سی سی آئی کاسسٹینیبلٹی پلیج کے لائحہ عمل کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

  سی سی آئی کاسسٹینیبلٹی پلیج کے لائحہ عمل کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

  



لاہور(پ ر)کوکا۔کولا سسٹم میں صف اول کے باٹلر سی سی آئی میں شامل سی سی آئی پاکستان نے حال ہی میں مقامی ہوٹل میں سسٹینیبلٹی پلیج 2030 ('Sustainability pledge 2030')کے لائحہ عمل کیلئے ورکشاپ کا انعقادکیا۔اس ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ سی سی آئی پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسکے بزنس پارٹنرز، پالیسی سازوں، مشاورت فراہم کرنے والوں، فلاحی اداروں، تجارتی سپلائیرز اور حکومت کے مقامی نمائندوں کو سسٹینیبلٹی پلیج 2030 پر عمل درآمد کے لئے شامل کیا جائے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے آئیڈیازاور تجاویز پیش کی جائیں۔ سسٹینیبلٹی پلیج 2030 کی روشنی میں سی سی آئی کی جانب سے صارفین کو مرکزی اہمیت دینے کے ساتھ ہی ساتھ ماحولیات کے تحفظ جیسے اہم شعبوں میں متعلقہ چیلنجز کا خاتمہ کرنا ہے اور جن علاقوں میں کوکا۔کولا کام کرتی ہے وہاں مقامی آبادی کی ترقی کے لئے کام کرنا ہے۔

اس ورکشاپ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سی سی آئی پاکستان کے ڈائریکٹر پبلک افیئرز اینڈ کمیونکیشن عمران انجم نے کہا، "نجی شعبے کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اہم کردار ادا کرے۔ اپنے سسٹینیبلٹی پلیج 2030 کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ورکشاپس کا انعقاد سال 2030تک اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی تکمیل میں معاونت کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کا ثبوت ہے۔ یہ ہمارے وسیع تر مفاد میں ہے کہ اشتراک قائم کریں اور اپنے لوگوں، ماحولیات اور مستقبل کو درپیش انتہائی نازک خطرات سے نمٹنے کے لئے کام کریں۔" کامسیٹس یونیورسٹی لاہور کیمپس میں تیسری ڈائس انفارمیشن انیبلنگ ٹیکنالوجی کانفرنس کا آغاز کر دیا گیا ہے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہمارے ملک میں نہایت قابل لوگ ہیں جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ہر دم کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی کارکردگی کو پوری دنیا سراہتی ہے ہمیں اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تعلیمی ادارے اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کامسیٹس ڈاکٹر طاہر نعیم نے سائنس و ٹیکنالوجی میں جدت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وقاص نے کہا کہ ڈائس کا بنیادی مقصد سائنس و ٹیکنالوجی میں جدت کے فروغ کے ذریعے حکومت شعبوں سمیت تعلیمی انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ڈائس میں پورے پاکستان پراجیکٹس موصول ہوئے ہیں جن میں سے 80 پراجیکٹس کی نمائش کی گئی اس کی ساتھ ساتھ سمپوزیم اور کمسیٹس ٹیکنالوجی پارک ڈائس ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور انڈسٹریل نمائش کا افتتاح بھی کیا گیا۔تقریب میں حسینہ معین، عثمان پیرزادہ، سید نور اور مصباح اسحاق نے بھی بطور مہمان شرکت کی۔ تقریب دو روز جاری رہے گی اور ملک بھر سے سائنسدان اساتذہ اور طلبا شرکت کرینگے۔

مزید : کامرس