غیر ملکی سرمایہ کارسیاحت، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کریں، علی جہانگیر

غیر ملکی سرمایہ کارسیاحت، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کریں، علی ...

  



واشنگٹن ڈی سی(پ ر)کارنیگی انڈوومنٹ برائے بین الاقوامی امن (CEIP) جو دنیا کے ممتاز بین الاقوامی امن اور اسٹریٹجک بصیرت رکھنے والے تھنک ٹینکس میں سے ایک ہے، نے سفیر برائے سرمایہ کاری علی جہانگیرصدیقی کو پاکستان کی سرمایہ کاری کے ماحول اور موجودہ پاکستان۔ امریکہ کاروباری تعلقات پر گفتگو کے لئے مدعو کیا۔ اپنے ابتدائی کلمات میں سفیر علی جہانگیر صدیقی نے مراعات، اصلاحات اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاریوں کو راغب کرنے کے لئے حکومت پاکستان کی کوششوں کواجاگر کیا۔ سفیر علی جہانگیر صدیقی نے کہا کہ عالمی بینک کی تازہ ترین کاروباری آسانیوں کی درجہ بندی میں 28 درجے عبور کئے ہیں۔ اس رپورٹ میں ممالک کی تقابلی کارکردگی کا اندازہ لگایا گیا ہے، پاکستان اصلاحات کے ذریعے کافی حد تک بہتری لایا ہے۔ انہوں نے ٹیلی کام سیکٹر سمیت غیر ملکی سرمایہ کاری کی کامیاب مثالیں بیان کیں جن میں غیر ملکی ملکیت اور انتظام شامل ہے۔ انہوں نے سیاحت، زراعت اور مینوفیکچرنگ جیسے مزید شعبوں کی نشاندہی کی جو کامیاب سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پیش کرتے ہیں۔

ابتدائی کلمات کے بعد پاکستان اور امریکہ کے کاروباری تعلقات، پاکستان کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ میں بہتری لانے اور دہشت گردی کی مالی اعانت کو روکنے (AML-CFT) کی صورتحال، پاکستان کا سی پیک کے تحت چین کے ساتھ کاروبار کرنے کا تجربہ اور پاکستانی و امریکی کاروباری اداروں اور افراد کے پاک امریکہ تعلقات میں درکار کردار پر گفتگو کی گئی۔

تبادلہ خیال کے دوران سفیر صدیقی نے ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موجودہ انتظامیہ کی طرف سے قابل ذکر اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج تک پاکستان نے بڑے پیمانے پر 27 میں سے 14 ایکشن آئٹمز پر توجہ دی جس میں بقیہ ایکشن پلان پر مختلف سطحوں پر پیشرفت ہوئی۔ تاہم ایک سال قبل تک پاکستان نے تعمیل پر کوئی پیشرفت نہیں کی تھی جبکہ اکتوبر 2019ء تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف پر 27 ایکشن آئٹمز میں سے صرف 5 پر کام کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سی ایف ٹی اور منی لانڈرنگ کیسز کی بروقت قانونی چارہ جوئی اور فیصلوں کو یقینی بنانے کے لئے اہم کوششیں کی جا رہی ہیں جو ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کا اہم عنصر ہیں۔

سی پیک کے تحت چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے تجربہ کے بارے میں استفسار پر سفیر علی جہانگیر صدیقی نے وضاحت کی کہ یہ تجربہ کافی حد تک مثبت رہا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نتیجے میں ہونے والی تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے طویل عرصے تک پاکستان کے لئے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی تعاون کے لئے سی پیک منصوبوں کو کھولنے پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے امریکہ اور دیگر ممالک پر سی پیک منصوبوں میں باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب کی میزبانی کارنیگی انڈومنٹ برائے بین الاقوامی امن کے جنوبی ایشیاء کے پروگرام میں ایک غیر مقیم اسکالر جیمز شوئملین نے کی۔ شوئملین امریکہ کے سابق سفارت کار ہیں جن کا جنوبی ایشیاء اور امریکہ کی غیر ملکی اقتصادی پالیسی میں وسیع تجربہ ہے۔

انڈوومنٹ کا جنوبی ایشیائی پروگرام خطہ میں سیکورٹی، معیشت اور سیاسی پیشرفت سے متعلق پالیسی مباحثوں کا اہتمام کرتا ہے۔ پروگرام کی ماہرین پر مشتمل متنوع ٹیم مختلف اسٹیک ہولڈرز کے لئے جنوبی ایشیاء کے سب سے مشکل چیلنجوں پر گہرائی سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔ تقریب میں سیاستدانوں، تعلیمی ماہرین، میڈیا اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔

OOO

مزید : کامرس