کراچی:گولیمار میں عمارت گرنے سے ہلاکتیں

کراچی:گولیمار میں عمارت گرنے سے ہلاکتیں

  



گولیمار کراچی میں عمارت گرنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد16ہو گئی ہے۔خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید لوگ بھی دبے ہوئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔ یہ چار منزلہ عمارت ایک چھوٹے رقبے پر تعمیر کی گئی اور اس پر ایک اور منزل بھی کھڑی کی جا رہی تھی،ملبہ ہٹانے کے لئے ریسکیو عملے کے علاوہ رینجرز اور فوج کے جوان بھی حصہ لے رہے ہیں، اہل ِ علاقہ نے یہ بھی شکایت کی کہ ملبہ ہٹانے کی رفتار سست ہے،جبکہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والوں کے مطابق رضویہ، گولیمار کا یہ علاقہ انتہائی گنجان ہے، اِس لئے دشواری کا سامنا ہے۔ کراچی میں ایسی عمارت گرنے کا یہ پہلا سانحہ نہیں، ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے، تھوڑا عرصہ قبل بھی ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے، وہاں بھی کمزور عمارت پر ایک منزل اور ڈالی جا رہی تھی،وہاں بھی ایک درجن سے زیادہ افراد اللہ کو پیارے ہوئے،اِس عمارت کے گرنے پر بھی احتجاج ہوا، میڈیا میں شور اُٹھا، ٹھیکیدار گرفتار ہوا، اس کے بعد کیا ہوا، کسی کو کچھ علم نہیں، میڈیا بھی خاموش ہے۔اب ایک اور حادثے نے وہ یاد بھی تازہ کر دی ہے۔ کراچی میں ناقص تعمیرات کا یہ سلسلہ نیا نہیں، اس کی صدائے باز گشت سپریم کورٹ میں بھی سنی گئی ہے کہ چھوٹے رقبے پر بڑی عمارتیں بنا دی جاتی ہیں، ناقص میٹریل اور ملی بھگت سے نقشے منظور کرانا یا کسی نقشے کے بغیر ہی تعمیر عام ہے اور یہ سب رشوت کی بدولت ہوتا ہے۔بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ٹھیکیداروں پر مشتمل ایک بڑا مافیا ہے جو قبر کے عذاب اور روزِ محشر کے حساب سے بے خوف ہو کر یہ کام کر رہا ہے۔اس مافیا کو کوئی ڈر نہیں ہے۔ یوں بھی کراچی اور سندھ کے شہروں میں سیمنٹ کے بلاکوں سے عمارتوں کی تعمیر کا رواج ہے، لیکن بلاکوں سے لے کر عمارتوں کی تعمیر تک کے اس طویل سلسلے میں دیکھ بھال اور احتساب کا کوئی سلسلہ نہیں،بلکہ بلڈنگ اتھارٹی سے لے کر کئی اور شعبوں کے حضرات بھی اس رشوت میں حصہ دار ہوتے ہیں۔حکومت کے بقول کئی ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے،اگر یہ درست ہے تو پھر یہ سلسلہ مسلسل کیوں جاری ہے؟یہ صرف کراچی کی فلیٹوں والی بلڈنگ تک محدود نہیں،دیگر صوبوں اور شہروں میں کنسٹرکشن کا کاروبار کرنے والوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ یہاں لاہور میں بھی گھروں کی تعمیر میں گھپلے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بنیادوں کے بغیر دو دو تین تین منزلہ گھر بنا دیئے جاتے ہیں،میٹریل بھی پورا استعمال نہیں کیا جاتا، محض اوپر سے لیپا پوتی کر دی جاتی ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ تمام صوبائی حکومتوں کے علاوہ وفاقی حکومت بھی توجہ دے اور اس تعمیراتی مافیا کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں تاکہ انسانی جانوں کا اتلاف روکا جا سکے۔

مزید : رائے /اداریہ