عورت ہرگز ہرگز مرد کے برابر نہیں

عورت ہرگز ہرگز مرد کے برابر نہیں
عورت ہرگز ہرگز مرد کے برابر نہیں

  



مَیں بطور انسان اور مسلمان اس بات پر کامل یقین اور ایمان رکھتا ہوں کہ عورت ہرگز ہرگز مرد کے برابر نہیں ہے…… اپنی نوع کے اعتبار سے بھی عورت، مرد سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی بائیولوجیکل ساخت مرد سے مختلف ہے۔ اس کی جسمانی اور نفسیاتی ہیئت بھی مرد کی جسمانی اور نفسیاتی ہیئت سے یکسر مختلف ہے، اسی طرح اس کی مادی و روحانی ضروریات بھی مختلف ہیں۔ اس کی اٹھان، اس کی پرورش بھی مختلف قسم کی اشیاء و خدمات کی متقاضی ہے۔ قدرت، یعنی خالق کائنات نے مرد اور عورت کی جسمانی و نفسیاتی ساخت و تخلیق میں یہ فرق یونہی نہیں رکھا، بلکہ دونوں کو جو فطری وظائف اور ذمہ داریاں ودیعت کی گئی ہیں، ان کی بجا آوری کے لئے جو ساخت اور قوت درکار تھی، وہی عطاکی گئی ہے۔ اگر عمیق نظری سے تحقیق وجستجو کی جائے تو یہ بات کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ مرد اور عورت بطور انسان اور مخلوق تو ایک ہیں، لیکن ساخت و پرداخت میں دو الگ الگ وجود کے مالک ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنی صفات، بہت سی صفات، عورت کو ودیعت کی ہیں …… مثلاً اللہ کہتا ہے کہ مَیں خالق ہوں، یعنی تخلیق کار ہوں۔ انسان کو پیدا کرتا ہوں …… تو وہ انسان کی تخلیق کہاں کرتا ہے؟ عورت کی کوکھ میں۔ گویا قدرت کی تخلیق کاری کی صفتِ عالیہ عورت کو عطا ء کی گئی ہے۔ پھر اللہ کہتا ہے کہ مَیں انسان کو شکل اور صورت عطا کرتا ہوں۔ اللہ کی یہ مصوری کہاں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہے؟ عورت کے رحم میں۔ پھر اللہ کہتا ہے کہ مَیں رازق ہوں، یعنی رزق مہیا کرتا ہوں۔ انسان کی تخلیقی و تصویری ساخت کی تکمیل کے لئے جو رزق درکار ہوتا ہے، خالق نے عورت کے شکم میں رکھا ہے…… پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو رب کائنات اس کے رزق کا بندوبست کیسے کرتا ہے؟…… اللہ کہتا ہے کہ مَیں نوزائیدہ انسان کے لئے دودھ کے چشمے جاری کرتا ہوں، کہاں؟ عورت کے سینے میں۔ ذرا غور کریں، اللہ رب العزت نے عورت کو کتنی اعلیٰ وارفع صفات عطا کی ہیں۔ کئی ایسی نعمتیں اور ذمہ داریاں، جو اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہیں،ان کی بارآوری کے لئے عورت کو نہ صرف منتخب کیا گیا ہے، بلکہ اسے ان قویٰ اور جواہر سے بھی نوازا گیا ہے۔

دورِ جدید کی طب نے تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان دو ایسی ناقابلِ برداشت دردوں سے گزرتا ہے کہ الامان الحفیظ …… ایک جان کنی کی درد ہے، یعنی جب جان نکلنا شروع ہوتی ہے، بلکہ جان کھینچنا شروع ہوتی ہے تو انسان تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے یہ تکلیف اس قدر شدید ہوتی ہے کہ ناقابلِ بیان ہوتی ہے،جب جان کھینچنا شروع ہوتی ہے تو انسان کو چُپ لگ جاتی ہے، یعنی اس کی زبان و بیان کی قوتیں سلب کرلی جاتی ہیں۔ اس طرح انسان اگلے جہاں میں چلا جاتا ہے اور جان کنی کی شدت اور تکلیف بارے ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا ۔ دوسری درد بچہ جننے کی ہوتی ہے،جسے لیبرپین (LABOR PAIN)بھی کہتے ہیں اس کے بارے میں ماہرین بتاتے ہیں کہ بہت شدید ہوتی ہے…… اس تکلیف کے ذریعے قدرت عورت کے جسم کو بچے کی ڈلیوری کے لئے تیار کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جب عورت بچہ جن لیتی ہے اور بچے کو اپنے سینے سے لگا لیتی ہے تو اس کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہو جاتا ہے اور وہ ہے نوزائیدہ کی پرورش و دیکھ بھال۔ ماہرین کے مطابق اگر عورت بچہ جننے کی تکلیف کا 1 فیصد بھی یاد رکھے تو آئندہ زندگی میں وہ کبھی اس عمل سے دوبارہ گزرنے کا تصور بھی نہیں کرے گی،لیکن یہ خالق کائنات کا کمال ہے کہ وہ عورت کو اتنی طاقت و صلاحیت دیتا ہے کہ وہ نہ صرف بخوشی، بار بار اس عمل سے گزرنے اور وظیفہ تخلیق ادا کرنے کے لئے تیار رہتی ہے۔ یہ عورت کی صنفی برتری کا واضح ثبوت ہے کہ رب کائنات نے اسے عظیم وارفع مقاصد کی تکمیل کے لئے تخلیق کیا ہے۔

اب ہم عورت کی سماجی و تمدنی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ عورت، ماں،بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں محفوظ و ماموں کیسے ہے؟ مرد کو صرف باپ کی وراثت میں حصہ ملتا ہے، جبکہ عورت اپنے باپ کی وراثت کے علاوہ اپنے شوہر کے ترکے میں بھی شامل ہوتی ہے ……ہمارا دین، عورت کوبہت سے حقوق دیتا ہے۔ بچہ پالنے پر اُٹھنے والے اخراجات اور عورت کا نان نفقہ شوہر کے ذمے ہے۔ عورت اپنی کمائی اور وراثت کی بلا شرکتِ غیرے مالک و مختار ہے۔ شادی کے وقت مرد اسے مہر کی شکل میں بھی ادائیگی کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ یہ تمام حقوق عورت کو تفویض کئے گئے ہیں۔ بطور بیوی اس کی سماجی حیثیت بھی اعلیٰ وارفع ہے۔ جب وہ ماں بنتی ہے تو اولاد پر اس کی تابع داری فرض ہوتی ہے، کیونکہ پرورش کے لئے ضروری ہے کہ اسے حقوق و اختیارات حاصل ہوں۔ نان نفقے کی ذمہ داری مرد پر ڈال کر عورت کو معاش کی ذمہ داریوں سے آزاد کیا گیا ہے،پھر اولاد کو اس کی تابع داری کا حکم دے کر اس کی کمانڈ طے کی گئی ہے،اس کے ساتھ ساتھ آخرت کی سب سے اعلیٰ اور مطلوب و مقصود نعمت ، جنت کو اس کے قدموں میں ڈال کر ماں کی برتر اخروی حیثیت پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی گئی ہے۔ عورت، بیٹی کے روپ میں باپ کی ذمہ داری ہے،اس کی پرورش، نان نفقہ، تعلیم و تربیت، حتیٰ کہ شادی بیاہ بھی باپ کے ذمہ ہے، اس کے فرائض میں شامل ہے۔ باپ کی وراثت میں بھی بیٹی کا حصہ شامل کیا گیا ہے۔ طے شدہ حصہ ہے جو اس کا حق ہے اور دنیا کا کوئی قانون اسے اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ یہ سب کچھ عورت کو عطا کیا گیا ہے۔ قانونی، سماجی اور تہذیبی طور پر عورت کو محفوظ اور مامون بنانے کے لئے، اسے یہ تمام حقوق دیئے گئے ہیں۔

آپ تاریخ انسانی کا مطالعہ کرلیں، تہذیبی ارتقاء کے عمل کو دیکھ لیں، جو تہذیبیں ترقی کرتی ہوئی نظر آئیں گی، جو معاشرے فلاح و بہبود پاتے نظر آئیں گے، ان میں عورت کی ایسی ہی برتر اور محفوظ حیثیت قائم و دائم ہو گی۔ گویا انسانی تہذیب و تمدن کی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری ہے کہ عورت کو اس کا اعلیٰ وارفع مقام دیا جائے تاکہ وہ اپنے تخلیقی فرائض کو بطریق احسن نبھا سکے…… اب رہا سوال تحریک نسواں کا، جو عورت کی مرد کے ساتھ برابری کے لئے کوشاں ہے تو اس کا خمیر مغربی تہذیب سے اٹھا ہے،جس کی بنیاد عیسائی اخلاقیات ہے،جس میں عورت کو”گناہ کی بنیاد“ قرار دیا جاتا ہے۔ عورت کو ”ناپاک“ سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو ایک ”COMMODITY“ شے قرار دیا جاتا ہے، اسے ادنیٰ تصو ر کیا جاتا ہے…… ہمارے معاشرے میں بھی کچھ ایسے معاملات ضرور ہیں، جن کا خمیر ”جاگیر داری اور طبقاتی نظام“ سے گندھا ہوا ہے۔ یہ نظام غیر انسانی ہے، شرف انسانیت کے برعکس ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا نہیں جا سکا۔ ہمارے معاشرے پر اس نظام کی گہری چھاپ ہے، جس کے باعث عورت کو اس کا حقیقی مقام نہیں مل سکا، حالانکہ ہمارا آئین، آئین پاکستان، اسلام کے مطابق عورت کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آئین کے مطابق عورت کے حقوق کی بات کریں۔ اسے شریعت محمدیﷺ کی طرف سے ودیعت کردہ حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی تحریک چلائیں،جس کے مطابق عورت ہرگز ہرگز مرد کے برابر نہیں،بلکہ برتر و اعلیٰ ہے۔

مزید : رائے /کالم