ایرانی سپریم لیڈر کا بھارتی قیادت کو صائب مشورہ

ایرانی سپریم لیڈر کا بھارتی قیادت کو صائب مشورہ

  



ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے قتل ِ عام پر دُنیا بھر کے مسلمانوں کا دِل رنجیدہ ہے،انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل ِ عام کو روکے اور خود کو مسلمان دُنیا میں تنہا ہونے سے بچائے۔وزیراعظم عمران خان نے ایرانی رہنما کی جانب سے بھارتی مسلمانوں کے قتل ِ عام کی مذمت میں بیان جاری کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ترک صدر اور ایرانی رہبر اعلیٰ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت میں مسلمانوں کے قتل ِ عام کے خلاف آواز بلند کی ہے،جس پر ہم اُن کے شکر گزار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر اور پورے بھارت میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے،افسوس مسلم دُنیا میں چند ہی آوازیں اس کی مذمت کر رہی ہیں،حالانکہ مغرب میں زیادہ آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

ایران کے بزرگ مدبر رہنما نے بھارت میں مسلمانوں کے قتل ِ عام کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو بڑا صائب مشورہ دیا ہے کہ اس طرح وہ مسلمان ممالک میں تنہا ہو جائے گی، بھارتی حکومت کو اس مشورے پر غور کرنا چاہئے، ویسے اگر مسلمان دُنیا متحد ہو کر ان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی اور اپنی اقتصادی اور دوسری مصلحتوں کو چنداں اہمیت نہ دیتی تو بھارت کو اس طرح کے اقدامات کی شاید ہمت نہ ہوتی، وہاں مسلمانوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ حکومت کی انتہا پسندوں کے ساتھ ملی بھگت کا نتیجہ ہے،یہ کوئی ایسے فسادات نہیں ہیں جو یک بیک پھوٹ پڑے ہوں اور بے قابو ہو گئے ہوں۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجری وال نے فسادات پر قابو پانے کے لئے فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی،لیکن مرکزی حکومت نے اس پر توجہ نہ دی، دارالحکومت کی پولیس وزیر داخلہ کے ماتحت ہے اور امیت شاہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنے دِل میں کس قدر بغض اور کینہ رکھتے ہیں۔اب تو بی جے پی کے ایک دوسرے رہنما نے کہہ دیا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو دسمبر2021ء تک بھارت سے نکال دیا جائے گا، ایسے اعلانات کسی منظم منصوبہ بندی کی جانب اشارہ کرتے ہیں،لیکن اس کے جواب میں خود مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو ہمت و حوصلے کے ساتھ کھڑے ہونا ہو گا یہ درست ہے کہ وہ اقلیت میں ہیں،لیکن صرف مسلمانوں کی تعداد بیس بائیس کروڑ سے متجاوز ہے وہ اگر دوسری چھوٹی اقلیتوں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے لئے ڈٹ جائیں اور ظلم و ستم کا نرم چارہ نہ بنیں تو مغربی ممالک سے بھی اُنہیں امداد مل سکتی ہے۔اُن کے اس اقدام کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اُنہیں کمزور اور بے آسرا و بے سہارا سمجھ کر ہندو نے جن مظالم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ رُک جائے گا، دہلی کے موجودہ فسادات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اعتدال پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کی مدد کی ہے۔یہ سلسلہ آگے بھی بڑھ سکتا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اُن کی جماعتیں ٹکڑوں میں بٹے رہنے کی بجائے متحد ہو کر انتہا پسندوں کا مقابلہ کریں۔

وزیراعظم نے درست طور پر شکوہ کیا ہے کہ مسلمان ممالک میں سے چند ہی ایسے ہیں جو بھارتی مسلمان بھائیوں کے حق میں آواز اُٹھا رہے ہیں۔اُن کی نسبت مغرب کی جانب سے زیادہ مذمت ہو رہی ہے۔ایرانی رہنما کی جانب سے یہ بیان اِس لئے بھی حوصلہ افزا ہے کہ ایران کے بھارت کے ساتھ نہ صرف اچھے تعلقات ہیں،بلکہ دونوں ممالک میں دفاعی معاہدہ بھی ہے اور بھارت ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے،جس کے ذریعے وہ اپنی برآمدات افغانستان اور وسطیٰ ایشیا کے دوسرے ممالک تک پہنچانا چاہتا ہے،لیکن ایرانی رہنما نے دوسرے مسلمان لیڈروں کی طرح اپنے اقتصادی مفادات کو پیش ِ نظر نہیں رکھا اور کسی لگی لپٹی رکھے بغیر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ یہ ایرانی قیادت کا وہ طرہئ امتیاز ہے جو اسے عالم ِ اسلام کے حکمرانوں سے ممتاز کرتا ہے اور غالباً ایران کا یہی صاف گوئی پر مبنی طرزِ عمل مسلم دُنیا کے اندر اور بعض مغربی ممالک میں اسی لئے پسند نہیں کیا جاتا،اگر ایران بھی اس موقع پر خاموش رہتا اور باقی مسلمان حکمرانوں کی طرح ایرانی لیڈر اور حکمران بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے رہتے تو اِس کا جواز موجود تھا،لیکن انہوں نے مصلحت پسندی کی چادر نہیں اوڑھی اور صاف صاف وہ بات کہہ دی جو حق اور سچ ہے۔یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا بھارت، ایرانی مدبر رہنما کے مشورے پر عمل کر کے خود کو مسلم دُنیا میں تنہا ہونے سے بچائے گا؟ مودی اور اُن کے ساتھیوں کی جانب سے ایسی امید نہیں،لیکن سید علی خامنہ ای نے جو نصیحت بھارت کو کی ہے، وہ اگر بھارت کے حکمران پلّے باندھ لیں تواس میں اُن کا اپنا ہی بھلا ہے، بھارت کے متعصب اور انتہا پسند لیڈر مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے جو بیانات جاری کرتے رہتے ہیں ایسے بیانات ہوش و خِرد کی حالت میں جاری نہیں کئے جا سکتے اس کا ایک نتیجہ تو مودی اور ان کے ساتھی دہلی کے انتخابات کی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔ امیت شاہ ان ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور انہوں نے مودی کو یقین دِلا رکھا تھا کہ اب کی بار بی جے پی ہی جیتے گی،لیکن دہلی کے ووٹروں نے انتہا پسندی کی یہ روش مسترد کر دی اور خدمت کرنے والی پارٹی کو ووٹ دیا تو امیت شاہ نے حسرت و یاس کے عالم میں فسادات کی شکل میں بدلہ لینے کا منصوبہ بنا لیا۔ جواب پوری طرح طشت ازبام ہو چکا ہے۔

بی جے پی نے پورے ملک میں انتہا پسندی کی جو لہر اُٹھائی تھی وہ اگر آج نہیں تو کل اُتر جائے گی۔ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو مسلسل شکست ہو رہی ہے،چند برس بعد وہ وقت بھی آ سکتا ہے کہ مودی کا مرکزی انتخابات میں بھی پٹڑہ ہو جائے اِس لئے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ مودی انتہا پسندی کے گھوڑے سے اُتر آئیں اور نہ صرف اپنے کشمیری اور مسلمان شہریوں کے ساتھ انصاف کریں،بلکہ اپنے پاکستان جیسے ہمسایوں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے تو اُن سے بڑی توقعات وابستہ کر لی تھیں اور لوک سبھا کے انتخابات(مئی2019ء) سے پہلے اُن کا خیال تھا کہ مودی اگر جیت گئے تو بھارت کے ساتھ مذاکراجت کا سلسلہ شروع کرنے میں آسانی ہو گی،لیکن اُن کی یہ خوش فہمی جلد ہی دور ہو گئی اور مودی کے اندر کی انتہا پسندی نے پورے خطے کا امن ہی خطرے میں ڈال دیا،حالانکہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے راستے پر گامزن ہوتے تو یہ اُن کی پارٹی اور اُن کے ملک کے لئے بہتر ہوتا،لیکن لگتا ہے اب وہ جس راستے پر گامزن ہو گئے ہیں اس کا آخری پتھر چاٹ کر ہی واپس ہوں گے،اِس لئے بہتر یہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر کریں اور اپنے مسلمان شہریوں سے حُسن ِ سلوک کر کے مسلمان دُنیا میں خود کو تنہا ہونے سے بچائیں اور اپنے رہنماؤں کو اشتعال انگیز بیانات سے روکیں ورنہ بی جے پی مخالف لہر اُٹھنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی،مسلمانوں کی مخالفت کا کارڈ ہمیشہ کے لئے اُن کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔

مزید : رائے /اداریہ