عالمی طاقتیں مدرسے کے کردار کو ختم کرنیکی سازشیں کررہی ہیں‘ مولانا فضل الرحمن

عالمی طاقتیں مدرسے کے کردار کو ختم کرنیکی سازشیں کررہی ہیں‘ مولانا فضل ...

  



ملتان (سٹی رپورٹر)عالم اسلام کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ خیرالمدارس ملتان کے 93 ویں سالانہ اجتماع و اختتام بخاری شریف کی عظیم الشان و پروقار تقریب جدید جامع مسجد خیرالمدارس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ آج میں اپنے طلبہ کو ایک(بقیہ نمبر36صفحہ12پر)

ہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تم اسلام کے پہرے دار اور چوکیدار بننے کا عہد کرو اور زندگی بھر اس پر کاربند رہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ چوکیداری دلائل کی طاقت اور اخلاق کی قوت سے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ شدت کے قائل ہیں اور نہ جدت کے قائل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں تمہیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ ہمیشہ پاکستان کے وفادار رہنا ہمارے اسلاف کا قیام پاکستان میں بہت بڑا حصہ ہے لہٰذا یہ ہمارے اسلاف کی نشانی ہے اور اس کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان دہشت گردی کا شکار تھا تو حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہم نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ پاکستان میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا کوئی جواز نہیں ہے اور پھر اس فتوے پر ملک بھر کے علمائے کرام نے دستخط کیے۔انہوں نے جامعہ خیرالمدارس کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کے تمام ممالک میں جامعہ خیرالمدارس کے فیض یافتگان دینی خدمات میں مصروف ہیں حتیٰ کہ عالم اسلام کے مراکز حرمین شریفین میں بھی جامعہ خیرالمدارس کے فیض یافتگان قرآن کریم کی خدمت میں مصروف ہیں شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا زیدمجدہم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے لیکن ختم نبوت کا تاج صرف امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر رکھا اس ختم نبوت کی برکت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال و افعال محفوظ ہیں اسی طرح صحابہ کرام اور حضرات اہل بیت کے احوال بھی محفوظ ہیں دیگر انبیاء میں سے صرف پچاس انبیاء علیہم السلام کے نام محفوظ ہیں۔شیخ الاسلام اور عالم اسلام کے عظیم مفکر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ خیرالمدارس آپ کے لئے مادر علمی ہے مگر میرے لئے جد علمی ہے کیونکہ میرے وہ استاذ جنہوں نے میری انگلی پکڑ کر مجھے علم کی راہوں پر چلنا سکھایا یعنی مولانا سبحان محمودؒ جامعہ خیرالمدارس کے فاضل تھے یہی وجہ ہے کہ خیرالمدارس میں میری جب بھی حاضری ہوئی تو طبیعت میں انشراح اور مسرت کی کیفیت محسوس ہوئی۔ انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس آخری درس کے بعد آپ کی ضابطے کی طالب علمی ایک حد تک ختم ہو جائے گی۔ لیکن یاد رکھیے کہ ضابطے کی طالب علمی ہی ختم ہو گی ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ طالب علمی مرتے دم تک جاری رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام بخاری نے جن باطل فرقوں پر رد کیا ہے وہ اپنے زمانے کے متجددین اور عقلیت پسند فرقے تھے ان کو اس زمانے کی حکومتوں کی سرپرستی بھی حاصل تھی لیکن آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں، آج بھی جو لوگ جدیدیت اور عقلیت کی بنیاد پر دین کی نئی تعمیر اور ماڈرن اسلام کا نظریہ پیش کر رہے ہیں آپ دیکھیں گے کہ یہ بھی بہت جلد تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائیں گے جدیدیت کے نعرے لگانے والوں کے گلے سوجھ جائیں گے انہوں نے فرمایا کہ کسی عمل کے عنداللہ مقبول ہونے کی دو شرطیں ہیں ایک تو یہ کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہو اور دوسری یہ کہ اس عمل میں اخلاص ہو۔ اگر کسی شخص میں اخلاص تو ہے لیکن عمل سنت کے مطابق نہیں ہے تو اس عمل کی کوئی حیثیت نہیں چنانچہ ہندو جوگی بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں اور ان میں اخلاص بھی ہوتا ہے لیکن اس عمل کی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص عمل تو درست کر لے لیکن نیت میں اخلاص نہیں ہے تو اس عمل کی بھی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں۔ لہٰذا اللہ کے ہاں صرف وہی عمل معتبر ہے جو اخلاص کے ساتھ اور سنت کے مطابق ہو لہٰذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مقاصد شریعت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ان کا یہ نظریہ غلط ہے انہوں نے اکابر علمائے دیوبند کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکابر علمائے دیوبند محض نقوش و الفاظ کے عالم نہیں تھے بلکہ ان کا تزکیہ بھی اس اعلیٰ درجہ کا تھا کہ جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ حضرت شیخ الاسلام کے خطاب کے بعد جامعہ سے اس سال مختلف درجات کی تعلیم مکمل کرنے والے 724 طلبہ کی دستار بندی ہوئی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابر نے مدارس دینیہ کی بنیاد تعلیم اور تربیت پر رکھی ہے اور اس کی وجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں ہیں ”انما بعثت معلما“ اور ”انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ ہمارے ہاں عصری تعلیمی اداروں میں تعلیم تو ہے مگر تربیت کے معاملے میں تہی دامنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین پڑھنے والے طالب علم کا تعلق طالب علمی کے زمانے میں تین چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے مدرسہ، کتاب اور استاذ اور اگر طالب علم کا ان تینوں کے ساتھ ادب کا تعلق ہو گا تو وہ اکتسابِ فیض کر لے گا ورنہ محروم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب عقل کو وحی کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے تو عقل درست کام کرتی ہے اور وحی کی روشنی کے بغیر محض عقل گمراہی کی جانب لے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر کی کفریہ طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ معاشرے میں مدرسہ کے کردار کو ختم یا کم سے کم کر دیا جائے۔انہوں نے مدرسہ اصلاحات کے لفظ کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس لفظ میں میرے مدارس کی توہین ہے اس کی بجائے تعلیمی اصلاحات کا لفظ استعمال کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ مدارس کے نظام میں مداخلت کر رہے ہیں اہل مدارس کو چاہئے کہ ان کے سامنے ایسے ڈٹ جائیں جیسے طالبان امریکہ کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔اس اجتماع سے حضرت مولانا مفتی محمد حسن، مولانا شبیرالحق کشمیری، مفتی محمد انور اوکاڑوی، مفتی محمد عبداللہ نے بھی خطاب کیا۔نیز اجتماع میں جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد طیب، سید کفیل شاہ بخاری، خواجہ خلیل احمد، پیرناصرالدین خاکوانی کے علاوہ ملک و بیرون ملک سے علمائے کرام و مشائخ عظام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یہ اجتماع حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی دعا پر اختتام پذیر ہوگیا۔

سیمینار

مزید : ملتان صفحہ آخر