اجرک ریلی‘سینکڑوں افراد کی شرکت‘ سرائیکی جھمر‘ نعرے بازی

اجرک ریلی‘سینکڑوں افراد کی شرکت‘ سرائیکی جھمر‘ نعرے بازی

  



ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکستان صوبہ محاذ کی طرف سے چوک گھنٹہ گھر تا ملتان پریس کلب تک سرائیکی اجرک ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت سرائیکستان صوبہ محاذ کے شریک چیئرمین ظہور دھریجہ‘ سرائیکی رہنما مہر مظہر کات، سید مہدی الحسن شاہ، عابدہ بخاری، رانا ذیشان (بقیہ نمبر47صفحہ12پر)

نون، شریف خان لشاری و دیگر نے کی۔ شدید بارش کے باوجود ریلی میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر حاضرین کو سرائیکی اجرکیں پہنائی گئیں اور سرائیکی نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر سرائیکی جھمر ڈالی، ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ سرائیکی ثقافت کے دن کے موقع پر ہم حکومتی بے حسی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، سرائیکی وسیب کے خرچ پردوسری ثقافتوں کے تہوار منانے والے حکمرانوں کو ہم وارننگ دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے سندھی بلوچی پشتو اور پنجابی کی طرح سرائیکی ثقافتی تقریبات کا اہتمام نہ کیا تو پھر احتجاج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وسیب کی تہذیب و ثقافت سے مذاق کرنا بند کیا جائے کہ سرائیکی ثقافت محبت کی علامت ہے اور سرائیکی اجرک امن کا جھنڈا ہے۔ لیکن ہم واضح کر رہے ہیں کہ وسیب کے لوگ جھمر کھیل رہے ہیں، یہ ہماری ثقافت بھی ہے اور ایک طرح کا احتجاج بھی کہ سرائیکی وسیب کے کروڑوں افراد کے ساتھ مسلسل دھوکہ ہو رہا ہے۔ نیلی اجرکیں پہن کر صوبے کے وعدے پر ووٹ لینے والے آج صوبے کا بھولے سے نام بھی نہیں لے رہے۔ حکمرانوں کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی شکست سے سبق حاصل کرنا چاہئے، اگر موجودہ حکمران صوبے کا وعدہ پورا نہیں کرتے تو ان کا انجام ان سے بھی بدتر ہوگا۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ ہم اپنی ثقافت اور اپنی شناخت کی طاقت سے صوبہ لیں گے، صوبہ نوشتہ دیوار ہے، صوبے کے قیام کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ آج نوجوان اتنے سخت اور شدید موسم میں سڑکوں پر آئے ہوئے ہیں تو حکمرانوں کو ان کے چہرے پڑھ لینے چاہئیں۔ سرائیکی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے پارلیمانی جماعتوں سمیت سب کو دعوت دی تھی، سرائیکی ثقافت کے دن میں شرکت نہ کر کے انہوں نے وسیب سے بے اعتنائی کی ہے۔ وسیب کے لوگ ایسے لوگوں کو مسترد کر دیں گے کہ انہی کے ووٹوں سے وہ ایوانوں میں اور کابینہ میں پہنچے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر کہا گیا کہ ہم لفظ جنوبی پنجاب کو گالی سمجھتے ہیں اور اسی طرح صوبہ مانگتے ہیں جس طرح دوسرے صوبے ہیں۔ وسیب کے لوگوں سے بنگالیوں والا سلوک بند کیا جائے کہ پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، اس میں سب سے زیادہ قربانیاں وسیب کے لوگوں نے دی ہیں اور ہم ہی انشاء اللہ سرائیکی صوبہ بنا کر وفاق کو متوازن کریں گے اور پاکستان کو استحکام دیں گے۔

نعرے بازی

مزید : ملتان صفحہ آخر