میرا جسم میری مرضی کی آڑ میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے، مولانافضل علی حقانی

میرا جسم میری مرضی کی آڑ میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے، مولانافضل علی حقانی

  



صوابی (بیورورپورٹ)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب اور ضلعی امیر صوابی مولانا فضل علی حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک سازش کے تحت فحاشی اور غریانی پھیلا ئی جارہی ہے اور اس میں ملوث لوگ ایک فیصد سے بھی کم ہے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میرا جسم میری مرضی کے آڑ میں فحاشی پھیلانا آئین پاکستان اور نظریہ کی سراسر خلاف ورزی ہے اداروں کو اس کے خلاف فوری ایکشن لینا چاہئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نظریہ اسلام کے نام پر بنا ہوا ملک ہے یہاں غیر شرعی اقدامات فحاشی اور غریانی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں یہ قر آن و سنت کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں قانون کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہئے اور اس قسم کے غیر شرعی اور فحاشی وغریانی پھیلانے کا تدارک کیا جائے کیونکہ یہ ملک و قوم کے نقصان کا سبب بنے گا پاکستان میں مغربی ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے جو ایک خطر ناک ایجنڈا ہے جس کے تحت مسلمانوں کے اقدار طور طریقے اور معاشرے کو انارکی کی طرف لے جارہا ہے۔ پاکستان میں سارے لوگ مسلمان ہے یہ چند فحاش زدہ عورتوں کا نہیں یہ ایک فیصد لوگ اسلامی شعائر، نظریہ پاکستان، نظریہ اسلام اور آئین پاکستان کا مذاق اُڑا رہی ہے۔دریں اثناء دارالعلوم مظہر العلوم ڈاگئی کے اساتذہ شیخ الحدیث مولانا روح الا مین ترکئی، شیخ القر آن مولانا اسد اللہ مظہری اور مولانا محمد ہارون حنفی نے خواتین کے نام پر بے حیائی مارچ کی پُر زور مذمت کی اور کہا کہ مسلمان کسی صورت ملک میں فحاشی و غریانی پھیلانے اور نوجوان نسل کے اخلاق کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے جمعہ کے خطبات میں آئمہ کرام نے خواتین کے نام پر مارچ کے حوالے سے اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ دین اسلام ایک جامع دین ہے اس میں بے حیائی، فحاشی اور غریانی کی اجازت نہیں ہے پاکستان میں ہم سارے مسلمان ہے یہ سب کچھ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کیا جارہا ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناطے کوئی بھی اس ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونگے پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہوا ملک ہے یہاں قر آن و سنت کے منافی کسی قسم کے اقدام کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔علماء کرام اس قسم کے گھناونے حرکات کے خلاف اپنا بھر پور کر دار ادا کرینگے اور مسلمان قوم کو اس قسم کے گناہوں سے بچانے کے لئے اپنا کر دار ادا کر تے رہیں گے۔علماء کرام نے کہا کہ میرا جسم میری مرضی فحاشی ہے پاکستان کی آئین، قانون اور تہذیب اس کی اجازت نہیں دیتایہ نعرہ صرف ایک فیصد طبقے کا ہے عورت مارچ باہر کا ایجنڈا ہے عورت مارچ کرنے والے کونسا حق مانگ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ جائیداد، وراثت اور معاش میں اسلام نے عورت کو حصہ دیا ہے ایک فیصد لوگ زمانہ جہالت کی طرف ملک کو لے جارہے ہیں۔اسلام میں اس قسم کے مارچ کا کوئی جواز نہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر