مولوی سعید اظہر:اللہ تمہیں صحت عطا فرمائے

مولوی سعید اظہر:اللہ تمہیں صحت عطا فرمائے
مولوی سعید اظہر:اللہ تمہیں صحت عطا فرمائے

  



مولوی سعید اظہر بھائیوں جیسا پیارا دوست اور ساتھی ہے،اس کے ساتھ محبت اور پیار کا رشتہ ہے، طویل رفاقت نے کبھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب وہ عرصے سے علیل ہے۔ اس کی حالت کے بارے میں دریافت کرنا فرض ہے۔ مَیں سعید اظہر کے صاحبزادے اشعر سے دریافت بھی کرتا رہتا ہوں اور کبھی کبھار بھرجائی سے بھی بات ہو جاتی ہے،بوجہ لکھنے سے گریز کیا، آج یہ تحریک یوں ہوئی کہ صبح ہی اپنے اخبار میں یہ خبر دیکھ لی کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سروسز ہسپتال جا کر مولوی سعید اظہر کی عیادت کی ہے۔مَیں جو شکائتوں کا بوجھ لئے پھرتا ہوں،مطمئن ہوا کہ بالآخر جس کسی نے بھی یہ فیصلہ کرایا، وہ قابل ِ تحسین ہے کہ خود بلاول بھٹو زرداری کو شاید علم ہی نہ ہو کہ مولوی سعید اظہر بھی علیل ہے،جو انتہائی مشکل حالات کے دوران ان کے والد آصف علی زرداری کی دلیل کے ساتھ حمایت کرتا چلا آیا ہے۔ مولوی سعید اظہر جو دایاں تھا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے بایاں ہوا اور پھر اعتدال پسند ہو گیا۔اپنی علالت کے دوران بھی کالم لکھتا چلا آیا ہے۔گذشتہ دہ ہفتوں کے دوران اس کا کالم دکھائی نہیں دیا کہ صحت کچھ زیادہ خراب ہو گئی ہے۔

اب لکھا تو تفصیل بھی بتا ہی دوں کہ مولوی سعید اظہر کو قریباً دو سال قبل پراسٹیٹ کی شکایت ہوئی،اس نے فیصل ٹاؤن میں کسی نجی ہسپتال سے رجوع کیا، خاموشی سے داخل ہوا اور آپریشن کرا لیا، ہم سب دوستوں کو علم بھی نہ ہو سکا، تاآنکہ ایک روز سوشل میڈیا پر اُسے وہیل چیئر پر سروسز ہسپتال میں موجود دیکھا، فکر ہوئی تو فون پر احوال دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ نجی ہسپتال والوں نے کچھ لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور آپریشن کے باوجود بیماری میں نقص رہ گیا، اور اسے سروسز سے رجوع کرنا پڑا۔ معلوم ہوا کہ وہ سروسز ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں ہے۔ جب عیادت کے لئے گیا تو حیران رہ گیا کہ یہ پرائیویٹ وارڈ کیا،ایک پرانی ترین عمارت اور جس کمرے میں سعید اظہر تھا وہ سٹور نما کمرہ تھا،بستر وغیرہ بھی مناسب نہیں تھا۔مَیں نے واپس آ کر کچھ ہنگامہ سا کیا، تو دوستوں کو بھی خیال آیا، سب نے مل کر خصوصاً جاوید اقبال نے ہسپتال انتظامیہ سے رجوع کیا اور مولوی سعید اظہر وی آئی پی نامی پرائیویٹ رومز کے کمرہ نمبر3 میں آ گئے اور کچھ مطمئن بھی ہوئے، پھر ایک طویل سلسلہ علاج ہے جو شروع ہوا، کئی مراحل آئے، حکومت ِ پنجاب سے بھی تعاون حاصل کیا گیا، یہاں ایک اور آپریشن ہوا، اور مولوی سعید اظہر بظاہر صحت یاب ہو کر گھر آ گیا، مزید بہتر ہوا تو رکشا پر دفتر کا چکر بھی لگا آیا، تاہم قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اس کے معدے میں گڑ بڑ محسوس ہونے لگی تو پھر سے سروسز ہسپتال ہی سے رجوع کیا۔

ڈاکٹروں نے حسبِ سابق بہت توجہ دی اور متعدد ٹیسٹ کرائے گئے، حتیٰ اینڈو سکوپی تک بات پہنچی اور نتیجہ آنے پر معلوم ہوا کہ پیٹ میں رسولی ہے اور مزید ٹیسٹ نے ثابت کیا کہ یہ متاثر (کینسر سے) ہے، چنانچہ انمول ریفر ہوا اور کیموتھراپی کا عمل شروع ہو گیا۔ وہ گھر سے جاتا اور پھر واپس آ جاتا۔ اس عرصے میں مولوی سعید اظہر کے صاحبزادے اشعر بھی برطانیہ سے آ گئے، جہاں وہ زیر تعلیم ہیں۔ باپ کی دیکھ بھال نے اُسے بھی رکنے پر مجبور کر دیا، اسی کی زبانی معلوم ہوا کہ سعید اظہر صاحب چڑچڑے ہو گئے ہیں اور بات کرنا تو کجا کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔مَیں نے اس دورن اشعر کو اپنے محب ڈاکٹر شہریار کے پاس بھی بھیجا اور ان سے بات بھی کی۔ ڈاکٹر خود کینسر کے ماہر ترین معالج ہیں اور ان دِنوں کینسر کے مریضوں کے لئے ہسپتال بنانے میں جُتے ہوئے ہیں،جو مفت علاج کا مرکز ہو گا۔ڈاکٹر صاحب نے بھی مشورہ دیا،پھر جب مَیں نے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ خود زیر تعمیر ہسپتال کے پروجیکٹ آفس میں بیٹھتے ہیں اور یہاں مریض بھی دیکھ لیتے ہیں اور جن کا ادویات سے علاج ممکن ہو اُن کو ادویات دیتے یا لکھ دیتے ہیں،تاہم داخلے کا اہتمام نہیں، اگر سعید اظہر کو ضرورت ہوئی تو وہ اپنے دوستوں سے تعاون حاصل کر لیں گے۔ ویسے بہتر ہے کہ جہاں علاج جاری ہے، وہاں ہی سے کرایا جائے۔

یوں اب مولوی سعید اظہر سروسز میں ہیں اور شاید ان کا مزید آپریشن ہوگا کہ گلٹی نکالی جا سکے۔ کیمو تھیراپی کے کورس ہو چکے۔ مجھے اپنی اہلیہ کے علاج کے حوالے سے اس سلسلے کا تجربہ ہے اور جانتا ہوں کہ یہ کتنا تکلیف دہ اور مہنگا ترین علاج ہے،اور اب تو یہ بھی معلوم ہوا کہ سعید اظہر کو علاج کے حوالے سے مالی دشواری بھی ہے۔اگرچہ اس نے خود سے کسی سے ذکر نہیں کیا،لیکن مَیں جانتا ہوں کہ آج کے دور میں یہ کتنا مہنگا عمل ہے۔میری درخواست ہے کہ پنجاب حکومت بھی کچھ خیال کرے۔ میاں اشفاق انجم سمیت جاوید اقبال اور معین اظہر جیسے دوست بھی آگے بڑھیں اور علاج میں معاونت کریں ……مجھے یہ تو علم نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو لے جانے کی تحریک کرنے والے مہربان حضرات نے ان کو پوری تفصیل سے آگاہ کیا یا نہیں،لیکن ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بلاول مالی تعاون بھی کر کے آتے کہ ان کی والدہ جب کبھی ایسے مریض کو دیکھنے جاتیں تو ایسا ضرور کرتی تھیں اور ان کے ساتھ جانے والے اصحاب اشارہ پا کر مسئلہ حل کر دیتے تھے۔میاں مصباح الرحمن جب لاہور کے صدر تھے تو وہ بی بی کے ساتھ ایک دو بار مریضوں کی عیادت(خصوصاً پارٹی ورکرز) کے لئے گئے، تو محترمہ شہید کی ہدایت پر معقول سے زیادہ مالی تعاون کر آئے تھے۔سعید اظہر خود تو نہیں کہے گا، لیکن ضرورت مند ہے، اس طرف سب کی توجہ چاہئے، دُعا ہے کہ اللہ سبحان تعالیٰ سعید اظہر کو صحت ِ کامل عطا فرمائے۔

مزید : رائے /کالم