تین ماہ گزر چکے ،رقم وصول کیوں نہیں کی؟سپریم کورٹ زیرزمین پانی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس میں برہم

تین ماہ گزر چکے ،رقم وصول کیوں نہیں کی؟سپریم کورٹ زیرزمین پانی کی قیمتوں کے ...
تین ماہ گزر چکے ،رقم وصول کیوں نہیں کی؟سپریم کورٹ زیرزمین پانی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس میں برہم

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے زیرزمین پانی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس میں کمپنیوں سے رقم وصول نہ کرنے پر برہم کا اظہار کیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے زیر زمین پانی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کی،کمپنیوں اور صوبائی حکومتوں کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ابتک کتنے نوٹیفکیشن جاری ہوئے اور کتنی رقم جمع ہوئی؟گزشتہ سماعت تک کوئی رقم اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔

وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ مانیٹرنگ شروع کردی ہے رقم کاتعین کیا جارہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تین ماہ گزر چکے ابھی رقم جمع کیوں نہیں کی گئی،ایک روپے فی لٹر کے حساب سے رقم جمع کیوں نہیں کی گئی۔

وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ حکم نامہ پر عملدرآمد کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس پر کچھ اعتراضات آئے ،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ کچھ نظرثانی اپیلیں دائر ہیں جس کی وجہ رقم اکٹھی نہیں ہو رہی ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نظرثانی کا مطلب حکم امتناع نہیں ہے ،حکم نامے میں طے شدہ طریقہ کے مطابق رقم وصول کی جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکم نامہ میں لکھا ہے میٹرلگے گا اور اس حساب سے رقم وصولی ہوگی ۔

وکیل بلوچستان حکومت نے کہاکہ کوئٹہ میں ایک فیکٹری کا99 دن کا بل ایک کروڑ14 لاکھ روپے آیا،بل کی عدم ادائیگی پر فیکٹری سیل کردی گئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیافیکٹریوں میں میٹرلگا دیئے گئے ہیں اورریڈنگز ہو رہی ہیں؟ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ کے پی میں کل 36 کمپنیاں تھیں،6 کمپنیوں کو عدم تعاون پر بند کردیا گیا،میٹرنگ کے کچھ مسائل آرہے ہیں جن کو جلد حل کر لیا جائے گا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد