بارش ژالہ باری گندم باغات کو نقصان چھتیں گرنے سے خاتون سمیت 3افراد جااں بحق  

بارش ژالہ باری گندم باغات کو نقصان چھتیں گرنے سے خاتون سمیت 3افراد جااں بحق  

  



ملتان (سپیشل رپورٹر‘نیوز رپورٹر) ملتان میں 3 روز سے وقفے وقفے سے جاری بارشوں کے باعث واسا میں ایمرجنسی کا سلسلہ برقرار ہے جمعرات کی شب موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوتے ہی واسا میں ہائی الرٹ جاری کرکے ایمرجنسی نافذ کردی گئی تمام سیوریج اور ڈسپوزل اسٹیشن ڈویژنوں کے افسران، فیلڈ سٹاف کو ہنگامی بنیادوں پر فیلڈ میں طلب کرکے شہر (بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

بھر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا اور رات بھر نکاسی آب کا آپریشن جاری رہنے کے بعد صبح کے اوقات دوسری شفٹ نے ذمہ داریاں سنبھال لیں اس دوران ایم ڈی واسا نسیم خالد چانڈیو نے مختلف ڈسپوزل اسٹیشنوں،کچہری روڈ،ایل ایم کیو روڈ، میٹرو روٹ،ممتاز آباد،وہاڑی روڈ، بوسن روڈ،گلگشت،دولت گیٹ، کلمہ چوک، پرانا بہاولپور روڈ، چوک رشید آباد، نشتر روڈ، ابدالی روڈ،واٹر ورکس روڈ،شاہین مارکیٹ،خونی برج سمیت شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا اور انہوں نے نکاسی آب کے آپریشن کو بھرپور طریقے سے سرانجام دینے پر ٹیموں کی کارکردگی کی تعریف کی اس دوران ایم ڈی واسا کو ڈسپوزل اسٹیشنوں پر ریکارڈ کی گئی بارش سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی رپورٹ کے مطابق چونگی نمبر 9ڈسپوزل اسٹیشن پر 34.5 ملی میٹر، سمیجہ آباد ڈسپوزل اسٹیشن پر56.5 ملی میٹر، کڑی جمنداں 34 ملی میٹر، پرانا شجاع آباد روڈ ڈسپوزل اسٹیشن پر 26ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی ہے جس پر ایم ڈی واسا نسیم خالد چانڈیونے تمام سیوریج افسران کو شاہراوں کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقوں سے بھی بارش کے پانی کو بروقت نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی اور انہوں نے اس دوران کمشنر ملتان ڈویژن شان الحق اور ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کو بھی نکاسی آب سے متعلق کارکردگی رپورٹ پیش کی اور تمام افسران کو بارش کے پانی کی نکاسی تک فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ملتان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی 58ملی میٹر بارش نے معمولات زندگی درہم برہم کرکے رکھ دیئے واسا انتظامیہ تمام تر دعوؤں کے باوجود شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام،بارش کے ساتھ ژالہ باری کے نتیجہ میں ہزاروں ایکڑ پر کاشتہ گندم سمیت ربیع کی فصلیں تباہ ہوکر رہ گئیں باغات کو بھی نقصان، ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وفقہ وقفہ سے ہونے والی بارش حالیہ سیزن کی ریکارڈ 58ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس نے واسا کے ایمرجنسی پلان کی قلعی کھول کررکھ دی ہے مذکورہ بارش کے نتیجہ میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے جبکہ سٹرکیں،گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ واسا انتظامیہ تمام تر دعوؤں کے باوجود شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی دوسری جانب بیشتر دیہی علاقوں میں بارش کے ساتھ ہونے والی ژالہ باری کے نتیجہ میں گندم سمیت ربیع کی فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور وہ تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ماہرین زراعت کے مطابق آم سمیت باغات کو بھی نقصان ہوگا۔پانی کا دباؤ بڑھنے کے نتیجہ میں پرانا شجاعباد روڈ کے علاقے بلال چوک کے نزدیک واسا کی 48انچ قطر کی مین سیوریج لائن پر کراؤن فیلئرکا واقع بھی رونما ہوا ہے جس کے باعث واسا افسروں کی دوڑیں لگ گئیں۔واسا انتظامیہ نے سیوریج سسٹم پر پانی کا دباؤ کم کرنے کیلئے گزشتہ روز 25واٹر سپلائی اسٹیشنوں سے واٹر سپلائی کی فراہمی کا سلسلہ بھی بند رکھا اور اس کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مشروط کرتے ہوئے واسا صارفین کو ٹرخا دیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ا ٓج مزید بارش نہیں ہوگی تاہم مطلع جزوی ابر آلود رہے گا۔ ملتان میں حالیہ بارشوں کے سلسلے کے دوران گزشتہ روز پرانا شجاع آباد روڈ بلال چوک کے قریب کراؤن فیلیئر کی اطلاع ملتے ہی منیجنگ ڈائریکٹر واسا نسیم خالد چانڈیو موقع پر پہنچ گئے انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر سیوریج عرفان علی کو موقع پر طلب کرلیا اور اپنی نگرانی میں موقع پر حفاظتی اقدامات کروائے اس دوران ایم ڈی واسا کو بتایا گیا کہ بلال چوک پر 48 انچ سائز کی لائن پر کراؤن فیلیئر کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ لائن تیس سال سے زائد عرصہ پرانی اور بوسیدہ ہے اور پہلے بھی اس سیوریج لائن پر کراؤن فیلیئر کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ منڈی مویشیاں  جسونت گڑھ میں  بارشوں کے باعث زمین جھیل کی شکل اختیار کر گئی ہے، ہوٹل، کینٹین، کھوکھاجات توڑی پرالی اور چارے کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے علاو?ہ ازیں منڈی مویشیاں  میں  جنوری 2020سے ترقیاتی کام بھی شروع ہیں  ، 50فیصد منڈی کی زمین پر ٹھیکہ داروں نے ترقیاتی کاموں  کا آغاز بھی کردیا ہے، زمین کی تنگی کے باعث 80سے 90فیصد عارضی کھوکھا، ہوٹل مالکان اور چارہ فروخت کرنیوالوں کی دوکانیں بھی بندہو گء ہیں۔رہی سہی کسر ملتان میں  ہونے والی بارشوں نے پوری کردی ہے، ٹھیکہ دار محمد صادق، کامران ڈوگر نے چیئرمین کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی و کمشنر ملتان شان الحق، ایم ڈی کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی ڈاکٹر حمادسمیت دیگر بورڈ آف ڈائریکٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ منڈی مویشیاں جسونت گڑھ میں  کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، کمپنی حکام تاجروں  کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔ مزید برآں ٹھیکیداروں نے بتایا کہ ان کے علاو?ہ ان کا ذریعہ روزگار بھی کوء اور نہ ھے۔جبکہ ملتان شہر و گرد و نواح میں ہونیوالی بارشوں کے باعث متعدد فیڈر کی بندش سے بجلی کی سپلائی کئی کئی گھنٹے تعطل کا شکار رہی ہے جس کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے ہیں اور نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا بجلی کی اس آنکھ مچولی نے میپکو تنصیبات و کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا۔ شہر کے متعدد علاقوں میں پچھلے تین دن سے بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا جبکہ حسن پروانہ فیڈر کی بندش سے متعلقہ علاقے جمعرات سے جمعہ دوپہر تک بجلی کی سپلائی نہ ہونے کے باعث اندھیرے میں ڈوبے رہے ہیں جس سے صارفین بالخصوص گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے صارفین کے مطابق میپکو حکام کی جانب سے بلوں میں بجلی چارجز کے علاوہ ہزاروں روپے مختلف ٹیکسز کی مد میں وصولی کی جاتی ہے جو ملک بھر کی سطح پر اربوں روپے بنتے ہیں اور بجلی کا نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ زرا سی بارش ہونے پر غیر اعلانیہ پورا شہر اندھیرے کی نذر کردیا جاتا ہے جو میپکو حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے انہوں نے مزید کہا کہ صارفین بجلی کے چارجز سمیت نصف درجن ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب کو بھگتنے پر مجبور کردینا سراسر ناانصافی بلکہ ظلم کے مترادف ہے میپکو حکام کو سسٹم اپ ڈیٹ کرکے صارفین کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے نجات دلائیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر