عمران خان کو پاکستان میں بھارت کے فضائی حملے کا کب پتہ چلا اور پاکستان کب سے تیاریاں مکمل کرچکا تھا؟ وزیراعظم سینئر صحافیوں کو اندر کی بات بتادی

عمران خان کو پاکستان میں بھارت کے فضائی حملے کا کب پتہ چلا اور پاکستان کب سے ...
عمران خان کو پاکستان میں بھارت کے فضائی حملے کا کب پتہ چلا اور پاکستان کب سے تیاریاں مکمل کرچکا تھا؟ وزیراعظم سینئر صحافیوں کو اندر کی بات بتادی

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) گزشتہ ماہ بھارت کے طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے بعد پاک فضائیہ کے طیاروں نے بھارتی حدود میں چھ مقامات کو نشانہ بنایا اور راستے میں آنیوالے بھارتی فضائیہ کے دوطیاروں کو تباہ کرکے ایک پائلٹ کو بھی حراست میں لے لیاگیا جسے بعد ازاں رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا گیا، اب اس بارے میں وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے بات چیت کی ہے جس کے  مندرجات سینئر صحافی ارشاد بھٹی سامنے لے آئے۔

روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں ارشاد بھٹی نے لکھا کہ ’’وزیراعظم سیکرٹریٹ کا چھٹا فلور، دربا ر ہال اور  35صحافی، وزیراعظم اڑھائی منٹ بولے، پھر سوال جواب شروع ہوگئے،بھارتی حملے کی بات ہوئی، وزیراعظم نے بتایا، مجھے رات کے آخری پہر پتا چلا، آرمی چیف، ائیر چیف سے بات کی، دو راستے تھے،جوابی حملہ یا صبر سے کام لینا، بڑا نازک وقت تھا، ہم جوابی حملہ کر سکتے تھے، اہداف بھی طے تھے، جب پتا چلا بھارتی بمباری سے کوئی جانی، مالی نقصان نہیں ہوا تو پونے دوارب انسانوں، اس خطے، امن کیلئے ہم نے’ ان پاپولر‘ فیصلہ کیا، میں سمجھتا ہوں، یہ ہمارا بہترین فیصلہ، ورنہ اب تک باقاعدہ جنگ ہورہی ہوتی، پلوامہ، بالاکوٹ، یہ سب کیوں، وزیراعظم کا کہنا تھا، ہمیں پتاتھا کہ مودی الیکشن کے قریب آکر کچھ کرے گا،پلوامہ ہواتو ہم محتاط ہوگئے، جب مودی نے الزام ہم پر لگا دیا تو ہم نے اپنی تیاری مکمل کر لی، ہمیں معلوم تھا کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔

 وزیراعظم بتارہے تھے ’’یہ پاکستان پر اللہ کا خاص کرم، ہر محاذپربھارت ناکام، ہمارا پلڑا بھاری، مجھے اپنی فوج،آئی ایس آئی پر فخر، اب ہمیں بھارت یا دنیا کو خوش کرنے کیلئے نہیں، اپنے لئے، اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ اقدامات اٹھانا ہوں گے، نان اسٹیٹ ایکٹرز سے نمٹنا،کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو قومی دھارے میںلانا، انہیں نوکریاں، روزگار دینا، ہم بھارت سے تو جنگ لڑ سکتے ہیں، پوری دنیا سے نہیں، دنیا کہہ رہی کہ گھر کی صفائی کرو، پچھلی حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کر کے مجرمانہ غفلت کی ‘‘، یہ بیٹھک سوا گھنٹہ رہی، عمران خان، اسد عمر کے ہمراہ گئے تو ہم نے چائے کا کپ پیا فواد چوہدری، یوسف بیگ مرزا کے ساتھ، پندرہ بیس منٹ اس میں لگے، پھر واپسی‘‘۔

مزید : قومی