کراچی، حادثات کے باوجود چھوٹے پلاٹوں پر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر جاری

کراچی، حادثات کے باوجود چھوٹے پلاٹوں پر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر جاری

  



کراچی (رپورٹ/ندیم آرائیں)کراچی میں غیرقانونی طور پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے زمین بوس ہونے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بے حس حکام کے کانوں میں جوں نہیں رینگی۔گزشتہ روز گلبہار کے علاقے میں 40 گز کے تین پلاٹوں گلبہار،ناظم آباد،لیاقت آباد،دہلی کالونی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں بلڈرز کو چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر زیر تعمیر عمارتوں کو جلد از جلد مکمل کرکے لوگوں کو قبضہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے حکام کے خلاف سخت ترین کارروائی کی اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول ا تھارٹی کے راشی افسران کی وجہ سے کراچی میں ہزاروں شہریوں کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران شہر میں عمارتیں زمین بوس ہونے کے 4سے زائد واقعات ہونے کے باوجود مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے اور بلڈرز کو ایس بی سی اے حکام,پولیس، کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق گلبہار کے علاقے میں جہاں ایک روز قبل ہی بڑا سانحہ واقعہ ہوا ہے وہاں اس وقت بھی کئی عمارتوں پر تعمیراتی کام جاری ہے اور چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔اسی طرح لیاقت آباد،ناظم آباد،دہلی کالونی،گلبرگ، اورنگی ٹاؤن، عزیز آباد، شریف آباد،صدر،لیاری،سرجانی،اورشہر کے دیگر علاقوں میں گلبہار سانحے کے بعد تعمیراتی کام میں تیزی آگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے کے افسران کی جانب سے بلڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ گلبہار کے واقعہ کے بعد ان پر سخت دباؤ ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان بھی غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے نوٹس لے چکی ہے اس لیے تعمیراتی کام کو جلد از جلد مکمل کرکے الاٹیز کو قبضہ دے دیا جائے جس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ طاقتور بلڈر مافیا نے گلبرگ، دستگیر اور عزیزآباد کے علاقوں میں بغیر پلان پاس کرائے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا۔مافیا کو بعض سیاسی عناصراور علاقہ پولیس کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد)کو بھی غیر قانونی تعمیرات پر تحفظات ہیں اور وہ شہر میں چھوٹی جگہوں پر کئی منزلہ عمارتوں کے قیام کو آبادی کیلئے خطرے کی علامت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب گلبہار کے علاقے میں منہدم ہونے والی عمارت میں زخمی ہونے والے شخص نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری فیملی کے9افراد اس واقعہ میں شہید ہوگئے ہیں،ان کی شہادت کی ذمہ دار ایس بی سی اے ڈی جی،ان کے ماتحت افسران،بلڈرز اور علاقہ پولیس ہے،متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ جاوید نامی بلڈر مذکورہ عمارت پر چھٹی منزل بنارہا تھا جس پر ہم نے اسے منع بھی کیا تھا مگر اس نے ہماری نہیں مانی اور ہمارے ساتھ یہ سانحہ ہوگیا،اس نے مزید کہا کہ میں میڈیا کے توسط سے وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ ڈی جی ایس بی سی اے سمیت اس واقعہ میں جو بھی ملوث ہے اسے پھانسی دی جائے،متاثرہ شخص نے جب اس واقعہ میں ملوث افرد کے نام بتانے شروع کیے تو نامعلوم افراد نے اسے بات کرنے سے روک دیا اور میڈیا کے نمائندوں کو دھمیاں دینا شروع کردی کہ آپ اس کی کوریج نہیں کرو ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے،ادھر علاقہ مکینوں نے ایس بی سی اے اور پولیس کے خلاگ احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بلڈر مافیا نے پورے علاقے کو برباد کردیا ہے،عثمانیہ سوسائٹی،جہانگیر آباد،گولیمار میں غیر قانونی عمارتوں کی بھرمار ہے،ان غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر ایس بی سی اے اور پولیس کی ملی بھگت سے کی جارہی ہے،جن ہم بلڈر کو بھگاتے ہیں تو پولیس ان کی سرپرستی کرنے کے لیے آجاتی ہے اور ہمیں دھمکاتی ہے، دوسری جانب شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے حکام کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر