پی آئی اے کو روزانہ کتنا نقصان ہو رہا ہے ؟افسوسناک اعداد و شمار سامنے آگئے

پی آئی اے کو روزانہ کتنا نقصان ہو رہا ہے ؟افسوسناک اعداد و شمار سامنے آگئے
پی آئی اے کو روزانہ کتنا نقصان ہو رہا ہے ؟افسوسناک اعداد و شمار سامنے آگئے

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ میں حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(پی آئی اے)کو روزانہ 10کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ماہانہ ڈیڑھ سے2ارب صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں ادا کرنا پڑتا ہے،پی آئی اے کے پاس 32جہازوں کیلئے 479پائلٹس ہیں،بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح 1200فٹ نیچے چلی گئی ہے، زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کیلئے بلوچستان میں بڑی تعداد میں درخت لگانے کی ضرورت ہے،اسلام آباد میں صرف بائیو ڈی گریڈ ایبل شاپنگ تھیلے استعمال کرنے کی اجازت ہے ، ملک کے تمام ایئرپورٹس، بڑے تعلیمی اداروں اور شاہراؤں کے نام قومی ہیروز کے ناموں کے ساتھ منسوب کرنے کی تجویز زیر غور ہے،اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام قائداعظم کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزرائے مملکت علی محمد خان اور زرتاج گل نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹرز کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہرتاج روغانی کے سوال کے جواب میں وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یکم اپریل 2013 سے پلاسٹک کے استعمال کو ممنوع قرار دیاگیا تھا، اسلام آباد میں صرف بائیو ڈی گریڈ ایبل شاپنگ تھیلے استعمال کرنے کی اجازت ہے جبکہ وہ پلاسٹک مصنوعات جو ضائع نہ ہوتی ہوں ان کے استعمال، درآمد، تیاری کی اجازت نہیں ہے۔سینیٹر جہانزیب جمالدینی کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اپریل سے دسمبر 2018کے دوران ایران سے 896.41ملین ڈالر کی درآمدات ہوئیں جبکہ اسی عرصہ کے دوران 208.52ملین ڈالر کی برآمدات ایران کو کی گئیں، ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست تجارت کا حجم نہیں بڑھ رہا،پاکستان میں برآمدات کو بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

سینیٹر بہرمند خان تنگی کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ پی آئی اے کے پاس فلائٹ کے دوران ملک کے اندر اور باہر کیٹرنگ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے وسیع نیٹ ورک ہے، پی آئی اے کراچی اور اسلام آباد میں اپنے طور پر ہی فلائٹ کچن سہولیات کیلئے کھانا بناتا ہے جبکہ لاہور، فیصل آباد، پشاور، ملتان، سیالکوٹ اور8غیر ملکی سٹیشنز میں فلائٹ میں کھانا فراہم کرنے کے ٹھیکے دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ پی آئی اے دیگر غیر ملکی ایئر لائنز کے معیار کے مطابق کھانا فراہم نہیں کر رہا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پشاور ایئرپورٹ کی توسیع اورتجدید کا منصوبہ مئی 2019تک مکمل کرلیا جائے گا۔ علی محمد خان نے کہا کہ میں نے کابینہ اجلاس میں تجویز دی ہے کہ ملک کے تمام ایئرپورٹس، بڑے تعلیمی اداروں اور بڑی شاہراؤں کے نام قومی ہیروز کے ناموں کے ساتھ منسوب کئے جائیں، وزیراعظم عمران خان نے میری تجویز کی تائید کی ہے،اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام قائداعظم کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز بھی میں نے کابینہ میں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے عرب ممالک میں براہ راست فلائٹس شروع کررہے ہیں، جس سے پشاور اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کا فائدہ ہو گا۔

سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح 1200فٹ نیچے چلی گئی ہے، زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کیلئے بلوچستان میں بڑی تعداد میں درخت لگانے کی ضرورت ہے،گرین پاکستان پروگرام کے تحت بلوچستان میں ابھی تک 25لاکھ40ہزار475درخت لگائے جاچکے ہیں۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے سوال کے جواب میں ایوی ایشن ڈویژن نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے کا روزانہ کا خسارہ 100ملین روپے ہے،جس میں اہم مالیاتی لاگت ہے، قرضوں پر شرح سود کی لاگت تقریباً 1.5سے 2ارب روپے فی ماہ ہے، دوسرے بڑے اخراجات میں ایندھن کی قیمتیں و دیگر اخراجات ہیں، اس کے علاوہ مزید جہازوں کی لیزنگ بھی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ایوی ایشن ڈویژن نے اپنے تحریری جواب پر ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس 32جہازوں کیلئے 479پائلٹس ہیں، ایک طیارے کیلئے پائلٹس کا تناسب 12ہے۔

مزید : قومی