صاف پانی کیلئے 150فلٹریشن پلانٹس ناکارہ، شہری مختلف و بائی امراض میں مبتلا

  صاف پانی کیلئے 150فلٹریشن پلانٹس ناکارہ، شہری مختلف و بائی امراض میں مبتلا

  



لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارلحکومت میں شہریوں کو جراثیم سے پاک پانی کی فراہمی کے لیے لگائے گئے 150فلٹر پلانٹس خراب ہو گئے ہیں اور ان سے صاف پانی کے بجائے آلودہ پانی فراہم کیا جارہا ہے جس کے باعث شہری مختلف وبائی امراض کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ان فلٹریشن پلانٹ میں سے 90 میٹرو پولٹین کارپورریشن اور لاکل گورنمنٹ کی ملکیت ہیں جبکہ دیگر 60پلانٹس واسا کی بے حسی کا شکار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ شہر میں اربوں روپے مالیت سے لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے مختلف مقامات پر 540 فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے جن میں سے 150پلانٹس صاف پانی کی بجائے بدبودار اور آلودہ،فنگس زدہ پانی کی سپلائی کا باعث بن رہے ہیں۔ان میں سے 70 پلانٹس ایسے ہیں جن کی ٹوٹیاں تک غائب ہو چکی ہیں جبکہ سالہا سال سے مجموعی طور پر 150پلانٹس کے فلٹر ہی تبدیل نہیں کئے گئے۔اس صورتحال کے باعث جو لوگ صاف پانی سمجھ کر یہ پانی استعمال کر رہے ہیں وہ پیٹ کی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔اس حوالے سے ایم ڈی واسا سید زاہد عزیز نے رابطہ پر بتایا کہ 90فلٹریشن پلانٹس واسا کی ملکیت نہیں ہیں اس کے لیے ہم نے گورنر پنجاب سے فنڈز مانگے ہیں کہ وہ ان کی تعمیر و مرمت کے لیے فنڈز فراہم کریں تا کہ انہیں درست کروایا جا سکے۔ یہ پلانٹس میٹرو پولٹین کارپوریشن یا لوکل گورنمنٹ نے لگائے۔واسا نے نہیں لگائے بلکہ واسا کے حوالے کئے گئے ہیں۔

فلٹریشن پلانٹس

مزید : صفحہ اول