کرونا،پنجاب حکومت کے مثالی اقدامات

کرونا،پنجاب حکومت کے مثالی اقدامات
 کرونا،پنجاب حکومت کے مثالی اقدامات

  



انسان نے جب بھی قوانین فطرت سے بغاوت کی تباہی،بربادی، ہلاکت اس کے حصہ میں آئی،آج دنیا کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی سے دوچار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چین کے صوبہ ووہان میں نمودار ہونے والا یہ وائرس چین کے تین صوبوں کے ساتھ ایران، افغانستان، کوریا، جاپان، نیپال، بھارت، سری لنکا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ملائیشیا، اٹلی، سنگا پور، انڈونیشیا، امریکہ سمیت 70 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ تا دم تحریر اس وائرس کے باعث دنیا بھر میں تین ہزار چار سو دو ہلاکتیں ہو چکی ہیں ننانوے ہزار چھ سو افراد وائرس سے متاثرہ ہیں پاکستان میں اب تک پانچ مریضوں میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، یہ موذی مرض بھی وبائی ہے جو ناک، منہ کے ذریعے خشک حلق سے پھیپھڑوں میں منتقل ہوتا ہے اور نظام تنفس پر غلبہ حاصل کر کے اسے برباد کر دیتا ہے۔ بدقسمتی سے اس مرض کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا لہٰذا اب بچاؤ صرف حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد، احتیاط اور حفاظتی تدابیر سے ہی ممکن ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں وفاقی اور پنجاب میں صوبائی حکومت اس حوالے سے خاصی متحرک اور فعال ہے۔ پاکستان میں یہ وائرس ایران اور افغانستان سے آنے والے شہریوں کے ذریعے درآمد ہوا، لہٰذا یہ وائرس بلوچستان، ایران اور افغانستان خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں تک محدود ہے۔ ایران سے زیارت کر کے آنے والے کراچی کے تین افراد بھی اس سے متاثر ہیں باقی ملک میں راوی چین لکھتا ہے۔ پنجاب میں اب تک اللہ کے کرم سے کسی مریض میں وائرس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور اس کی وجہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکرٹری اعظم سلیما ن خان، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور سیکرٹری صحت کیپٹن عثمان کی جانب سے قبل از وقت کئے گئے احتیاطی اور حفاظتی انتظامات ہیں۔

قرآن پاک میں فرمان رب العالمین ہے ہم نے کوئی چیز بے فائدہ، بے حکمت پیدا نہیں کی، اس فرمان کی رْو سے ہر مخلوق کی تخلیق کے پس پردہ کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہے، چمگادڑ کو بھی کسی حکمت کے تحت ہی تخلیق کیا گیا ہو گا جس سے ا?ج کا انسان واقف نہیں اور چمگادڑمیں کورونا وائرس بھی رب ذوالجلال نے کسی حکمت کے تحت ہی رکھ چھوڑا ہو گا، چمگادڑ کی تخلیق کب ہوئی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر یہ یقینی ہے کہ کرونا کا جنم چمگادڑ کے ساتھ ہی ہوا، چمگادڑ کی کئی نسلیں انسانی آبادی میں عرصہ سے سکونت رکھتی ہیں مگر کورونا اپنی طے کردہ فطری حدود تک محدود رہا مگر جب انسان نے چمگادڑ کا سوپ پینا شروع کیا تو یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہونا شروع ہو گیا اور آج یہ آسمانی عذاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

وفاقی حکومت ڈاکٹر ظفر مرزا کی سربراہی میں وزیراعظم عمران خان کی ہدائت پر اس حوالے سے انتہائی اہم اقدامات بروئے کار لائی، جس کے نتیجے میں یہ وائرس اب تک سرحدی علاقوں تک محدود ہے، بیرون ملک خاص طور پر چین اور متاثرہ ممالک سے آنے والوں کی سکریننگ اور مشتبہ افراد کو آئیسولیشن میں رکھنے کا اقدام بہت کارآمد ثابت ہوا، مگر پنجاب حکومت نے ہر بڑے سرکاری ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ مختص کئے، خصوصی طور پر تین بڑے ہسپتا ل اہم رکھے گئے۔ حفاظتی سرجیکل آلات اور ساز و سامان کی خریداری کیلئے بھاری فنڈز فوری فراہم کئے، تمام ایئرپورٹس پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کا اہتمام کیا، آگہی مہم کے ذریعے حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کو عوام تک پہنچایا۔

طبی ماہرین کے مطابق کورونا بنیادی طور پر وبائی مرض ہے جو متاثرہ شخص کے سانس، ہاتھ ملانے، جھوٹا کھانے پینے سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے، لہٰذا عوام کو نزلہ، کھانسی، زکام کے مریض سے فاصلہ رکھنے، مریض کو ماسک پہننے، ہاتھ نہ ملانے اور ایک دوسرے کا چھوڑا کھانے پینے سے روکا گیا، احتیاطی تدبیر کے طور پر سرکاری ملازمین کو بائیو میٹرک حاضری لگانے سے بھی روک دیا، صحت کے دونوں سیکرٹریز نے تمام بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور عملہ کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدائت کر دی۔ ان اقدامات کی وجہ سے اللہ پاک کا شکر ہے کہ پنجاب اس قدرتی آفت کی ہلاکت سے اب تک محفوظ ہے اس پر پنجاب کے وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری، سیکرٹری صحت، وزیر صحت کی ستائش نہ کرنا قلمی بخیلی ہو گی، وفاقی حکومت نے بھی سخت دباؤ کے باوجود چین میں موجود پاکستانیوں خاص طور پر ووہان میں زیر تعلیم طالب علموں اور ملازمت پیشہ افراد کو وطن واپس آنے سے روک رکھا ہے اس احتیاطی تدبیر کی وجہ سے بھی وائرس کو تیزی سے پھیلنے کا موقع نہیں مل سکا لیکن یہ تمام اقدامات اب بھی ناکافی ہیں، ضروری ہے کہ چین، ایران، افغانستان سمیت متاثرہ ممالک سے آنے والوں کی سکریننگ کے بعد انہیں آئیسولیشن میں ہی رکھا جائے اور جب یقین ہو جائے کہ آنے والے کرونا وائرس سے محفوظ ہیں تب انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے، مرض کی تشخیص کے لئے 14 روز تک نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔

انتہائی افسوسناک بات ہے کہ منافع خور مافیا نے خوفناک بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ماسک کی قیمت کئی سو گنا بڑھا دی جبکہ مہذب ممالک میں ایسی کسی آسمانی گرفت پر تاجر برادری انسانی ہمدردی میں حفاظتی آلات و ادویات سستی کر دیتے ہیں ضرورت ہے حفاظتی ماسک کو بھاری تعداد میں مارکیٹ میں فراہم کر کے ہر شہری کی سستی اور آسان رسائی یقینی بنائی جائے۔

شہری بھی تمام ذمہ داری حکومت پر ڈالنے کے بجائے اپنے طور پر حفاظتی اقدامات اختیار کریں جس کے تحت گھر سے باہر خاص طور پر غیر محتاط گندے ہوٹلوں میں کھانے پینے سے گریز کریں، ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے میں احتیاط برتیں، نزلہ، زکام، کھانسی کے مریض رضا کارانہ خود کو الگ کر لیں ماسک کا استعمال کریں اور فوری طور پر ٹیسٹ کرائیں، ایک دوسرے کا چھوڑا کھانا اور پانی نہ کھائیں پئیں، ٹیشو کے استعمال سے گریز کیا جائے کہ بعض طبی ماہرین کے نزدیک ٹیشو پیپر بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں معاون ہے، حکومت بھی فضائی، زمینی، پانی کی آلودگی کو کم سے کم سطح پر لانے کے لئے اقدام کرے، آلودگی خطرناک حد تک پھیل کر اپنے پنجے گاڑ چکی ہے یہاں تک کہ اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو چکا ہے، فضائی آلودگی تو صرف گلے، پھیپھڑے کو متاثرکرتی ہے مگر آلودہ پانی انسانی جسم کے سارے نظام کو ہی بگاڑ کر رکھ دیتا ہے خاص طور پر جگر، گردہ اور دل اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، آوارہ کتے بھی متعدد موذی امراض کا باعث بن رہے ہیں، شہریوں کو کاٹ لینا تو چھوٹی سی بات ہے جس کی ویکسین بھی دستیاب ہے اور علاج بھی لیکن یہ کتے جب نہروں اور دریاؤں میں جاتے ہیں تو کئی قسم کے وائرس ان میں چھوڑتے ہیں جو انسانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں، انتہائی صروری ہے کہ شہریوں کے لئے عذاب بننے والی ہر مشتبہ چیز کا سدباب آفت آنے سے پہلے کر لیا جائے۔حرف آخر کہ اس سلسلے میں آگاہی مہم کو بڑہایا جائے گو پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں بہت اچھا کام کیا ہے اور خود وزیر اعلیٰ نے اس پر اپنا پیغام ریکارڈ کرایا ہے جس سے محسوس ہو رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور انکی حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم