دلی میں فسادات منظم سازش،دوہزار لوگ باہر سے بلائے گئے

دلی میں فسادات منظم سازش،دوہزار لوگ باہر سے بلائے گئے

  



نئی دہلی (اے پی پی) دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے مطابق دہلی فساد منظم سازش کا نتیجہ تھے جس کے لیے باہر سے لوگوں کو بلایا گیا۔امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے شمال مشرقی دہلی کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد دہلی اقلیتی کمیشن کے وفد نے بتایا کہ 2 دن تک فسادیوں کو من مانی کرنے کی پوری آزادی حاصل رہی۔یہ فساد یکطرفہ تھا اور منظم سازش کے تحت اسے ہوا دی گئی، مقامی ہندوؤں نے مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد بلوائیوں نے چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو ہدف بنایا، یہ سب کچھ مقامی افراد کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ2000 لوگ باہر سے بلائے گے جنہوں نے مسلمان اکثریت والے علاقوں میں تباہی مچائی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 49 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن ابھی بھی بہت سی لاشیں ہسپتالوں میں پڑی ہیں۔

بہت سے لوگ لاپتا بھی واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دہلی فساد کا معاملہ زیرِ بحث لانے کی کوشش کی گئی۔ لوک سبھا میں کانگریس کے اراکین نے شور مچایا جس کے بعد سپیکر نے کانگریس کے 7 اراکین کا ایک ہفتے تک لوک سبھا میں داخلہ بند کر دیا۔ کانگریس نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

مزید : علاقائی