حکومت  کی طرف سے لگائی  گئی  وہ پابندی  جس کی خلاف ورزی  عمران خان خود کرتے ہیں

حکومت  کی طرف سے لگائی  گئی  وہ پابندی  جس کی خلاف ورزی  عمران خان خود کرتے ...
حکومت  کی طرف سے لگائی  گئی  وہ پابندی  جس کی خلاف ورزی  عمران خان خود کرتے ہیں

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت پاکستان نے بھارت کیساتھ کشیدگی کے بعد  انڈین   فلموں کی نمائش  پرپابندی لگائی تھی جس  کی خلاف ورزی خودوزیراعظم عمران خان بھی کرتے ہیں  اوراپنی صاف گوئی کی وجہ سے بتابھی دیتے  ہیں۔

روزنامہ جنگ میں حامدمیرنے لکھا کہ "   عمران خان کی حکومت نے 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کے بعد پاکستان میں بھارتی فلموں پر پابندی لگا دی تھی,دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان خود ہی اپنی حکومت کی طرف سے لگائی گئی اس پابندی کی اکثر خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں اور صاف گو اتنے ہیں کہ بھرے مجمعے کو بتا دیتے ہیں کہ وہ اپنے گھر پر بھارتی فلمیں دیکھتے ہیں۔

پچھلے دنوں 27فروری کو حکومت پاکستان نے یومِ عزم منایا کیونکہ اُس دن پاکستان ایئر فورس نے بھارتی ایئر فورس کا طیارہ مار گرایا تھا اور پیرا شوٹ سے چھلانگ لگانے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔یومِ عزم کی اس تقریب میں عمران خان نے بتایا کہ پچھلے دنوں انہوں نے ایک بھارتی فلم ’’پانی پت‘‘ دیکھی جس میں افغان حکمران احمد شاہ ابدالی کی کردار کشی کی گئی۔

عمران خان نے بتایا کہ پانی پت کی تیسری جنگ میں ابدالی نے مرہٹا فوج کو شکست دے دی تھی لیکن بھارتی فلم میں یہ دکھایا گیا کہ یہ جنگ مرہٹوں نے جیت لی۔ عمران خان کی تقریر سنتے ہوئے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ نیٹ فلیکس پر یہ فلم دیکھ کر صرف میں نے بھارتی فلموں پر پابندی کو نہیں توڑا بلکہ وزیراعظم صاحب بھی پیچھے نہیں رہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس بھارتی فلم میں تاریخ کو اتنا زیادہ مسخ کیا گیا کہ انہوں نے یہ فلم ہی بند کر دی۔ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ فلم آخر تک دیکھنا واقعی مشکل ہے کیونکہ اس فلم میں کہیں شاہ ولی اللّٰہ دہلوی کا ذکر نہیں جن کے بلاوے پر احمد شاہ ابدالی نے دہلی پر حملہ کیا تھا تاکہ مسلمانوں کو مرہٹوں کے ظلم سے بچایا جائے۔

تاہم فلم میں مرہٹا فوج کے توپخانے کے کمانڈر ابراہیم خان گاردی کا کردار موجود ہے جس نے مرہٹا فوج کے ساتھ مل کر ابدالی کی افغان فوج کا مقابلہ کیا اور آخر میں ایک لاکھ مرہٹا فوجیوں کے ساتھ مارا گیا لیکن فلم میں اس کی موت میدانِ جنگ میں دکھائی گئی حالانکہ وہ میدانِ جنگ میں نہیں مرا تھا بلکہ اسے گرفتار کرکے ابدالی کے سامنے پیش کیا اور کہا گیا کہ اگر وہ افغان فوج میں شامل ہو جائے تو اسے معاف کر دیا جائے گا لیکن اس نے انکار کر دیا جس کے بعد وہ قتل کر دیا گیا۔

فلم ’’پانی پت‘‘ کا ڈائریکٹر ابراہیم خان گاردی کی مرہٹا فوج کے ساتھ وفاداری کو جان بوجھ کر چھپا گیا کیونکہ آج کل مودی کو خوش کرنے کیلئے مسلمانوں کو غدار کہا جاتا ہے لیکن اس فلم میں احمد شاہ ابدالی کو ایک ظالم، مکار اور سازشی انسان قرار دیکر ہمارے وزیراعظم عمران خان کو سخت ناراض کر دیا گیا۔

احمد شاہ ابدالی آج کے افغانستان کے بانی ہیں۔ 1761میں پانی پت کی تیسری جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ واپس قندھار لوٹ گئے۔ اگر وہ آگے بڑھتے تو شاید ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کا موقع نہ ملتا۔ جب برطانوی فوج نے ہندوستان میں سازشیں شروع کیں تو میسور کے حکمران ٹیپو سلطان نے ابدالی کے بیٹے شاہ زمان سے رابطہ کیا۔

ٹیپو نے شاہ زمان اور فرانس کے حکمران نپولین کے ساتھ مل کر انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن انگریزوں نے شاہ زمان کے بھائی محمود خان کو استعمال کیا اور اس نے بھائی کے خلاف بغاوت کر دی یوں شاہ زمان اپنی حکومت بچانے کیلئے ہندوستان سے واپس چلا گیا۔

اگر محمود خان اپنے بھائی سے غداری نہ کرتا تو شاید انگریز اس خطے پر قبضہ نہ کر سکتے۔ بہرحال احمد شاہ ابدالی کو افغان اپنا بابائے قوم اور بہت سے پاکستانی اپنا محسن سمجھتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ صحافی مختار حسن مرحوم نے تو اپنی کتاب ’’افغانستان‘‘ میں احمد شاہ ابدالی کو تحریکِ پاکستان کا قائدِ اول قرار دیا کیونکہ انہوں نے قلات کے حکمران میر نصیر خان نوری کے ساتھ مل کر پانی پت میں مرہٹوں کی کمر توڑی تھی لیکن کچھ لوگ ابدالی کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں جو وہ افغان طالبان کے بارے میں رکھتے ہیں"۔

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس