پاکستان کی گورننس کا ماڈل ناکام ہو چکا ہے: شاہد خاقان عباسی

پاکستان کی گورننس کا ماڈل ناکام ہو چکا ہے: شاہد خاقان عباسی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی گورنس کا ماڈل ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان کو فری اینڈ فئیر الیکشن دیں اور عوام کو اپنا حق استعمال کرنے دیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین ڈائیلاگ بند ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ لاپتہ کارکنان کی بازیابی کے لئے نون لیگ سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ بلوچستان کی طرح کراچی کے لیے بھی معافی کا اعلان ہونا چاہئے۔ جمعہ کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی سر براہی میں مسلم لیگ ن کے وفد نے ایم کیو ایم تنظم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی ن لیگ کے وفد میں ن لیگ کے مرکزی جنرل سیکریٹری احسن اقبال، مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔بعدازا مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہباز شریف کی ہدایت پر فاروق ستار سے ملنے آئے ہیں۔ کراچی ترقی نہیں کرے گا تو ملک ترقی نہیں کرے گا۔ ہم نے کراچی میں بہت سے منصوبے مکمل کئے۔ یہ سلسلہ بدقسمتی سے اب رک گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی گورنس کا ماڈل ناکام ہو چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین ڈائیلاگ بند ہیں۔ مسائل بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کو فری اینڈ فئیر الیکشن دیں اور عوام کو اپنا حق استعمال کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھیں گے، ماضی میں ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں۔ رضویہ سانحے پر تعزیرت کے لئے جانا چاہتے تھے مگر ریسکیو کا عمل جاری ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ فاروق ستار کے بزرگوں کی جماعت ہے انہیں شمولیت کے لئے کسی دعوت کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے وفد کو یہاں آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہم ایک دوسرے کو تیس برسوں سے جانتے ہیں۔ ہم نے پالیمان میں ایک ساتھ کام کیا۔اپوزیشن میں بھی ساتھ رہے۔ ہم نے آج نون لیگ سے بہت سے شکوے بھی کئیانہوں نے کہا کہ ملک اس وقت سیاسی رسہ کشی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ مہنگائی آسمان پر ہے عام پاکستانی دیوار میں چن دیا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ قومی ایجنڈا وضع ہو جس میں معیشت پر فوکس کیا جائے۔سرمایہ کاری رک گئی ہے، لاکھوں لوگ بیروزگار اور بے گھر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو گزشتہ بارہ سال سے پانی کا ایک قطرہ فراہم نہیں گیا۔ پانی کو بحران لسانی فسادات کو جنم دے سکتا ہے جس کو سنبھالنا آسان نا ہوگا۔ ہمیں اب خیرات نہیں چاہئے۔ کراچی کو سالانہ تین سو ارب ملنا چاہئے۔ کراچی کی معاشی اہمیت کو نزر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دیہی ترقی کی لئے بھی مراعات دی جانی چاہئے۔ سندھ اور پنجاب کے دیگر شہر بھی ہمارا معاشی انجن ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ مسلم لیگ نون کے دور میں مہنگائی قابو میں تھی، لوگوں کے پاس روزگار بھی تھا۔ بے روزگاری کے باعث کراچی سمیت دیگر علاقوں میں جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔حکومت کی زمہداری ہے کہ اپوزیشن کو اسپیس دے۔حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر قومی ایجنڈا وضع کرے۔ لاپتہ کارکنان کی بازیابی کے لئے نون لیگ سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ بلوچستان کی طرح کراچی کے لیے بھی معافی کا اعلان ہونا چاہئے۔ بہت لالی پاپ ہوگئے اب لولی پاپ سے آگے بات ہونی چاہئے۔ احسن اقبال اور شاہد خاقان میرے بزرگ ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر