امان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی امان اللہ

امان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی امان اللہ

  



لاہور (فلم رپورٹر)لیجنڈکنگ آف کامیڈی پرائڈ آف پرفارمنس امان اللہ خاں 70برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد لاہور کے مقامی اسپتال میں انتقال کر گئے۔امان اللہ گردوں اور پھیپڑوں کے مرض میں مبتلا تھے۔امان اللہ خان 2018ء سے بیمار رہنا شروع ہو گئے تھے اورپھیپھڑوں، گردوں اوردل کے عارضہ کی وجہ سے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہے۔ان دنوں بھی وہ نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور تشویشناک حالت پر انہیں وینٹی لینٹر پر رکھا گیا تھا جہاں وہ جمعہ کے روز اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔مرحوم کی نماز جنازہ پیراگون سوسائٹی میں ادا کی گئی جس میں سیاسی،سماجی،شوبز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔امان اللہ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان،اداکار سہیل احمد،امانت چن،نعمان اعجاز،اکرم اداس،منیر خان،ہنی البیلا،ندیم چٹا،پروڈیوسر ارشد چوہدری،ڈائریکٹر کاشف نثار،راشد محمود،عرفان کھوسٹ،ناصر چنیوٹی،قیصر پیاء،عامر کیفی،مجاہد عباس،ڈائریکٹر عتیق الرحمن،نعیم الحسن،ٹھاکر لاہوری،طاہر بخاری،اشفاق حسین،قیصر افتخار،زاہد خان،بسعد رشید،افضل بٹ،اعجا ز حیدر،قیصر ثناء اللہ،شہزاد چیئرمین،ذوالفقار علی زلفی،مولانا فاروق،منظر امین،عمران نواب،ببو رانا،آغا محمد علی،اشفاق چوہدری،پرویز خان،عمران شوکی،صابر علی گاگا،برجو،سلمان قادر،طاہر نوشادشاہجہان رانا،علی شفقت،سہیل ٹونی،احد شیخ،اچھی خان،سخی سرور،نیئر اعجاز،جاوید لودھی،شاہد خان، اور جانو بابا کے نام نمایاں ہیں۔مرحوم امان اللہ کے والد امرتسر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے اور وہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔مرحوم اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے اور ان کی ایک بہن تھیں۔مرحوم نے 3شادیاں کیں جن سے ان کے 14بچے ہیں۔امان اللہ کے بڑے صاحبزادے امانت علی کا شمار معروف گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ فلم،ٹی وی اور سٹیج کے اس فنکار کے کیرئیر کا آغاز تھیٹر سے ہوا اور تھیٹر ہی ان کی وجہ شہرت بنا۔البیلا مرحوم کے ساتھ ان کی جوڑی کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔امان اللہ کے والد ان کو کلاسیکل گائیک بنانا چاتے تھے لیکن وہ گائیکی کے شعبے میں خود کو مس فٹ سمجھتے تھے مگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو بطور اداکار و گلوکار متعارف کرواتے تھے۔امان اللہ نے اپنے کیرئیر کے ابتداء میں راحت تھیٹر،786آڈیٹوریم،وائے ایم سی اے اور اوپن ایئر تھیٹر باغ جناح میں لاتعداد ڈرامے کئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق مرحوم نے اپنے فنّی کیرئیر کے دوران2000سٹیج ڈراموں میں پرفارم کیا۔ان کے زیادہ تر سٹیج ڈرامے بے مثال کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔”ون ٹو کا ون“سے فلمی کیرئیر کا آغاز کرنے والے امان اللہ نے متعدد فلموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے جوہر دیکھائے۔ نجی ٹی وی چینلز کے کئی شوز میں خاص طور پر ”مذاق رات“میں ان کی بے ساختہ کامیڈی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔حکومت پاکستان کی جانب سے گراں قدر خدمات پر انہیں 2018ء میں اعلی سول اعزاز سے بھی نوازا گیا۔صدر پاکستان عارف علوی،وزیر اعظم عمران خان،میاں محمد نواز شریف،چیئر مین سینٹ محمد صادق سنجرانی،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے امان اللہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ امان اللہ ایک انتہائی باصلاحیت فنکار تھے جنہوں نے پاکستان اور پاکستان کے باہر اپنے فن کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ مرحوم کی مزاح اور اداکاری کے شعبے میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ قائد حزب اختلاف شہبازشریف مسلم لیگ (ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب مسلم لیگ ن کے چیف آرگنائزرراجہ مشتاق احمد منہاس نے امان اللہ خان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ قہقہے باٹنے والا فنکار امان اللہ آج اپنے لاکھوں مداحوں کو آنسو دے کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور پیر سعید الحسن شاہ،ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل اطہر علی خان سمیت دیگر حکومتی، سیاسی، مداحوں اورشوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

امان اللہ

مزید : صفحہ اول