کابل میں فائرنگ، 32جاں بحق، حملہ عبد العلی مزاری کی برسی کی تقریب میں ہوا، عبد اللہ، حامد کرزئی اور کریم خلیلی بال بال بچے طالبان کا واقعے سے اعلان لاتعلقی

  کابل میں فائرنگ، 32جاں بحق، حملہ عبد العلی مزاری کی برسی کی تقریب میں ہوا، ...

  



اسلام آباد /کابل/قندوز (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)افغان دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں جہادی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت32افراد ہلاک اور81زخمی ہوگئے جبکہ افغان سیکورٹی فورسز نے 2دہشتگردوں کو ہلاک کردیا،تقریب میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، افغان اعلی امن کونسل کے چیئرمین کریم خلیلی اور سابق صدر حامد کرزئی سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں جو با ل بال بچ گئے،تاحال کسی گروپ کی جانب سے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی جبکہ طالبان نے حملے سے لاتعلقی کا اظہا ر کیا ہے،افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کو غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے فائرنگ کی مذمت کی ہے۔جمعہ کووزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے ایک ٹوئٹ کیا کہ کابل فائرنگ کے حملہ میں ملوث دو دہشت گردوں کو افغان نیشنل پولیس کے کرائسز ریسپانس یونٹ(سی آر یو) نے ہلاک کردیاہے اورنماز جمعہ سے پہلے جھڑپیں ختم ہوگئیں۔فائرنگ کے وقت تقریب میں موجود حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردی کے حملے میں 32 شہری ہلاک اور81زخمی ہوئے ہیں۔یہ حملہ اس وقت ہوا جب دو مسلح افراد نے کابل کے مغربی علاقے دشت براچی میں سپورٹس اسٹیڈیم جیسے ثقافتی مذہبی کمپلیکس میں جہادی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کی مناسبت سے ہونی والی تقریب میں شریک افراد پر مشین گنوں سے فائرنگ شروع کی۔ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اس سے قبل وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے مقامی تولو نیوزٹی وی کو بتایا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پرکابل کے پولیس ضلع 6 کے علاقہ داشتی بارچھی میں جمعہ کو ہوانے والے دہشت گردی کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت32 شہری ہلاک اور81زخمی ہوئے ہیں۔یہ حملہ مقا 11 بج کر20 منٹ پراس وقت ہوا جب مسلح افراد نے اسپورٹس اسٹیڈیم جیسے ثقافتی ومذہبی کمپلیکس مصلی شاہد مزاری میں ہونے والی ایک تقریب پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ شروع ہونے کے وقت افغان اعلی امن کونسل کے چیئرمین کریم خلیلی خطاب کررہے تھے فائرنگ سے بچنے کے لئے وہاں موجود لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔رحیمی نے بتایا کہ جوابی حملہ سہ پہر دیر تک جاری ہے۔افغان قومی پولیس کے کرائسز ریسپانس یونٹ(سی آر یو)نے دوعمارتوں کو خالی کرالیا ہے جبکہ دہشت گردوں کے قبضے میں ایک تیسری عمارت میں دہشت گردوں کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔حکومتی چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ،خلیلی اور سابق صدر حامد کرزئی سمیت تقریب میں موجود اکثر سیاستدان اور سرکاری اہلکار محفوظ رہے جو وہاں سے بحفاظت روانہ ہوئے۔اس تقریب کا اہتمام جہادی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کے موقع پر کیاگیاتھا۔تاحال کسی گروپ کی جانب سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔طالبان نے حملے سے لاتعلقی کا اظہا ر کیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کو غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے فائرنگ کی مذمت کی ہے۔دوسری جانب شمالی افغانستان کے صوبہ قندوز میں علی الصبح ایک جھڑپ کے دوران2 پولیس افسران اور 5طالبان جنگجو مارے گئے ۔جمعہ کوصوبائی حکومت کے ترجمان عصمت اللہ مرادی نے شِنہوا کو بتایا کہ جھڑپیں جمعہ کی صبح اس وقت شروع ہوئیں جب طالبان جنگجوں نے صوبائی دارالحکومت قندوز شہر کے مضافات میں مہموریات دوئم علاقہ میں ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا، 2 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں 2 پولیس اہلکار اور 2شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں۔اس صوبہ میں اکثر وبیشتر ایسی شدید جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جب طالبان سکیورٹی فورسز پر حملے کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔ادھر پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغان دارالحکومت کابل میں دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ کابل میں دہشت گرد حملے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان افغان تنازع کے حل کیلئے بات چیت کا حامی ہے۔ پاکستان نے تمام فریقین پر افغانستان میں امن واستحکام کیلئے تعمیری سوچ کے ساتھ کام کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ امن معاہدے کے لیے خطرہ ہے۔ زلمے خلیل زاد نے رہنما افغان طالبان ملا برادر سے ملاقات کی جس میں امن معاہدہ کے بعد کی صورتحال اور اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی، اس موقع پر زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان رہنما ملا برادر کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کا تسلسل ہے۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ تمام فریق افغانستان میں امن کیلئے راہ ہموار کرنے پر متفق ہیں تاہم پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ افغانستان میں امن معاہدے کے لیے خطرہ ہے لہذا پرتشدد کارروائیوں کا فور خاتمہ ضروری ہے۔

کابل میں فائرنگ

مزید : صفحہ اول