امریکہ میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 8ارب 30کروڑ ڈالر مختص، مزید 3افراد ہلاک

    امریکہ میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 8ارب 30کروڑ ڈالر مختص، مزید 3افراد ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے آٹھ ارب تیس کروڑ ڈالر کا فنڈ منظور کر لیا ہے ایوان نمائندگان اورسینیٹ کی طرف سے موصول ہونے والے بل پر صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز دستخط کردیئے اس دوران تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جمعہ کی صبح تک اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چودہ ہو گئی اور یہ تمام ہلاکتیں بحرالکاہل کے کنارے پر واقع دو ریاستوں واشنگٹن اور کیلیفورنیا میں ہوئیں باقی ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد میں معمولی اضافہ ہوا ہے جو اب دو سو قریب ہو گئی ہے نئے قانون کے ذریعے مختص کی گئی رقم ویکسین کی تیاری، تجربات اور ممکنہ علاج کے علاوہ ریاستی اور مقامی حکومتوں کو اس وائرس سے نمٹنے کیلئے علاج،حفاظتی سامان کی خریداری اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کیلئے استعمال ہو گی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چینی حکومت نے اپنی بند پالیسی کے باعث باہر کی دنیا کو وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں معلومات دیر سے فراہم کیں جس کی وجہ سے وائرس دوسرے ممالک میں زیادہ پھیلا۔ امریکہ میں بھی ناکافی معلومات کے باعث وائرس پر قابو پانے میں کچھ وقت پیش آئی جہاں پھر بھی حالات قابو میں ہیں ”سی این بی سی“ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے CAVID-19 کہلانے والے اس وائرس کو ”ووہان وائرس“ کا نام دیا کیونکہ اس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا۔ مائیک پومیپو کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر وائرس کے پھیلنے کی صورت میں معلومات میں شفافیت بہت ضروری ہے لیکن چین نے اس کے بارے میں اصل حقائق کو بہت دیر تک چھپا کے رکھا انہوں نے بتایا اس کے باوجود امریکہ نے چینی حکومت کو مکمل امداد دی ہے اور ضروری طبی سامان فراہم کی جائے۔ امریکہ میں سب سے پہلے کرونا وائرس مغربی ساحل کی ریاست واشنگٹن کے دارالحکومت سیاٹل کے ایک نرسنگ ہوم میں ظاہر ہوا جہاں اس سے تیرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متاثرہ افراد کی تعداد ستر ہے اس کے بعد اس کے جنوب میں واقع ریاست کیلیفورنیا میں یہ وائرس ظاہر ہوا جہاں اس سے ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد 49 ہے ان دونوں ریاستوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا گیا ہے دیگر ریاستوں میں بھی کچھ کیسز دیکھنے میں آئے ہیں جو تمام ایسے افراد میں جنہوں نے حال ہی میں دنیا کے متاثرہ ممالک ہو سفر کیا ہے۔

بجٹ مختص

مزید : صفحہ اول