’’منڈی ایپ‘‘ کے ذریعے زرعی معلومات کا ابلاغ

’’منڈی ایپ‘‘ کے ذریعے زرعی معلومات کا ابلاغ

محمد رفیق اختر

(ڈائریکٹرزرعی اطلاعات پنجاب)

جدید کاشتکاری میں زرعی معلومات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ کاشتکار تمام زرعی لوازمات مثلاً تصدیق شدہ بیجپیسٹی سائیڈز اور کیمیائی کھادوں کی دستیابی کے باوجود اگر ان زرعی مداخل کے طریقہ استعمال کے بارے میں معلومات نہیں ہیں تو مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے تمام زرعی مداخل (Inputs) کے ساتھ زرعی معلومات (Information input) بھی از حد ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق کاشتکاروں کو تمام فصلات کی کاشت سے برداشت تک پیداواری ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات درکار ہوتی ہیں۔ در حقیقت ایک کاشتکار کو جدید زراعت کے لیے مختلف معلومات کی تمام مراحل پر ضرورت ہوتی ہے۔ جن میں مختلف فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی پیداواری ٹیکنالوجی، حکومت کی پالیسیوں کے متعلق انفارمیشن، موسمی پیش گوئی، زرعی مارکیٹنگ کے متعلق معلومات کے علاوہ زمین، کھاد، پیسٹی سائیڈز، اصلاح آبپاشی، بیماریوں اور کیڑوں پر کنٹرول کے موثر طریقوں کے متعلق فنی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ کاشتکاروں کی ’’انفارمیشن ضرورت‘‘ کو پورا کرنے کے لئے محکمہ زراعت کی طرف سے ’’منڈی ایپ‘‘ کا اجراء کیا گیا ہے۔ ’’منڈی ایپ‘‘ کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات کاشتکاروں کی سہولت کے لئے www.amis.pk پر اپ لوڈ کی جائیں گی۔ اس سے کاشتکاروں کو صوبہ پنجاب کی مختلف منڈیوں میں زرعی اجناس کی قیمتوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گیا ور وہ اپنی پیداوار منافع بخش طور پر فروخت کر سکیں گے۔ پہلے مرحلے میں ’’منڈی ایپ‘‘ پر 17 زرعی منڈیوں کے بارے مںی معلومات شامل کی جائیں گی جن میں لاہور بادامی باغ اور کوٹ لکھپت (کاچھا منڈی)، فیصل آباد، سمندری، چنیوٹ، ملتان، میاں چنوں، وہاڑی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، چیچہ وطنی، عارف والا، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف، بہاولپور اور رحیم یار خان شامل ہیں۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے کاشتکاروں کو زرعی اجناس کی منڈیوں میں آمد کی تفصیل اور نیلامی کی قیمتیں ویب سائٹ پر کاشتکاروں کے لئے دستیاب ہوں گی۔ جس کے نتیجے میں محکمہ زراعت پنجاب زرعی منڈیوں کو بہتر طور پر ریگولیٹ کر سکے گا اور مارکیٹ کمیٹی کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی طرف سے زرعی منڈیوں میں تمام مارکیٹنگ سرگرمیوں کو ’’منڈی ایپ‘‘ کے ذریعے ڈیجٹیائز کیا جا رہا ہے جس سے منڈیوں میں آمدہ اجناس، نیلامی کی قیمت اور مارکیٹ فیس کی وصولی کی ریکارڈنگ یقینی بنائی جائے گی جس سے مارکیٹ کمیٹی کی آمدن بڑھانے اور کاشتکاروں کو زیادہ سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ حکومت پنجاب کی طرف سے کاشتکاروں کی سہولت کے لیے صوبہ پنجاب میں پہلے سے موجود مارکیٹس کو ماڈل مارکیٹس کا درجہ دینے کے علاوہ ان میں زرعی اجناس کی آمد کے متعلق تمام ڈیٹا کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ حکومت پنجاب زرعی مارکیٹنگ کے نظام سے اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے پیمرا (PAMRA)قانون میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ مارکیٹ کمیٹیوں کے ریکارڈ کی آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن کی جا رہی ہے اور 60 مارکیٹوں میں سہولیات کی فراہمی کے منصوبہ کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے جبکہ لکھو ڈیرہ (لاہور) میں ماڈل مارکیٹنگ کمپلیکس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ان تمام اقدامات سے یقیناً صوبہ میں زرعی مارکیٹنگ کے نظام میں بہتری آئے گی اور کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کا معقول معاوضہ مل سکے گا۔

***

مزید : رائے /کالم