کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے قانون کا اجلاس، ترجیحات سے متعلق سفارشات کی منظوری

کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے قانون کا اجلاس، ترجیحات سے متعلق سفارشات کی ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے قانون کی حکمرانی کی پہلی میٹنگ کا انعقاد وزیر قانون و پارلیمانی امور اور انسانی حقوق سلطان محمد خان کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاورمیں ہوا جس میں متفقہ طور پر قانونی اصلاحات کی ترجیحات سے متعلق سفارشات پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔ ان سفارشات میں سنگین جرائم میں بریت میں ہونے والے اضافے میں کمی لانا، مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر کو ختم کرنا اور زیر سماعت مقدمات کے قیدیوں کی تعداد میں کمی لانا شامل ہیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی،ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی شکیل قادر،سیکرٹری محکمہ داخلہ اکرام اللہ خان،سیکرٹری محکمہ قانون مسعود احمد،ائی جی پولیس ثناء اللہ عباسی کے علاؤہ دیگر متعلقہ متعلقہ افسران سمیت جسٹس سسٹم سپورٹ پروگرام کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اوراجلاس کو قانون کی حکمرانی بارے تفصیلی بریفننگ دی گئی وزیر قانون نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے لئے تیار کئے گئے روڈمیپ اور اس میں متعین کردہ ترجیحات کا بنیادی مقصد شہریوں کے قانونی اداروں پر اعتماد میں اضافہ کرنا ہے جو واضح طور پر وزیرِاعظم صاحب کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روڈمیپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کاری اور ان کو درپیش رکاوٹوں کے حل کے لئے ممکنہ اقدامات کے لئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے وزیرِاعلٰی اور صوبائی حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے ہرممکنہ معاونت کا یقین دلایا جس کے تحت روڈمیپ کے اطلاق کو بطریقِ احسن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن مسائل کی نشاندہی ہوئی ہے انہیں متعلقہ اداروں کی جانب سے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہے اور یہ کہ اس کمیٹی کی اگلی نشست میں ان مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے جے ایس ایس پی ٹیم اور ڈیلیوری یونٹ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ روابط کو قائم کیا اور انہیں تکنیکی معاونت فراہم کی جس میں بالخصوص تفتیش اور قانون پیروکار ی سے متعلق معیارات کا تعین، قواعد اور ہدایات کا تشکیل دینا شامل ہے۔انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا نے کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے روڈمیپ کی روشنی میں ہونے والی پولیس کی اصلاحات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیشی معیارات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مطلوبہ وسائل کے لئے بجٹ سفارشات تیار کی گئی ہیں۔ ان کے تحت سنگین جرائم کی تفتیش کو پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ کم سے کم وقت میں مکمل کرنا ممکن ہوگا جس سے بریت میں اضافے کے رجحان میں کمی لائی جاسکے۔سیکرٹری محکمہ داخلہ اکرام اللہ خان نے کمیٹی ممبران کو روڈمیپ کی تیاری سے لے کر اس کے اطلاق کے لئے کئے گئے اقدامات اور اس سے متعلق گورننس کمیٹیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل کی نگرانی کے لئے جامع نظام وضع کیا گیا ہے جس کو چلانے کے لئے ڈیلیوری یونٹ تشکیل دیا جاچکا ہے۔ ان انتظامات کے زریعے کمیٹی کو درکار معلومات دستیاب ہوں گی جس کی روشنی میں فیصلہ سازی کے عمل کو تقویت ملے گی۔روڈمیپ کے حوالے سے متعین کردہ اشاریوں پر موجودہ صورتحال کے تجزیے پر بحث کے دوران ممبران نے سنگین جرائم میں بریت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پولیس اور پراسیکیوشن اس حوالے سے تفصیلی مواد کرکے حقائق کو اجاگر کریں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شکیل قادر نے روڈمیپ کے حوالے سے اب تک کئے گئے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو ہرممکن معاونت اور سہولت کاری کی یقین دہانی کرائی تاکہ قانونی اصلاحات اور انصاف کی فراہمی میں بہتری کو یقینی بنایا جاسکے۔اس موقع پر،سیکرٹری لا ڈیپارٹمنٹ، تاج سلطان، ایڈیشنل آئی جی جیل خانہ جات، معلم جان، ڈائریکٹر ریکلیمشن اینڈ پروبیشن اور شفیع اللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر پراسیکیوشن، نے اپنے خیالات اور روڈمیپ سے متعلق کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر