پنجاب کلچر ڈے،سرکاری سرپرستی کے بجائے اپنے خرچ پر

پنجاب کلچر ڈے،سرکاری سرپرستی کے بجائے اپنے خرچ پر
پنجاب کلچر ڈے،سرکاری سرپرستی کے بجائے اپنے خرچ پر

  



پنجاب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس نے ہمیشہ انسانی ترقی میں بنیادی کر دار ادا کیا۔ ہڑپہ سے لے کر ٹیکسلا تک ہر شعبے میں ہزاروں سال کی خدمت پنجاب کی عظمت اور بڑا ئی کی دلیل ہے۔ پنجاب کی تہذیب نے دنیا کو انسانی قدروں کی اہمیت کا احساس دِلایا، بتایا کہ انسانوں کواونچ نیچ کے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ہزاروں سال پہلے بھی انسان کو غلام بنانے کا وہ غیرانسانی رواج نہیں تھا جو یورپ یا عرب میں تھا،جس پر انسانیت آج بھی شرمندہ ہے۔اس پنجاب نے ہڑپہ کی شکل میں جدید طرزِ زندگی کا تصور دِیا اور آج کی شہری زندگی کے وہ پیمانے طے کئے جو مسائل کے ہڑبونگ کے بجائے پرسکون شب و روز کا سامان کرتے ہیں۔اسی پنجاب کے شہر ٹیکسلا میں وہ علمی چشمے پھُوٹے جِنہوں نے انسا نی تہذیب کو جِلا بخشی اور بتا یا کہ زمین پر خون بہا کر حکومت کرنا کوئی بڑی بات نہیں،جدید علوم اور آ گہی کے چراغ روشن کر کے بھی ہمیشہ کی زندگی حا صل کی جا سکتی ہے۔پنجاب نے اعلیٰ علمی ہستیوں کو ہی جنم نہیں دِیا بلکہ اِسی زمین پر پورس اور دُلھے بھٹی جیسے بیٹوں نے بھی آ نکھ کھولی جنہیں آج بھی تا ریخ دنیا کے بہا در جنگجووں کا سالار مانتی ہے۔ اِس خطے کی تہذیب، زبان اور رسم و رواج کا ہر رنگ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم انسانی قدروں کو سنوارنے والے خطے میں پیدا ہوئے او ر زندگی گزار رہے ہیں۔ آ ج کا مکالمہ بھی پنجابی تہذیب کے ساتھ جُڑا ہے جو پنجاب کلچڑ ڈے کے حوالے سے ہے جسے 14ما رچ کو منا یا جا نا ہے۔ پنجابی کے خدمت گار اس حوا لے سے پُر جوش بھی ہیں اور بھرپور تیا ری بھی کر رہے ہیں۔ خا ص طور پر میرے بھائی اور دوست جمیل پا ل، احمدر ضا پنجابی، طا رق جٹالہ، پروین ملک، اقبال قیصر، افضل سا حر، دیپ اورصغریٰ صدف کے ساتھ ساتھ اوربھی بہت سے دوست اُس تصور کو تصویر بنانے کے لئے کوشا ں ہیں جو ہما ری آ نے والی نسل کو ان رنگوں سے جوڑے گا جو روزمرہ کی مصروف زندگی نے فراموشی کی دھند کے اس پار دھکیل دیے ہیں۔

پنجاب کلچر ڈے کے حوالے سے جہاں پنجابی کے خدمت گار بہت پُر جوش اور مُتحرک ہیں وہیں کچھ لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ پنجابیوں کو کلچر ڈے منا نے کا خیال اِتنی دیر سے کیوں آ یا ِ؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ضرورسہی لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ہمیشہ ”دِن“منانے کی ضرورت اُس وقت ہی پڑتی ہے جب”مذکور“ کے معدوم ہونے کاخوف ہو۔پنجابی تہذیب یا کلچر کبھی بھی اتنے کمزور نہیں رہے کہ ان کے مٹ جانے کا ڈررہا ہو۔ سِندھی، بلو چی اور پختون تہذیبیں اپنی جگہ اہم ضرور سہی لیکن پنجابی رہتل اِن کے علا وہ دُنیا کی بڑی تہذیبوں سے بھی بہت آگے کھڑی ہے۔یہ محرومی اپنی جگہ سہی کہ ہماری زبان نصاب کا حصہ نہیں، اُس پرحکومت کی توجہ بھی نہیں،لیکن ہمیں یہ خوف کبھی نہیں رہا کہ پنجابی تہذیب ختم ہو جائے گی یا ہماری آنے والی نسلیں ہماری روایتوں سے منہ موڑ لیں گی۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ضرور آ تی ہے لیکن پنجابیوں نے اپنی قدروں کو دوسروں کی نسبت بہت اچھی طرح سے سنبھا ل رکھا ہے۔ ہمارے ہاں رشتوں کا احترام، چھو ٹے بڑے کا ادب، مہمان نوا زی اور شا دی بیاہ سے لے کر جینے مرنے تک کے بہت سے ایسے ریت،رواج آج بھی موجو د ہیں جودُکھ سکھ بانٹنے کا پیغام دیتے ہیں۔

تہذیب یا کلچر اجرک، ٹوپی، پگڑی یا ناچ گانے کا نام نہیں بلکہ یہ سب چیزیں تہذیب کا بہت معمولی سا حصہ ہیں۔ تہذیب تو آ پ کو سنوارنے سے لے کر رہن سہن تک ہر اُس روا یت کا نام ہے جس کی خوشبو صدیوں سے مٹی سے اٹھ رہی ہو۔اِس معا ملے میں پنجاب دوسروں سے بہت آ گے ہے۔پنجاب کی بے شمار ایسی مثبت روایات صدیوں پہلے کی طرح آ ج بھی زندہ ہیں جنہیں ہماری نئی نسل بھی اسی طرح سینے لگا ئے ہُو ئے ہے جیسے ہمارے آ با ؤ اجداد نے انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنارکھا تھا۔ بات چل رہی تھی پنجابی کلچر ڈے منانے کی،جسے ہم ہر روز اپنی ہر خوشی اورغم کے موقعے پر منا تے ہیں۔موجودہ حالات میں پنجاب کلچر ڈے منانے کی ضرورت اِس لئے محسوس کی جا رہی تھی کہ دُنیا میں خا ص دِن منا نے کی روا یت مضبوط ہو رہی ہے۔بالخصوص جب سے سِندھی، پختون اور بلو چی تہذیب کے دِن منائے جا رہے ہیں تب سے ہما ری نئی نسل کی بھی خواہش تھی کہ ”پنجابی کلچر ڈے“ منایا جائے۔ اِسی تقاضے یا ضرورت کو محسوس کر تے ہوئے پنجابی خدمت گاروں نے بہت ہی کم عر صے میں تمام تر انتظا مات کئے ہیں۔میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اِس دِ ن کو حکومتی سر پرستی کے بغیر منا یا جا رہا ہے۔

یہ پنجاب کی ثقا فت کا دِن ہے جِس کی سر پرستی کی تو فیق نہ خود حکومت ِپنجاب کو ہو رہی ہے اورنہ ہی اُن اداروں کو جو پنجابی ثقافت کے نام پر اربوں کا فنڈ کھا رہے ہیں اور تو اور لا ہور آ رٹس کو نسل کو بھی خیال نہیں آیاجس نے بلوچ ڈے تو پنجابیوں کے خر چے پر منایا،مگرپنجاب ڈے کے لئے نہ ہی اُس کے پا س فنڈز ہیں اورنہ سہو لیات۔بہر حا ل اِس محبت کے فرض کونبھانے کے لئے پنجاب کے اپنے بیٹے ہی کا فی ہیں جو اپنی مٹی سے اظہار محبت کے لئے کسی کے محتاج نہیں اوریوں بھی ہمیشہ حکومتوں اور حکومتی گما شتوں نے پنجاب میں رہتے ہوئے سو تیلوں جیساسلوک ہی کیا ہے۔اگرچہ لا ہو رآ رٹس کو نسل میں بیٹھے اطہر علی خان اورذوالفقار زُلفی پنجابی ہو نے پر مان کر تے ہیں اور اپنی حدود میں رہتے ہوئے خدمت میں حصہ بھی لیتے ہیں،لیکن ان کی بھی اپنی مجبوریاں اور اپنی حدود ہیں۔ یہاں میں برادرم ضیاشاہد کا ذکر خیر ضرور کروں گا کہ انہوں نے بھی ہمیشہ ماں بولی کی خدمت کا فرض نبھایاہے جس کا عملی اظہار پنجابی روزنامے ”خبراں“کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار مجیب الرحمان شامی بھی پنجابی ضرب الامثال کا استعمال کرکے اپنے پنجابی ہونے کا پتا دیتے رہتے ہیں۔انہیں بھی پنجابی کلچر ڈے کے حوالے سے اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے۔میں قومی اخبارات، جو بالخصوص پنجاب سے شائع ہورہے ہیں ان کے مدیران سے بھی گزارش کروں گا کہ اس دن کی نسبت سے خصوصی ایڈیشن ضرور شائع کریں اور نیوز چینلز کے لاہور میں موجود بیوروز بھی اسے خصوصی کوریج دیں۔پنجاب ہم سب کا ہے،ہمیں اس مٹی نے عزت اور وقار دیا ہے،اب کم از کم اتنا فرض تو لازم ہے کہ ہم بھی اسے اپنی شان بناتے ہوئے غیرت مند پنجابی ہونے کا ثبوت دیں۔

میں تمام پنجابی بھائیوں سے ملتمس ہوں کہ پنجاب کلچر ڈے کو خوب منائیں اور اِس کے ہر پروگرام میں شرکت کریں۔ محبتیں تقسیم کریں اور دوسروں کو بھی باور کرائیں کہ پنجابی تہذیب نما یا ں ہونے کے لئے حکومتی فنڈزکی محتاج نہیں۔پنجاب کلچر ڈے میں اپنے بچوں سمیت آئیے اور پنجاب کے رنگ خوب منائیے۔ پنجابی سے محبت کرنے والے چودہ مارچ کو لاہور میں آپ کے منتظر ہوں گے اور دل کو فرشِ راہ کرکے ”جی آیاں نوں“کہیں گے۔

مزید : رائے /کالم