سیکورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں سے امن کا قیام ممکن ہوا،راحت نسیم

  سیکورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں سے امن کا قیام ممکن ہوا،راحت نسیم

  



مہمند (نمائندہ پاکستان) مہمند، ایف سی ہیڈ کوارٹر قلعہ بالا حصار میں آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم کی سربراہی میں مہمند گرینڈ جرگہ کا انعقاد ہوا۔ جس میں ضلع مہمند کے سنیٹر ہلال الرحمن، ایم این اے ساجد خان، بریگیڈیئر رؤف شہزاد، کمانڈنٹ مہمند رائفلز کرنل محمد جمیل خان، ڈپٹی کمشنر ضلع مہمند افتخار عالم، سیکرٹری ایجوکیشن حسن محمود، ایم پی اے نثار خان مہمند، سابقہ سنیٹر عبدالرحمن فقیر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جدی خان خلیل، صوبائی وزارت صحت، منصوبہ بندی اور تعلیم کے آفیسرز کے علاوہ علاقے کے بااثر مشران، صنعت کار، نوجوانوں اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شرکت کی۔ جرگے کے شرکاء نے درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگوں کی اور اُن مسائل کے حل کیلئے اپنے تجاویز پیش کئے۔ اس موقع پر جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور قبائلی عمائدین کی انتھک محنت اور عظیم قربانیوں کی بدولت علاقے میں امن قائم ہوا ہے۔ اس موقع پر شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔ آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم نے کہا کہ علاقے میں امن قائم کرنے کیلئے موجودہ حکومت اور پاک فوج نے بہت کوشش کی ہے اور علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام قبائل ملکر اپنے علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاک فوج اور سیکورٹی فورسز تمام قبائلی عمائدین اور عوام کے ساتھ اپنا تعاؤ ن جاری رکھیں گے۔ آئی جی ایف سی نے مزید کہا کہ پاک فوج نے مہمند میں میگا پراجیکٹس کر کام کر کے عوام کے 70 سالہ محرومیوں کا خاتمہ کیا ہے۔ جس میں مہمند کیڈٹ کالج کا قیام، تحقی ٹنل اور دیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مہمند میں مزید میگا پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ جس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو جائیگا۔ جرگے میں سنیٹر ملک ہلال الرحمن اور یام پی اے نثار خان نے قبائلی ضلع مہمند میں جاری کاموں پر تفصیلی گفتگوں کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا اور علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے مختلف تجاویز پیش کیئے۔ آخر میں آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم نے سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان جرگوں کا سلسلہ جاری رہیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر