اثاثہ جات انکوائری کیلئے لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نیب کے دفتر میں پیش

  اثاثہ جات انکوائری کیلئے لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نیب کے دفتر میں پیش

  



لاہور (آن لائن) مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری میں نیب لاہور ہیڈ کوارٹر میں پیش ہو گئے۔ نیب کی تفتیشی ٹیم نے رانا ثنا اللہ سے مختلف سوالات پوچھے اور ساتھ لائے گئے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اپنی آمدن اور اثاثہ جات کے حوالے سے رپورٹ جمع کرا دی ہے،جو معلومات میرے علم میں تھیں وہ نیب کو فراہم کردی ہیں، مجھے بتایا گیا ہے کہ میری آسٹریلیا میں بھی دو ارب روپے کی جائیداد ہے جس پر میں نے پیشکش کی ہے کہ اسے سامنے لائیں آدھی، آدھی کر لیتے ہیں، نیب کی جانب سے جب بھی بلایا جائے گا میں پیش ہو جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو ادارے کے طور پر اپنا تشخص قائم کرنا ہو گایہ تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ نیب شہزاد اکبر کے ہاتھ میں ہے،خسرو بختیار کو کیوں گرفتار نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ابھی مریم کو بولنے کی اجازت نہیں دی، وہ بولیں گی اور باہر بھی نکلیں گی۔سینئر سیاستدانوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی ہے جو حکومت کے اتحادیوں اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے کرے گی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو کام کرنے کی آزادی ملنی چاہیے،ایک نعرہ تنازعہ بن گیا ہے، نعرے میں برائی نہیں لیکن ان الفاظ کو غلط معنی دیا جا رہاہے،میرا جسم کی جگہ میری زندگی میری مرضی کا نعرہ ہونا چاہیے، تمام معاشرے کو خواتین کو عزت دینا ہوگی۔

رانا ثنا اللہ

مزید : صفحہ اول