بھارت میں مسلم آبادی کے تحفظ کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں

بھارت میں مسلم آبادی کے تحفظ کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں

  



لاہور (نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سربراہان مملکت اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام اپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں مسلم آبادی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔ اپنے خط میں سینیٹر سراج الحق نے عالمی برادری کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث بھارت مذہبی اقلیتوں کیلئے قید خانہ بنتا جارہا ہے۔ متنازعہ شہری بل کی منظوری کے بعد برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے عسکری بازو راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ کے ہاتھوں عام شہریوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ صرف دارالحکومت دہلی میں پچاس سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ تین سو سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ مساجد شہید کردی گئی ہیں، بستیوں کی بستیاں جلادی گئی ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تشدد اور قتل و غارت پھیلانے والے عناصر کی سرپرستی اور پشتیبانی کررہے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ بھارتی اقلیتوں جس میں مسلمان، مسیحی اور نچلی ذات کے ہندو شامل ہیں کی حفاظت کے لیے ممکنہ اقدامات کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید بے گناہوں کی جانیں ہندو تعصب کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔ کیا دنیا منتظر ہے کہ ہندوستان میں بھی اراکان (برما) کی تاریخ دہرائی جائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں متنازعہ بل کی منظوری کے بعد بھارتی فاشسٹ حکومت نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم کاروائی کا آغاز کررکھا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں قتل عام واضح کرتا ہے کہ بھارتی حکومت اس شرمناک، انسانیت کش اقدام میں برابر کی شریک ہے اور ملک سے مسلمانوں کو نکال دینا چاہتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے سربراہان مملکت اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جموں و کشمیر میں استصوا ب رائے کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروائیں۔دریں اثنا ء سینیٹر سراج الحق نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب اور یورپ کی عورت واقعی مظلوم ہے،وہاں کے معاشرے نے عورت کے سر سے باپ کا سایہ،خاوند کا سہارا،بھائیوں کی شفقت اور بیٹوں کی محبت چھین کر اسے تنہا کردیا ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں جہاں عورت کے حقوق کی حفاظت کیلئے اس کا باپ،بھائی،خاوند اور بیٹا اپنی جان تک قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں وہاں میراجسم میری مرضی جیسے نعرے لگانا سراسر غیرت و عزت کے منافی ہے۔

کے سی آر منصوبے کے متاثرین کا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج

کراچی (این این آئی) سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر کراچی سرکلر ریلوے کے متاثرین کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کے سی آر منصوبے کے متاثرین نے منصوبے کی جگہ خالی کرانے کے خلاف بینرز اٹھا کر سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر احتجاج کیا، متاثرین نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انھیں گھر کے بدلے گھر فراہم کیا جائے، رائل پارک اپارٹمنٹس کے متاثرین کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔متاثرین رائل پارک اپارٹمنٹس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایس بی سی اے کا این او سی موجود ہے، سندھ گورنمنٹ بورڈ آف ریونیو نے 99 سال کی لیز دی ہے۔ دریں اثنا، عدالت کے باہر بلدیاتی ملازمین بھی موجود ہیں جنھوں نے عدالت سے 15 فی صد اضافی تنخواہ اور پنشن دلوانے کی استدعا کر رکھی ہے۔فردوس شمیم نقوی نے عدالت کے باہر پہنچنے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بلڈرز کی حمایت میں تجاوزات کو گرانے سے نہیں روکا تھا، بلکہ یہ مقف ہے کہ متبادل نہ دینے تک تجاوزات نہیں گرائی جانی چاہیئں، یہ بات غلط ہے کہ میں بلڈرز کا نمائندہ ہوں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 6 ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے چلانے کا حکم دے دیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں وزیر اعظم اور وزیر اعلی سندھ کو نوٹس بھیجیں گے۔

احساس کفالت پروگرام فلاحی ریاست کی جانب اہم قدم،ثانیہ نشتر

ہری پور(آئی این پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی اور بی آئی ایس پی کی چیئر پرسن ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہااحساس کفالت پروگرام کے تحت احساس آمدن میرا کاروبار میری آمدنی کا خواب پورا ہو رہا ہے، ستر لاکھ غریب مستحق خواتین کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے کے لیے پر عزم ہیں احساس کفالت پروگرام پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے ملک بھر کے بیس سے زائد اضلاع میں اس پروگرام کو شروع کیا گیا ہے،چار سو کے قریب یونین کونسل میں غریب مستحق افراد کو رقم فراہم کی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ پسماندہ طبقے کی مستحق نادار خواتین کو بائیو میٹرک سسٹم کے تحت رقوم کی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جارہا ہے وفاقی حکومت خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے خصوصی اقدامات اٹھارہی ہے، احساس کفالت پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سوشل سیفٹی پروگرام ہے جس کے تحت مستحق خواتین کو ماہانہ رقوم کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔

ثانیہ نشتر

مزید : صفحہ آخر /رائے /کالم