کرونا وائرس:دُنیا متحد ہو کر مقابلہ کرے

کرونا وائرس:دُنیا متحد ہو کر مقابلہ کرے
کرونا وائرس:دُنیا متحد ہو کر مقابلہ کرے

  



دُنیا بھر کے مسلمانوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ حرم شریف میں طواف کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، بعد میں یہ وضاحت سامنے آئی کہ طواف کا سلسلہ جاری ہے، تاہم مطاف میں،یعنی خانہ کعبہ کے اردگرد گراؤنڈ فلور پر صفائی اور سپرے کے لئے عارضی طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے کرونا وائرس کے پیش ِ نظر یہ اقدام اٹھایا ہے، کیونکہ خود سعودی عرب میں بھی کرونا کے کیس سامنے آ چکے ہیں،جبکہ مسلمان ممالک سمیت دُنیا کے کئی ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے،اور روزانہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پاکستان نسبتاً خوش قسمت ملک ہے کہ ابھی تک کرونا کے چند مریض ہی سامنے آئے ہیں،جو زیر علاج ہیں،تاہم کرونا وائرس سے ابھی تک کوئی شخص جاں بحق نہیں ہوا۔ یہ وائرس جس تیزی کے ساتھ دُنیا میں پھیل رہا ہے، اُس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ آج کی دُنیا واقعی ایک گلوبل ویلج ہے، تمام ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، چاہے اُن کی سرحدیں اور نظریے ایک دوسرے سے ملتے ہیں یا نہیں۔

ایک طرح سے کرونا وائرس نے دُنیا کو اکٹھا کر دیا ہے۔ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ کسی بھی ملک میں یہ وائرس نہ پھیلے، کیونکہ ایک ملک میں پھیلنے کا مطلب ہے، پوری دُنیا میں یہ پھیل جائے گا، جیسا کہ ہوا بھی ہے۔ پہلے پہل چین میں اس وائرس کے چند کیس سامنے آئے،اُس کے بعد پوری دُنیا میں اس کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔چین میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں،لیکن چینیوں نے ہمت نہیں ہاری، انہوں نے اس عفریت سے نمٹنے کے لئے چند دِنوں میں ایک بڑا ہسپتال بنایا اور اب چین کے شہروں کو سپرے کے ذریعے کرونا وائرس سے پاک کیا جا رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ابھی تک کرونا وائرس کا دُنیا بھر میں کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا۔ امریکہ اور چین نے اس کی ویکسین تیار کرنے کے لئے اربوں ڈالر مختص کر دیئے ہیں، تاہم ماہرین ابھی تک کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اس سے احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی بچا جا سکتا ہے، لیکن یہ کام بھی کوئی آسان نہیں،کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر لوگوں کا ایک دوسرے سے میل جول ضروری ہے۔

پاکستان میں صفائی ستھرائی کی صورتِ حال قابل ِ رشک نہیں، شہروں اور دیہاتوں میں صفائی پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔کرونا وائرس کے بارے میں یہ تحقیق سامنے آ چکی ہے کہ صفائی میں عدم توجہی اس کے پھیلاؤکا باعث بن سکتی ہے۔علماء حضرات نے تو واضح کر دیا ہے کہ اگر آپ پانچ وقت وضو کرتے ہیں تو کرونا وائرس لاحق ہونے کے امکانات صفر ہو جاتے ہیں، خاص طور پر ہاتھوں کو پاک صاف رکھنا انتہائی ضروری ہے،کیونکہ انہی سے وائرس ناک اور منہ کے راستے اندر جا سکتا ہے۔ماہرین بتا چکے ہیں کہ کرونا وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے صرف دو ذرائع ہیں۔ ایک ناک اور دوسرا منہ،اِس لئے ان کی حفاظت ضروری ہے۔ مغرب اور چین میں ماسک پہننے کو اِس لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ یہ وائرس سانس کے ذریعے جسم میں آسانی سے داخل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر وائرس میں مبتلا کسی مریض کے کھانسنے یا اُس کی سانسوں سے ہوا میں شامل ہو کر یہ پھیلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرونا وائرس کے مریض کو الگ تھلگ جگہ پر رکھا جاتا ہے۔دُنیا بھر میں ایسی جگہوں پر رش کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں زیادہ دیر تک لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور ایسی محفلیں جن میں سینکڑوں افراد ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوں۔ ایسے میں اگر ایک فرد بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہے تو اُس کے کھانسے سے فضا میں یہ وائرس پھیل کر باقیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔خانہ کعبہ کے احاطے میں طواف پر پابندی کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کو بہت قریب آنے سے روکا جائے۔

پاکستان میں کرونا وائرس نے بفضل ِ تعالیٰ ابھی تک وبائی شکل اختیار نہیں کی۔اس میں حکومت کی کوششوں اور ہوش مندی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ شروع میں اِس بات پر بڑی تنقید کی گئی کہ چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ و طالبات کو کیوں واپس نہیں لایا جا رہا؟ مگر بعد میں جب ایران سے آنے والوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تواس فیصلے کی سمجھ آئی۔ ایران سے آنے والوں کی سکریننگ کا عمل بھی پاکستان میں اس وائرس کو روکنے کے لئے معاون ثابت ہوا ہے۔ اگر اس پہلو پر توجہ نہ دی جاتی تو صورتِ حال گھمبیر ہو سکتی تھی…… سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پاکستانیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ایسی گھبراہٹ کہیں نظر نہیں آتی کہ لوگ اس کی وجہ سے خوفزدہ ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے ہوں۔ بیماریاں اور بھی ہیں جو جان لیوا ثابت ہوتی ہیں،لیکن اُن کے ڈر سے معمولاتِ زندگی ختم نہیں کر دیئے جاتے۔بس ہر معاملے میں احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر اور آلودہ چیزوں سے بچ کر ہم کرونا وائرس سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ہمیں خاص طور پر اُن علامات پر نظر رکھنی چاہئے، جو کرونا وائرس کے حوالے سے بتائی گئی ہیں۔بخار، نزلہ، جسم کی کمزوری، سانس لینے میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ ابتداء میں ہی اس کی تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج سو فیصد ممکن ہے۔خطرناک اسی وقت ثابت ہوتا ہے، جب اس کے اثرات پھیپھڑوں تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ اچھی خبر ہے کہ سروسز ہسپتال لاہور میں عالمی معیار کے دو آئسولیشن وارڈز بنا دیئے گئے ہیں، جن میں وہ تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جو دُنیا کے کسی بھی اچھے ہسپتال میں کرونا وائرس کی تشخیص و علاج کے لئے ضروری ہیں۔کراچی میں حکومت ِ سندھ نے اس مقصد کے لئے خطیر رقم مختص کی ہے اور ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز قائم کئے ہیں۔ملتان کے نشتر ہسپتال میں بھی ایک آئسولیشن وارڈ قائم ہو چکا ہے۔ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈوں کی اس لئے اشد ضرورت ہے کہ کرونا وائرس کے مریض کی ہر چیز اُس کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔

مغرب میں تو مریض کو فوری طور پر سپرے کے بعد علیحدہ جگہ پر منتقل کر دیا جاتا ہے، عالمی ادارہئ صحت نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کرونا وائرس کرنسی نوٹوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے نوٹوں سے جنہیں کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں نے چھوا ہو۔اس سے پہلے عالمی ادارہئ صحت اِس بات سے خبردار کر چکا ہے کہ کرونا وائرس دُنیا میں ایک بہت بڑی تباہی لا سکتا ہے،اِس لئے ہر ملک کو اس کے خلاف جنگی بنیادوں پر لڑنا ہو گا۔ماہرین اِس بات کا بھی خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس دُنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کر سکتا ہے،کیونکہ اب تک جو ہو چکا ہے،اُس کے بڑے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔چین سے برآمدات تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہیں، ایئر لائنز کا بزنس تباہ ہو گیا ہے،سیاحت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، ہوٹل اور ریسٹونٹ ویران ہو گئے ہیں، سعودی عرب میں عمرے کی پابندی کے باعث دُنیا بھر کی ہوائی کمپنیاں خسارے میں چلی گئی ہیں،پاکستان کی ایران،چین اور بھارت سے تجارت بند ہو گئی ہے۔

گویا ایک بہت بڑا بحران ہے،جس کا دُنیا سامنا کرنے جا رہی ہے،اِس لئے فوری ضرورت اِس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا اجلاس بلایا جائے اور اُس میں اس عفریت کے خلاف لڑنے کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے۔غریب ممالک کی اس سے نمٹنے کے لئے امداد کی جائے اور وہ تمام آلات، ادویات اور تشخیص کے ذرائع ایسے غریب ممالک کو بھی فراہم کئے جائیں، جو ان کی استطاعت نہیں رکھتے تاکہ وہ بھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روک سکیں۔ یہ طریقہ شاید تادیر کامیاب نہیں ہو گا کہ کوئی ملک کرونا وائرس سے بچنے کے لئے اپنی سرحدیں یا ہوائی اڈے بند کر دے۔ اس طرح تو حالات مزید خراب ہوں گے۔اس وباء نے پوری دُنیا کو متاثر کیا ہے،اِس لئے اس سے نمٹنے کے لئے بھی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،دُنیا جتنا جلد اس حقیقت کو سمجھ لے،اتنا ہی اُس کے حق میں بہتر ہے۔

مزید : رائے /کالم