کرونا وائرس، عالمی معیشت کو 347، پاکستان کو 5ارب ڈالر نقصان کا خدشہ،93ممالک میں 1لاکھ افراد متاثر

کرونا وائرس، عالمی معیشت کو 347، پاکستان کو 5ارب ڈالر نقصان کا خدشہ،93ممالک ...

  



اسلام آباد،واشنگٹن،تہران،نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں) چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے عالمی معیشت کو 77 سے 347 ارب ڈالر تک نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ بدترین صورتحال ہوئی تو پاکستان کو بھی تقریباً پانچ ارب ڈالرز کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔کرونا وائرس کے ممکنہ نقصانات پر ایشیائی ترقیاتی بینک نے رپورٹ جاری کی ہے کہ مہلک بیماری سے جہاں عالمی معیشت نقصان اٹھائے گی وہاں پاکستان کو بھی تقریباً 5 ارب ڈالرز کا نقصان ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان کی زراعت کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کاروبار، تجارت اور پبلک سروسز کو 1 ارب 94 کروڑ ڈالر نقصان کے ساتھ ہوٹل، ریسٹورنٹ، مینو فیکچرنگ،تعمیرات بھی متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ پاکستان کی چین سے سپلائی لائن متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے جس سے تقریبا ساڑھے 9 لاکھ افرادبے روزگار ہو سکتے ہیں۔ یہ تخمینہ ممکنہ بد ترین صورت حال کو مد نظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔ وائرس کی روک تھام کیلئے اقدامات سے معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔دریں اثناء وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت کرونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تمام ایئرپورٹس اور زمینی راستوں پر سکریننگ کا موثر نظام موجود ہے۔ پانچ مارچ کو 22 ہزار مسافروں کی سکریننگ ہوئی ابھی تک سات لاکھ نوے ہزار مسافروں کی زمینی اور ہوائی راستوں پر سکریننگ کی گئی ہے اوروبائی امراض کی روک تھام کیلئے ڈی ایس آر یو قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جوقابل ڈاکٹرز او ماہرین صحت پر مشتمل ہو گا جو وبائی امراض کی روک تھام کیلئے کلیدی رول ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے چاروں ہمسایہ ممالک میں کرونا وائرس کے کیسز موجود ہیں۔وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنارہی ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک چھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے جمعرات تک کرونا وائرس کے 148کیسز رپورٹ کئے ہیں۔ ان میں 50ایسے کیسز بھی شامل ہیں جس میں انفیکشن کے ذرائع واضح نہیں ہیں۔ ملک میں وائرس سے 11اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں 10واشنگٹن ریاست اور ایک کیلی فورنیا میں ہوئی۔دوسری جانب کرونا وائرس دنیا کے 93ممالک میں تقریبا ایک لاکھ افراد کو متاثر کرچکا ہے اور یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔بھارت میں کورونا وائرس سے 31افراد کے متاثر ہوئے کی تصدیق ہوچکے ہے جبکہ بھوٹان میں پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سیاحوں کی آمد پر 2ہفتوں کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم چین کے شہرووہان میں رواں ماہ کے آخر تک کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح صفر ہوجانے کا امکان ہے، چین میں مجموعی طور پر اب تک سامنے آنے والے کورونا کیسز کی تعداد 8 ہزار 409 تک پہنچ گئی ہے۔اس ضمن میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ووہان شہر کے سوا صوبہ ہوبے میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کوئی نیا کیسز رپورٹ نہیں ہوا۔امریکا میں کرونا وائرس سے ایک اور ہلاکت کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 12ہو گئی جبکہ 57نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثر افراد کی تعداد تقریبا 150تک پہنچ گئی ہے۔ادھرسوشل میڈیا کمپنیوں فیس بک اور گوگل نے سان فرانسسکو میں اپنے ملازمین کو گھر میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی ہے تا کہ وائرس کے پھیلا کا خطرہ کم کیا جاسکے۔جبکہ مائیکرو سافٹ کمپنی نے اپنے 2ملازمین کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ سان فرانسسکو کے ساحل پر لنگر انداز بحری جہاز تاحال روانہ نہیں کیا جاسکا کیوں کہ جہاز میں سوار 35افراد کے بیمار ہونے کی وجہ سے ان کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں۔ گزشتہ روز اسی جہاز میں سوار ایک شخص کی وائرس کے باعث ہلاکت ہوگئی تھی۔جاپان میں 2011میں آنے والے ہلاکت خیز سونامی سے ہونے والی جوہری تباہی کی یاد میں سالانہ منعقد کی جانے والی تقریب منسوخ کردی گئی۔ ساتھ ہی اولمپک مشعل کی آمد کی تقریب بھی محدود کردی گئی ہے اس سلسلے میں 140بچوں کو مشعل لینے کے لیے یونان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین کے بعد وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک جنوبی کوریا میں 22غیر ملکیوں کو قرنطینہ سے فارغ کردیا گیا ہے جہاں مجمورعی طور پر 6ہزار 284کیسز سامنے آچکے ہیں۔دوسری جانب ایران کے سابق نائب وزیر خارجہ حسین شیخ الاسلام کرونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 67برس تھی۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ ان کا انتقال جمعے کی صبح تہران کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ حسین شیخ الاسلام کی رحلت پر موجودہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اپنا قریبی دوست قرار دیا۔ تہران حکومت کے مطابق ایران میں کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے تجاوز ہو چکی ہے۔ اس بیماری سے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد107 ہے۔

کرونا وائرس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)ایشیائی ترقیاتی بینک سے جاری نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس مختلف چینلز کے ذریعے ترقی پذیر ایشیائی ممالک پر نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔اے ڈی بی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقامی طلب میں تیزی سے کمی، سیاحت اور کاروباری سفر، تجارتی اور پیداواری روابط میں کمی، فراہمی میں خلل اور صحت پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے جس کا انحصار وائرس پھیلنے پر ہے۔بینک کے مطابق معاشی خسارے کا انحصار اس پر ہے کہ وبا کسے پھوٹتی ہے جو کہ اب تک سب سے زیاہ غیر یقینی ہے۔اس حوالے سے کیے گئے تجزیے میں 77ارب ڈالر سے 3سو 47ارب ڈالر تک کے عالمی اثرات یا عالمی شرح نمو کے فیصد سے 0.4فیصد تک اثرات بتائے گئے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق معتدل منظرنامے جہاں احتیاطی رویے اور پابندیاں جیسا کہ سفری پابندیاں جنوری کے اواخر میں نافذ کی گئی پابندیوں کے 3ماہ بعد آسان ہونا شروع ہوگئیں تو عالمی خسارہ ایک سو 56 ارب ڈالر یا عالمی شرح نمو کے 0.2 فیصد تک پہنچ جائے گا۔چین کو ایک سو 3 ارب ڈالر یا شرح نمو کا 0.8 فیصد خسارہ ہوگا، دیگر ترقی پذیر ایشیا کو 22 ارب ڈالر یا اس کی شرح نمو کا 0.2 فیصد خسارہ ہوگا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے چیف اکنامسٹ یاسوکی سواڈا نے کہا کہ کووڈ-19 سے متعلق اس کے معاشی اثر سمیت بہت سی غیر یقینی صورتحال ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے ممکنہ نقصانات کی واضح تصویر فراہم کرنے کے لیے متعدد منظرناموں کے استعمال کی ضرورت ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تجزیہ حکومتوں کو وبا ء کے انسانی اور معاشی اثرات دور کرنے میں واضح اور فیصلہ کن تعاون فراہم کرسکے۔یہ تجزیہ دی اکنامک امپیکٹ آف کووڈ-19 آن ڈیولپنگ ایشیا اس حوالے سے غور کیے گئے مناظر کی مکمل تفصیلات پیش کرتا ہے۔یہ ترقی پذیر ایشیائی معیشتوں اور ان معیشتوں کے شعبوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا تخمینہ پیش کرتا ہے جس میں نمایاں وبا کی صورت میں اس معیشت کا فرضی بدترین منظرنامہ بھی شامل ہے۔اسے پیش گوئی کے طور پر تشریح نہیں کیا جائے کہ ایک وبا پھیلے گی بلکہ اس کا مقصد حکومتوں کو رہنمائی فراہم کرنا ہے کیونکہ وہ مناسب ردعمل پر غور کررہے ہیں۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک

مزید : صفحہ اول