طالبان،امریکہ معاہدے کا مستقبل!

طالبان،امریکہ معاہدے کا مستقبل!
طالبان،امریکہ معاہدے کا مستقبل!

  



29فر وری کو قطر میں افغان طا لبا ن اور امریکہ کے درمیان معاہد ہ ہونے کی دیر تھی کہ ہمارے ہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پرمبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بہت کم سنجیدہ آوازیں ایسی تھیں، جنہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ابھی اس با رے میں حتمی ٰ طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس معا ہدے سے افغانستان میں امن قائم ہو گا یا نہیں؟…… افغانستان کی تاریخ جہاں ایک طرف یہ بتا تی ہے کہ اس سرزمین پر سکندر اعظم سے لے کر بر طا نیہ، سوویت یو نین اور مو جودہ دور کی سب سے بڑی سپر پا ور امریکہ بھی اپنے قدم جمانے میں نا کام رہی تو دوسری طرف افغانستان میں امن کے نام پرکیے جانے والے معا ہد ے بھی زیادہ دیر تک موثر نہیں رہتے۔زیادہ دور نہ بھی جائیں تو 1978ء میں ثور انقلاب کے نتیجے میں جب سردار داؤد کا تختہ اُلٹا گیا تو اس کے بعد خلق پارٹی اور پر چم پا رٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ کئے گئے معا ہدوں کی خلاف ورزی کی۔ اسی طرح 1989ء میں سوویت یو نین کی فوج کے انخلا کے بعد مجاہدین گروپ آپس میں لڑلڑ کر افغانستان کی تباہی کرتے رہے۔

ان کے درمیان جنگ بندی اور حکومت سازی کے لئے 1992ء میں ”پشاور معا ہدہ“ کر وایا گیا جو زیادہ عرصہ نہ چل پا یا۔1993ء میں افغان مجا ہدین کے ما بین سعودی عرب میں جنگ بندی کا معا ہد ہ کر وایا گیا، جس کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہو ئی تھی کہ ان گر وپوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔اب قطر میں طالبا ن اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معا ہدے کا مستقبل بھی روشن دکھائی نہیں دیتا……ماضی میں افغان معاہدے کیوں ناکام ہوتے رہے؟ اس کا ایک کالم میں احاطہ کرنا ممکن نہیں، مگر اس کالم میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حال ہی میں کیے جانے والے ”دوحہ معاہدے“ کی کامیابی یا ناکامی کے کیا کیا اسباب ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ٹرمپ نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اس معا ملے میں بہت زیادہ جلد بازی دکھائی۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ نومبر2020ء کے انتخابات میں اس با ت کا کریڈیٹ لے کہ اس نے امریکہ کو اس کی تاریخ کی طویل ترین جنگ سے با ہر نکالا، ایک ایسی جنگ، جس میں امریکہ کے2کھرب ڈالر خرچ ہوئے اوراس کے2ہزار سے زائد فو جی بھی ہلاک ہوئے۔اس معا ہد ے کے تحت افغان طالبا ن اس با ت پر راضی تو ہو گئے کہ وہ10مارچ سے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں گے، مگر اس دوران اس اہم ترین حقیقت کو فرا مو ش کر دیا گیا کہ اس وقت افغا نستان کے دونوں اہم فریق،یعنی افغان حکومت اور طالبان دو الگ الگ انتہاؤں پر کھڑے ہیں۔

ایک طرف افغان صدر اشرف غنی ہیں، جن کی اپنی آئینی اور سیاسی حیثیت انتہائی متنا زع ہے۔گز شتہ سال ستمبر میں افغان انتخابات ہوئے، جن کا حتمی نتیجہ فروری2020 ء میں سامنے آیا،اس کے مطابق اشرف غنی پھر افغان صدر منتخب ہوگئے، مگر ان کے حریف صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتا ئج کو تا حال تسلیم کرنے سے انکا ر کیا ہوا ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ اشرف غنی شفاف طر یقے سے صدر منتخب ہو ئے ہیں تو پھر بھی یہ انتخابات مشکوک ہی قرار پا ئیں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان انتخابا ت میں کل ووٹروں کی تعداد97لاکھ تھی، جبکہ 20لاکھ سے بھی کم ووٹروں نے ان انتخابات میں ووٹ ڈالا، یعنی97لاکھ میں سے 77 لاکھ افغان ووٹر سرے سے اس انتخابی عمل کا حصہ ہی نہیں بنے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ افغان ووٹروں کی واضح اکثریت کو معلوم تھا کہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا کو ئی فا ئدہ نہیں،کیونکہ ان کا کو ئی شفاف نتیجہ نہیں نکلے گا۔ایسے متنا زعہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر اشر ف غنی کے پاس طالبان کے ساتھ مذاکرت کا کیا کوئی سیاسی اور اخلاقی جواز ہو گا؟……دوسرا اشرف غنی کے بارے میں یہ بھی کہا جا تا ہے کہ و ہ امریکہ کی یونیورسٹیوں اور ور لڈ بینک میں کام کرتے رہے ہیں ان کو افغان قبا ئلی امور کی زیادہ سمجھ نہیں ہے،جیسے حامد کرزئی کی نااہلی یا ان کے دور میں ہوئے والی کرپشن کے با وجود ان کے بارے میں یہ تا ثر تھا کہ وہ افغان قبائلی نظام کو بھی جانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ابھی ”دوحہ معاہدے“ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اشرف غنی نے اعلان کر دیا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کے پا بند نہیں۔ اشرف غنی کے اس بیان کے ساتھ ہی افغان طالبان نے اپنی مسلح کار روائیوں کا آغاز کر دیا۔ اشرف غنی اس معا ملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ بھی طے کر سکتے تھے۔یہ تو رہا ایک فریق کا معا ملہ، اب دوسرے فریق طالبان کی طرف دیکھیں تو انہوں نے بھی اس معا ہدے پر دستخط کرکے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے پرانے مو قف سے ان کو فائدہ نہیں، بلکہ نقصان ہی ہوا۔

اکتوبر2001ء،یعنی افغان جنگ شروع ہونے تک طا لبان، افغانستان کے 90 فیصد کے لگ بھگ علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر چکے تھے۔پا کستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم بھی کیا ہوا تھا۔9/11کے بعد جب امریکہ نے یہ مطالبہ کیا کہ افغان طالبان القاعدہ کے ساتھ اپنے رابطوں کو ختم کریں اور اس کے لیڈروں تک امریکہ کو رسائی دیں تو طا لبان نے اس سے انکار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ جنگ کرنے کا راستہ اختیار کیا ……اب جنگ کے 19سال بعد اس نے ”دوحہ معا ہدے“ کے تحت یہ شرط مان لی کہ طالبان، القاعدہ سمیت کسی بھی ایسی تنظیم کے ساتھ رابطے نہیں رکھیں گے جو امریکہ کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ طالبان نے یہ شرط تسلیم بھی کی تو 19 سال کی جنگ، تباہی اور ہزاروں ہلاکتوں کے بعد،جبکہ آج اس کا کنٹرول بھی 2001ء کے مقابلے میں کم علاقوں میں ہے ……امریکی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق 2019ء تک اٖفغانستان کے 53.8اضلاع پر اشرف غنی کی حکومت، 12.3 فیصد اضلاع پر طالبان، جبکہ 33.9 فیصد علاقے ایسے ہیں، جہاں پر کبھی طالبا ن کا پلڑا بھاری ہو جا تا ہے اور کبھی حکومت کا، جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج افغانستان کے بڑے شہروں، خاص طور پر کابل میں ایسا متوسط طبقہ پیدا ہو چکا ہے،جو اپنے معاشی اور سما جی تحفظ کے لئے ٖغیر ملکی، خاص طور پر امریکی سرمائے اور کارپوریٹ سیکٹر کا طفیلی ہے۔

افغانستان کی کل آبادی کے حساب سے دیکھا جائے تو اس متوسط طبقے کی تعداد بہت کم ہے،مگر یہ وہ طبقہ ہے جو کسی بھی صورت میں طالبان کے سماجی نظام کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو ایسے ہی طبقات کا نما ئندہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے غیر پختون نسلی گروپوں کے لئے بھی طالبان کی اتھارٹی کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہو گا۔اس ساری صورت حال سے ثابت ہو رہاہے کہ اب افغانستان کے دونوں فر یق اپنی اپنی انتہاؤں پر کھڑے ہیں کہ کسی کا اپنی پوزیشن سے ہٹنا ممکن دکھائی نہیں دیتا……اب تک کی تازہ اطلاعات کے مطابق، جہاں ایک طرف طالبان نے افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیئے ہیں تو دوسری طرف امریکہ نے بھی ہلمند کے علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی افغانستان کے داخلی محاذ کے ساتھ ساتھ خارجہ عوامل بھی اپنا اہم کردار ادا کر یں گے۔ ”دوحہ معا ہدے“ کے بعد اگر امریکہ اپنی افواج کوکم کرے گا تو خطے کے ممالک پا کستان، ایران، روس بھارت او رچین بھی افغانستان میں اپنے اپنے مفا دات کے لئے زیادہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کو گزشتہ 40سال سے جس عدم استحکام کا سامنا ہے، اس میں وہاں کے داخلی عوامل کے ساتھ ساتھ بیرونی عوامل کا بھی اہم کر دار ہے۔ خطے میں امن کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں یہ ممالک صرف امن لانے کوہی اپنی بنیادی ترجیح قرار دیں، ورنہ افغانستان میں بڑھتا ہوا عدم استحکام پورے خطے کے امن کو بھی متا ثر کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم