ ‘ عاقب محبوب ‘ چوہدری عامر ‘ ایاز محمود دھریجہ ‘ سلطان محمود دھریجہ ‘ الطاف خان ڈاہر ‘ ہوشو شیدی ‘ آصف دھریجہ ‘ بلال بھٹی ‘ نورالامین خاکوانی ‘ نغمہ نازل ، نازیہ اسلم ، محسن عقیل ، علی اوپل، راؤ عادل ، ملک جاوید اعوان ، وسیم قریشی ‘ سلطان محمود شاہین ، احمد سعید بیلار، ڈاکٹر مرتضیٰ ملتان ، میاں احمد نوشاب ہاشمی ، شیخ فیصل، فاروق فیض بھٹہ ، صابر حسین سولنگی ، صابر حسین تبسم سمیت دیگر سینکڑوں افراد شریک ہوئے ۔ اس موقع پر شعراء کرام عاشق صدقانی ‘ رانا امیر علی امیر‘ واقف ملتانی ‘ عارف گلشن ‘ اشرف باقر ‘رضوان ماہر ‘ فہد قتالپوری ‘ منیرن بلوچ ‘ زوار حسین زاری ‘ بشیر ملتانی ‘ بلال بزمی ‘ صادق سمرا ‘ ضمیر ہاشمی ‘ عابد حسین غازل ‘ جاوید شانی ‘ شاہدہ وفا ‘ نعیم انجم نے اپنا کلام سنایا اور عالمی شہرت یافتہ الغوزہ نواز غلام فرید کنیرہ ‘ ریڈیو ٹی وی کے معروف گلوکاروں نسیم سیمی ‘ ثوبیہ ملک‘ مقبول کھرل نے اپنی آواز کا جادو جگایا ۔ ریلی کے موقع پر ’’ تیڈی شان میڈی شان سرائیکستان سرائیکستان، پنجاب توں گھنسوں ، آزادی ، تخت لہور تخت پشور ڈوہیں چور ڈوہیں چور، جنوبی پنجاب نا منظور ، وسیب دی تقسیم نا منظور ، بہاولپور نہ ملتان صوبہ صرف سرائیکستان ‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے ۔ سرائیکی ثقافت کا دن منایا گیا جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے سرائیکیوں کیلیے نہایت اہمیت کا حامل ہے سرائیکی ثقافت پاکستان کے ثقافتی منظر نامے پہ نہایت حسین رنگ ہے مظفرگڑ? ملتان ڈیرہ غازی خان بہاولپور پر مشتمل خطے پہ بسنے والی قوم اپنی میٹھی زبان اور خوش اخلاقی و سادگی سے پہچانیجاتے ہیں محبوب احمد چنگوانی گدپور کی سماجی شخصیت سرائیکی قوم پرست ر?نما محبوب احمد چنگوانی نے اہنے بیان میں کہا کہ خطے میں بسنے والے عوام کے کردار کی تربیت میں صوفیاء4 کرام کا نہایت اہم کردار ہے سرائیکی زبان کی ثقافت پنجاب کے جنوب اور شمال مغرب تک پھیلی ہوئی ہے اس خطے کی سرحدیں سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سے جا ملتی ہیں یعنی چاروں صوبوں کے مرکز میں پایا جانے والا خطہ پاکستان کی سلامتی و بقا کا ضامن ہے یہ خطہ پاکستان بننے کے بعد صوبہ پنجاب کا ایک حصہ بلکہ پنجابی بھائیوں کا چھوٹا بھائی بن کر رہ رہا ہے لیکن بدقسمتی سے ملک کے اقتدار کے ایوانوں میں پلنے والی اشرافیہ اور کچھ اپنے سرائیکی جاگیرداروں کی مہربانی سے ہمیشہ سرائیکی خطے کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کاموں سے محروم رکھا گیاہے۔ صنعتی ترقی سے بھی اس خطے کو محروم رکھا گیا ہے اور زرعی اصطلاحات نا ہونے کے برابر ہونے کی وجہ سے کسان دن بدن ڈوبتے جا رھے ہیں۔ تخت لاھور کے والیان نے کبھی بھی گردونواح میں تعلیم، صحت اور صاف پانی کو ترستی عوام کی شنوائی نہیں کی جبکہ لاھور میں میٹرو ٹرین اور اورنج لائن کے منصوبے جاری ہیں۔ وسائل کی غیرمساوی تقسیم اور سوتیلے رویے سے تنگ آکر سرائیکی خطے سے انقلابی و احتجاجی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں جو اب رفتہ رفتہ ایوان کی ابحاث کا حصہ بن رہی ہیں میں پر امید ہوں کہ ایک نہ ایک دن اس خطے میں بسنے والی قوم کو بھی ملک کی دیگر قومیتوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے یہاں بھی صنعتی ترقی تعلیم صحت اور ذراعت سمیت ہر شعبے کی محرومیوں کا ازالہ ہوگا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر